کورونا وائرس سے بچنے کے لئے بلوچستان میں کرفیو لگانے کی تجویز

  • جمعہ 08 / مئ / 2020
  • 4110

پاکستان میں ایک روز کے دوران کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 1764 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس دوران ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔  پاکستان مین اس وقت کورونا متاثرین کی تعداد 26806 اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 611 ہوچکی ہے۔

اس دوران ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان سلیم ابڑو نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد نہ ہوا تو تین جولائی تک تین لاکھ اور اگر صورتِ حال برقرار رہی تو 11 جولائی تک بلوچستان کے 11 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہو جائیں گے۔ کوئٹہ میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ  نے بتایا کہ کورونا سے اب تک صوبے میں 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر افراد کورونا کے علاوہ دوسرے امراض میں بھی مبتلا تھے۔

انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ بلوچستان میں 15 سے 20 دن کے لیے کرفیو لگا دیا جائے۔ کیوں کہ وائرس کے مقامی سطح پر منتقلی کے کیس بڑھ رہے ہیں۔ اُنہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ 11جولائی تک صوبے میں 11 لاکھ اور دسمبر تک صوبے کے 95 لاکھ افراد کرونا سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ سلیم ابڑو نے بتایا کہ بلوچستان کے 73 ڈاکٹرز کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک سینئر ڈاکٹر وینٹی لیٹر پر ہیں۔ سلیم ابڑو کے بقول علما کا کردار بھی زیادہ بہتر نہیں ہے وہ تعاون نہیں کر تے۔ جمعے اور تروایح کے اجتماعات میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے یا نرمی کے حوالے سے وفاق کے فیصلوں کے پابند نہیں ہیں۔ اُن کے بقول صوبہ بلوچستان لاک ڈاؤن ختم کرنے یا اس میں نرمی کا متحمل نہیں ہے۔ کیوں کہ محکمہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اگر تاجروں نے حکومت سے تعاون نہ کیا اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اگر دکانداروں نے زبردستی دکانیں کھولنے کی کوشش کی تو حکومت کو کرفیو لگانا پڑے گا۔

وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی کے  فیصلوں پر عمل درآمد کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن پیر سے ہٹا دیں گے۔ کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بڑی مارکیٹس بند رکھنے کا فیصلہ ہمارا نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا ہے۔ دیہی علاقوں میں چھوٹی دکانیں کھولی جا سکیں گی۔

وزیر اعلٰی سندھ نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کے احساس پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں افراد کو ایک جگہ جمع کر کے پیسے دینے کا طریقہ غلط تھا