کورونا وائرس: سندھ میں ایک ہی روز میں 1080 نئے کیس، لاک ڈاؤن نرم کرنے پر ڈاکٹروں کا انتباہ

  • ہفتہ 09 / مئ / 2020
  • 4570

پاکستان میں مسلسل دوسرے روز 1600 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستان کورونا سے متاثرہ 21 واں بڑا ملک بن گیا ہے۔ وزیر اعلٰی سندھ کا کہنا ہے کہ صوبے میں 24 گھنٹوں کے دوران 1080 کیس رپورٹ ہوئے۔

پاکستان میں اس وقت کورونا متاثرین کی تعداد 28587 اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 723 ہوچکی ہے۔ دنیا بھر میں 39 لاکھ 55 ہزار لوگ اس وقت کورونا سے متاثر ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں کام کر نے والے دو درجن سے زائد صحافی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد دو نیوز چینل کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں۔ بلوچستان یونین اف جرنلٹس کے صوبائی جنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ صحافی بھی ڈاکٹروں کی طرح فرنٹ لائن پر کام کر تے ہیں۔ لہذا وہ بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔  اُن کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والے صحافی نے اپنے گھروں میں آئسولیشن اختیار کر لی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کرے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے عہدے داروں نے کہا کہ کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن حکومت لاک ڈاؤن نرم کر رہی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والے ملکوں کو خبردار کر رہا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جو لاک ڈاؤن پہلے نافذ تھا، ہمیں آُس پر بھی تحفظات تھے۔ جگہ جگہ رش اور لوگوں کی بھیٹر تھی۔ لاک ڈاؤن میں نرمی سے صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے میڈیا ورکرز کو بھی کورونا کے خلاف فرنٹ لائن ورکرز کا درجہ دیا ہے۔  وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی رپورٹنگ کے دوران متاثر ہونے والے میڈیا ورکر کو ایک لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ کورونا سے خدانخواستہ وفات کی صورت میں متاثرہ ورکر کے خاندان کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

وفات پانے والے میڈیا ورکر کی فیملی کو تاحیات 10 ہزار روپے ماہانہ پینشن کی صورت میں دیے جائیں گے۔ ریلیف پیکج حاصل کرنے کے لیے درخواستیں شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر) ہیڈ آفس میں جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ درخواست دہندہ کے شناختی کارڈ بمعہ آفس کارڈ کی کاپی، کرونا تشخیصی رپورٹ اور ادارے کی جانب سے لیٹر درکار ہو گا۔ درخواست دہندہ کا کورونا ٹیسٹ کسی سرکاری لیبارٹری سے ہونا ضروری ہے۔ فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ بزدار حکومت میڈیا ورکرز کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی۔