اقوام متحدہ: امریکا کا کورونا کے باعث جنگ بندی کی حمایت سے انکار
- ہفتہ 09 / مئ / 2020
- 4770
امریکا نے اقوام متحدہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں مسلح تنازعات میں جنگ بندی کے لئے ووٹ دینے سے انکار کیا ہے۔ سلامتی کونسل میں ووٹنگ سے پہلے امریکہ نے اس تجویز کی حمایت کا یقین دلایا تھا۔
اقوام متحدہ متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات میں جنگ بندی چاہتی ہے۔ سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ امریکا نے جمعہ کو ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ دینے کا وعدہ کرنے کے محض ایک روز بعد ہی اس کے برعکس فیصلہ کیا۔
امریکی وفد نے سلامتی کونسل کے دیگر 14 اراکین کو تقریباً دو ماہ میں سخت محنت کے بعد تیار کی گئی دستاویز سے متعلق مزید کوئی وضاحت دیے بغیر کہا کہ 'امریکا موجودہ ڈرافٹ کی حمایت نہیں کرسکتا'۔ امریکا کے اس فیصلے نے عالمی سطح پر امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین سلامتی کونسل میں کونسل میں ہونے والے ان تمام اقدامات کو روک دیتا ہے جن کو منظور ہونا چاہیے۔ امریکا نے ڈارفٹ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے متعلق استعمال کی گئی زبان کی وجہ سے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
دیگر ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا تھا کہ سلامتی کونسل ابتدائی طور پر تیار کی گئی قرار داد پیش کرے جس میں کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون میں شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمارے مطابق سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد جنگ بندی تک محدود رکھی چاہیے یا پھر ایک وسیع قرار داد پیش کی جائے جو کووڈ-19 کے حوالے سے رکن ممالک کے تعاون میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت کا احاطہ کرے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت پر چین کی جانب داری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تنازع زدہ علاقوں میں کشیدگی کو ختم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں حکومتوں کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے موقع فراہم کرنے کی خاطر انسانی بنیاد پر 90 روز تک جنگ بند کی جائے۔
قرار داد میں تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوروناوائرس کے خلاف باہمی رابطوں کو بڑھایا جائے اور بین الاقوامی اور علاقائی اداروں کو متاثرہ ممالک کی مدد پر بھی زور دیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں رکن ملک کے ایک سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا کا یہ فیصلہ اقوام متحدہ اور عالمی اتحاد کے لیے بہت ہی بری خبر ہے۔
خیال رہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 23 مارچ سے ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ رکن ممالک کو تنازع زدہ علاقوں میں کورونا وائرس کےباعث عارضی جنگ بندی کے لیے تیار کیا جائے۔ انتونیو گوتریس نے کورونا وائرس کے پیش نظر عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وقت مسلح تنازعات کو روکنے زندگیوں کو لاحق حقیقی خطرے سے لڑنے کا ہے۔