کووِڈ19: حکومت کو خلق خدا کیا کہتی ہے؟
- تحریر
- ہفتہ 09 / مئ / 2020
- 4790
بھلے وقتوں میں کبھی شاید ایک ہی طرح کا سچ ہوتا ہو گا مگر آجکل میڈیا اور سیاست کے نقارخانے میں ہر ایک کا اپنا اپنا سچ ہے۔ دور کیا جانا دو دن قبل ہی چوہدری برادران اپنے سچ کی دُہائی کے لئے عدالت میں دادکناں ہوئے کہ انیس سال پرانا، بند ہوا کیس اور وہ بھی ایک نامعلوم درخواست پر نیب دوبار ہ کھولنے کو ہے۔
دوسری جانب نیب کا سچ ریلیز ہوا کہ نامکمل انکوائریوں کو کب تک بند الماریوں میں سنبھالتے پھریں۔سرِ شام ٹاک شوز پر درجنوں سچ ٹی وی اسکرینوں پر چنگھاڑتے ہیں، عام آدمی پریشان ہوجاتا ہے کہ سچ کے اس میلے میں کونسا سچ اصلی ہے اور کونسا سچ برائے سچ ہی ہے۔ سوشل میڈیا پر تو سچ اس قدر ٹکے ٹوکری ہے کہ سچ پر ترس آنے لگتا ہے۔ سچ کے ساتھ یہ واردات صرف ہمارے ہاں ہی مخصوص نہیں بلکہ دنیا بھر میں بے شمار لوگ اپنے اپنے سچ پر جیتے ہیں اور دوسروں کا جینا دوبھر کرتے ہیں۔ کووِڈ 19 کی مثال لے لیجئے، صدر ٹرمپ کا چند ہفتے قبل تک اپنا سچ یہ تھا کہ کرونا وورنا کچھ بھی نہیں، امریکی عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اب جب کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ لوگ اور اموات امریکہ میں ہیں تو موصوف نے ایک اور سچ پیش کر دیا ہے کہ یہ وائرس چین کی ایک لیبارٹری سے بے قابو ہوکر نکلا، چین نے شروع شروع میں اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی مگر سچ بالآخر سامنے آگیا ہے۔
امریکہ میں صدر ٹرمپ ملک کو جلد از جلد کھولنے پر مصر ہیں۔ اس قدر زیادہ اموات کے باوجود امریکہ کی کئی ریاستوں میں عوام سڑکوں پر آگئے کہ سچ تو یہ کہ امریکہ رواں دواں رہنے کے لئے بنا ہے بند رہنے کے لئے نہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی ریاستوں کے گورنرز کو ہلا شیری دی ہے کہ ہمت کریں اور لاک ڈاؤن کا لاک توڑ دیں۔ رہی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تنبیہ کہ جلد بازی نہ کریں تو ٹرمپ پہلے ہی اسے ایک فلاپ ادارہ قرار دے کر اس کی فنانسنگ بند کر چکے کہ اگر اس ادارے سے کرونا کنٹرول نہیں ہوا تو ہم اس کے بغیر ہی بھلے۔
یورپ میں بھی بہت سے ممالک اب معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کو بحال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی پر خوب بحث جاری رہی۔ حکومت نے بالآخر یہی طے کیا کہ معاشی سرگرمیاں کچھ بندشوں اور ترتیب کے ساتھ بحال کر دی جائیں۔ حکومت نے اپنے تئیں حفاطتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات کی ہیں لیکن ہمارے ہاں ایک کثیر تعداد کا خیال ہے کہ کرونا سے ڈرنا کیسا، ڈرنا تو کرونا کو چاہئے۔ یہی وہ اعتماد ہے کہ عوامی جگہوں پر سماجی فاصلے کا اہتمام خال خال ہی ہے۔ حکومت کی مجبوری تھی کہ عوام کی ایک کثیر تعداد اپنے روزگار سے محروم ہو کر پریشان ہے، چھوٹے اور درمیانے کاروبار تباہ حال ہیں، مارکیٹس بھائیں بھائیں کر رہی ہیں، معیشت کا پہیہ جام ہو رہا ہے۔ حکومت کے محصولات میں تیزی سے کمی اپنی جگہ پریشان کن ہے۔ ایسے میں حکومت نے کووِڈ 19 سے نمٹنے کے لئے بارہ سو ارب روپے کا پیکیج دیا۔ ایک سو چالیس ارب روپے احساس پروگرام کے ذریعے معاشی متاثرین تک پہچانے کا سلسلہ شروع کیا لیکن اس کے باوجود میڈیا کی حد تک تاثر یہ ابھرتا ہے کہ حکومت صورتحال کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔
سائنسی بنیادوں پر تہہ میں اترکر امکانی سچ کی تلاش کرنے کی سائنس میں ایک میدان عوامی رائے جاننے کا ہے۔ میڈیا پر مچی ہاہاکار سے ہٹ کر دیکھتے ہیں کہ حکومت کے کووِڈ 19 کو کنٹرول کرنے پر خلقِ خدا کیا کہتی ہے۔ رائے عامہ جاننے میں مہارت رکھنے والے ایک معروف عالمی ادارے آئی پی ایس او ایس کی مقامی برانچ کے تازہ ترین سروے کے مطابق دس میں آٹھ لوگوں کا مارچ کی نسبت اپریل میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر اعتماد بڑھا ہے۔ چار میں سے ایک نے اپنے اڑوس پڑوس میں لوگوں کو خوراک کے لئے ضرورت مند پایا۔ ہر تین میں سے دو افراد خوراک کی دستیابی میں خودکفیل ہونے کے دعوے دار تھے جبکہ نو فی صد کو کسی نہ کسی ریلیف کی حاجت تھی۔ معاشی امکانات کے بارے ہر دو میں سے ایک فرد اگلے چھ ماہ میں بے روزگار ہونے کے اندیشے سے دوچار ہے۔ پچیس میں سے ایک فرد کے ساتھ ان کے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے رابطہ کیا جبکہ مقامی حکومتوں کے نمائندگان میں یہ شرح دوگنا رہی۔
ایک اور نامی گرامی ریسرچ ادارے گیلپ کے مطابق مارچ میں کئے گئے عوامی سروے کی نسبت اپریل میں حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرنے والوں کے تناسب میں بائیس فی صد کا اضافہ ہوا۔ سترہ ممالک میں ہونے والے اس سروے کے مطا بق کووِڈ 19 کو کنٹرول کرنے میں حکومتی کارکردگی پر اطمینان کرنے والوں کی فہرست میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ میڈیا اور اپوزیشن کی تنقید کے ہنگامے میں خلقِ خدا کے سچ کی گواہی یقیناحکومت کے اقدامات کی تائیدکا ثبوت ہے۔ IPSOS کے ایسے ہی ایک اور عالمی سروے کے مطابق چھبیس ہزار افراد کی رائے پر مبنی نتائج بھی بڑے دلچسپ ہیں۔ تیرہ میں سے نو ممالک میں مجموعی طور پر لوگ اپنی اپنی حکومت کی کووِڈ19 سے نمٹنے کی کارکردگی پر مطمئن پائے گئے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزئشن کے بارے میں تیرہ میں سے گیارہ ممالک کے لوگ مطمئن پائے گئے البتہ ایک ماہ قبل ہونے والے ایسے ہی ایک سروے کے مقابلے میں اظہارِ اطمینان میں واضح کمی دیکھی گئی۔ یہی وہ عرصہ ہے جب بیشتر ممالک میں کرونا وائرس مزید زور پکڑ گیا تھا۔
اسی ادارے کے تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان میں فروری کی نسبت کرونا کے بارے میں آگہی میں چوبیس فی صد اضافہ ہوا، اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر 56% لوگ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز پر تیار نہیں۔70% کا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن مکمل نہیں تھا بلکہ جزوی تھا، سندھ میں سب سے بہتر جبکہ کے پی میں اکثر کا خیال تھا کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں تھا۔ اس دوران سوشل میڈیا کی نسبت لوگوں کا خبروں کے ذرائع کے طور روایتی میڈیا پر اعتماد زیادہ دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر اپوزیشن اور تنقید کرنے والوں کی کثیر تعداد سے جو تاثرابھرتا ہے، خلق ِ خدا کی آواز اس سے بہت مختلف ہے۔ اس سے یہی نکتہ سامنے آتا ہے کہ مشکل حالات ہیں، مثالی ہر گز نہیں لیکن حکومت اس قدر بری بھی نہیں جس قدر تنقید کے نقارخانے میں سنائی دیتا ہے۔