بے مہار میڈیا، آزادی صحافت اور عالمی معیار

دنیا بھر میں ہر سال 3 مئی کو منایا جانے والا یومِ آزادی صحافت پاکستان میں اس بارایسے ماحول میں منایا گیا ہے کہ ملکی میڈیا اپنے ہی پیدا کردہ دباؤ تلے پڑا ہانپ رہا ہے۔ ایک طرف عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ باؤڈرز کی رپورٹ میں پاکستان دنیا کے 180 ممالک میں آزادی صحافت کے حوالے سے 145 ویں نمبرپر ہے اور اس کی یہ رینکنگ گزشتہ سال کی نسبت 3 درجے مزید تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں صحافت کو زیادہ پابند سلاسل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ٹائیکون میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کو 50 دن سے زائد ہوگئے ہیں اور ان کی گرفتاری کو ان کا میڈیا گروپ دنیا بھر میں آزادی صحافت پر پابندیوں کے دس بڑے واقعات میں سے ایک قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ میر شکیل الرحمن آزادی صحافت کے کسی تنازع میں نہیں بلکہ 54 کنال قیمتی اراضی کی مبینہ طور پر غیر قانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں گرفتار ہیں اور وہ خود ہائی کورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ وہ ایک بڑے بزنس مین ہیں اور کئی کاروباری کمپنیاں چلاتے ہیں۔

تیسری جانب اس میڈیا گروپ سمیت کئی صحافتی اداروں کے ہزاروں کارکنان اپنی چھانٹیوں، برطرفیوں اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے خلاف کئی ماہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ مختلف صحافتی اداروں میں باقی رہ جانے والے کارکن کورونا کے لاک ڈاؤن کے باوجود اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں تو ادا کر رہے ہیں لیکن انہیں بھی کئی کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ ساتھ ہی پاکستانی صحافی یہ احتجاج بھی کر رہے ہیں کہ جن صحافیوں کو صحافتی اداروں سے نکالا گیا ہے ان کے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے اور اس معاملے میں حکومت بھی اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔

چوتھی جانب یہ دن ایسے موقع پر منایا گیا ہے جب حکومت اپنی چرب زبان معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر ان کی جگہ پاک فوج کے سابق ترجمان اورآئی ایس پی آر کے سابق ڈئریکٹر جنرل ریٹائرڈ جنرل آصف سلیم باجوہ کو لا چکی ہے۔  جو ملکی سیاسی تاریخ میں اس عہدہ پر اس طرح کی تقرری کی پہلی مثال ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے کئی ماہ سے خالی وزیر اطلاعات کی اہم اسامی کو بھی سینیٹر شبلی فراز کے زریعے پُر کر دیا ہے۔ ان تقرریوں پر طرح طرح کی خیال آرائیاں تاحال جاری ہیں اور پانچویں جانب وزیراعظم کی کورونا فنڈز ریزنگ ٹیلی تھون میں ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل کی گفتگو کو ابتدا میں ٹی وی اینکرز نے فوراً ہی آڑے ہاتھوں لیا تھا مگر اب مولانا طارق جمیل کے حامی سوشل میڈیا پر ان اینکرز کے گندے پوتڑے جس انداز میں دھورہے ہیں، اس کا یہ اینکرز اس سے قبل تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔

روایتی میڈیا اس معاملے میں بدترین تفریق کا شکار ہے اور کئی چینلز اس معاملے کو اٹھانے والے اینکرز پر شدید تنقیدکر رہے ہیں۔ جب کہ سوشل میڈیا ایک مضبوط متبادل میڈیا بن کر ان اینکرز کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ نہ صرف ان اینکرز اور ان کے مالکان کے ماضی کے پول کھول رہا ہے بلکہ ان کے تضادات اور دوغلے طرز عمل کو بھی نمایاں کررہا ہے۔ چنانچہ ہر کسی کی پگڑی اچھالنے کی شہرت رکھنے والے یہ منہ زور اینکرز منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ اس معاملے میں سوشل میڈیا کی تنقید اس قدر جارحانہ ہے کہ ان اینکرز اور ان کے حامیوں کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ بعض حلقے اسے مولانا طارق جمیل کی مقبولیت سے تعبیر کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے عقیدت مندوں کے دلی جذبات کا اظہار ہے۔ جب کہ بعض حلقے اسے اینکرز کو دباؤ میں لاکر  میڈیا کے خلاف ایک منظم تحریک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طبقہ منہ زور اینکرز کو چاروں شانوں چت کرکے میڈیا کو کمزور کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے اپنے مقاصد ہیں۔

ان معاملات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ جس ملک کا میڈیا سچ ہی نہیں جھوٹ بولنے میں بھی مکمل طور پر آزاد ہے اور جس کے اینکرز اسی ا ٓزادی کے باعث دن رات لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں، عالمی رینکنگ میں اس کا نام اتنا نیچے کیسے ہے۔ اس میڈیا کے اینکرز خود اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا پر دس فیصد سے زائد سچ نہیں بولا جاتا اور یہ جھوٹ آزادی کے ساتھ بولا جا رہا ہے۔ اس میڈیا کی طاقت اور آزادی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم کی ٹیلی تھون کے فوری بعد اس میڈیا کے ایک حصے نے مولانا طارق جمیل کے خلاف مہم شروع کردی اور وزیراعظم اپنے مہمان کی عزت بچانے کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ یقیناً انہیں طارق جمیل صاحب پرکی جانے والی تنقید اور ان کے خلاف جاری مہم پر تکلیف ہوئی ہوگی لیکن وہ شاید اس بے مہار میڈیا  کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتے ہوں گے۔ جس کی طاقت اور آزادی کا یہ عالم ہے کہ خودوزیراعظم عمران خان انتخابات سے قبل جہاں اپنے دو سیاسی حریفوں نواز شریف اور آصف زرداری کے بارے میں بارہا کہتے تھے کہ ’تمہیں نہیں چھوڑوں گا وہیں وہ پاکستانی میڈیا ٹائیکون میر شکیل الرحمن کے لیے بھی یہ اعلان کرتے تھے کہ تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا‘۔ گویا وہ ان تین افراد کو اپنی سیاسی و صحافتی طاقت کے باعث خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے تھے اور شاید اب بھی سمجھتے ہوں۔

حال ہی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف جس طرح ایک ٹی وی انٹرویو میں اینکر کے سامنے باربارہاتھ جوڑ رہے تھے اس سے بھی میڈیا کی طاقت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ نیب کی پکڑ میں آنے والے تمام افراد کو بھی یہی شکایت ہے کہ تفتیش تو نیب نے کرنا ہوتی ہے اور فیصلہ عدالت نے دینا ہوتا ہے لیکن اس عمل سے قبل ہی میڈیا ٹرائل کے ذریعے ہمیں بری طرح ذلیل و رسوا کر دیا جاتا ہے۔ اور اس طاقتور میڈیا کے سامنے ہم بے بس ہوتے ہیں چاہے ہم بعد میں بری الذمہ بھی قرار پا جائیں مگر ہماری کردار کشی اتنی کر دی جاتی ہے کہ ہم معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہتے۔ اوریہ سب کچھ کرنے والے میڈیا کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ بلکہ وہ ”نئے شکاری“ کی کردار کشی میں لگ جاتا ہے۔

اس میڈیا کی آزادی کا یہ عالم ہے کہ جنگ اور جیو گروپ کے چیف ایگزیکٹیو میر شکیل الرحمن اربوں روپے مالیت کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے مقدمے میں گرفتار ہوئے تو اس اخبار کی لیڈ تھی ”آزادی صحافت پر حملہ……“ یہ میڈیا گروپ اوراس کا حامی دوسرا میڈیا مسلسل یہ مہم چلا رہا ہے کہ میر شکیل کی گرفتاری آزادی صحافت کا معاملہ ہے تاہم اس کے وہ اب تک کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کر رہا۔ اسی گروپ سے وابستہ صحافی اور کارکن مسلسل یہ دہائی دے رہے ہیں کہ یہ آزادی صحافت کا معاملہ نہیں ہے۔ لیکن یہ میڈیا ہاؤس اور اس کے حامی اپنے چھوٹے چھوٹے مظاہروں میں اپنے موقف کو مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں لیکن خلافِ واقعہ اس مہم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔

میڈیا کی طاقت اور آزادی کا یہ عالم بھی سب کے سامنے ہے کہ جنگ گروپ اور دیگر میڈیا ہاؤسز کے  کارکنان اور صحافی مسلسل احتجاج کر رہے ہیں کہ ان سے مسلسل کام لیے جانے کے باوجود تنخواہیں ادا نہیں کی جارہیں۔ تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتیاں کی جارہی ہیں۔ جن صحافیوں کو بے  روزگار کیا گیا ہے ان کے واجبات ادا نہیں کیے جا رہے ہیں لیکن اس ظلم کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ اس کے برعکس حکومت ان میڈیا مالکان کو حال ہی میں ساڑھے پانچ ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی بھی کرچکی ہے لیکن کارکنوں کو تاحال ادائیگیاں نہیں ہوسکیں اور حکومت بھی میڈیا ہاؤسز سے یہ کام کرانے میں ناکام رہی ہے۔ یہ حکومت کی مصلحت کوشی بھی ہو سکتی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ حکومت میڈیا کی طاقت سے خوفزدہ ہے۔  وہ اس طاقت ور گروہ پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے کہ یہ گروہ حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کر دے گا۔

حال ہی میں اس میڈیا نے مولانا طارق جمیل کو جس طرح معافی مانگنے پرمجبو کیا ہے، وہ اس میڈیا کی طاقت اور آزادی کی تازہ ترین مثال ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ پہلے طارق جمیل سے ایک جھوٹ منسوب کیا گیا کہ انہوں نے 22 کروڑ عوام کو جھوٹا، دھوکے باز اور بے حیا قرار دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ہرگز یہ بات نہیں کہی۔ یہ بات ریکارڈنگ سے دیکھی جاسکتی ہے لیکن فوراً ہی مولانا کے خلاف مہم شروع کر دی گئی۔ بدقسمتی سے مولانا نے بھی چند گھنٹوں بعد ہی کوئی وضاحت کرنے کے بجائے تمام اینکرز سے فرداً فرداً معافی مانگ لی جس سے یہ تاثر ابھرا کہ انہوں نے واقعی کوئی غلط بات کی تھی۔ کاش وہ اپنے سچ پر ڈٹ جاتے۔ لیکن شاید وہ بھی اس میڈیا سے خوف زدہ تھے۔ جو عالمی رینکنگ میں 145ویں نمبر پر ہے۔

 ان کی معافی سے دینی حلقوں کی دل آزاری ہوئی جس کے بعد ان اینکرز پر اتنی لعن طعن ہو رہی ہے کہ خود انہیں بھی سمجھ نہیں آرہی۔ بدقسمتی سے یہ لعن طعن کرنے والے لوگ بھی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ کاش مولانا طارق جمیل بے مہار اینکرز سے معافی مانگنے کے بجائے اپنے حامیوں کو اخلاق کا دامن تھامے رکھنے کا درس دیتے۔ اب مولانا کا ایک وڈیو کلپ آیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا میڈیا بہت ظالم ہے اور اسے حساب دینا پڑے گا۔ اتنے طاقتور، بے مہار، کسی قانونی یا اخلاقی ضابطے سے بے پروا اور ہر طرح کی آزادی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے پاکستانی میڈیا کے بارے میں ”رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز“ کی حالیہ رپورٹ حیرت انگیز ہے۔

حیرت ہوتی ہے کہ بے مہار آزادی رکھنے والا یہ میڈیا آزادی صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 145 ویں نمبر پر ہے شاید ان غیر ملکی اداروں کی آزادی صحافت کا معیار کوئی اور ہے۔