نواز شریف خاموشی توڑیں یا سیاست چھوڑیں
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 09 / مئ / 2020
- 9030
کورونا بحران سے پاکستانی شہریوں کو لاحق خطرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران سے نمٹنے کی کوشش کی بجائے سیاسی پارٹیوں کے درمیان دنگل جاری ہے۔ یوں تو یہ دنگل یک طرفہ ہے اور موجودہ حکومت اور اس کے پشت پناہوں نے اپوزیشن کی اہم سیاسی قیادت کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ اس میں سب سے اہم کردار نیب نے ادا کیا ہے۔ مقدمات، گرفتاریوں اور پروپیگنڈا مہم کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کو دفاعی پوزیشن میں لاکر درپردہ کسی سیاسی سودے بازی کا حصہ بننے پر مجبور کردیا گیا ہے۔
اپوزیشن کی اس مجبوری کا اندازہ کورونا وائرس کے بارے میں قومی اسمبلی کے مجوزہ اجلاس کے انعقاد کے معاملہ پر ہونے والے نام نہاد پارلیمانی معاہدہ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے کورونا وائرس کی صورت حال میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کروائی تھی جبکہ حکومت پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی مخالفت کررہی تھی اور اس کے لئے مختلف بہانے گھڑے جارہے تھے۔ موجودہ نظام میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایک چوتھائی ارکان کی درخواست موصول ہونے کے 14 روز کے اندر اجلاس بلانے کے پابند تھے ۔ اس کے باوجود اپوزیشن پارٹیاں اجلاس کے بارے میں حکومت کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے پر تیار ہوگئیں جس کی پارلیمانی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ اس معاہدہ کے تحت مجوزہ اجلاس میں صرف تقریریں ہوں گی ۔ نہ وقفہ سوالات ہوگا، نہ حکومت کو کوئی فیصلہ تبدیل کرنے یا ماننے پر مجبور کیا جاسکے گا۔ ا س اجلاس میں نہ قانون سازی ہوسکے گی اور نہ ہی کورم کی کمی کا عذر تراش کر اجلاس ملتوی کروایاجاسکے گا۔
اپوزیشن آخر ملک کے سب سے بااختیار ادارے کا ایسا بے مقصد اور بے اختیار اجلاس بلانے پر کیوں تیار ہوئی ہے؟ اپوزیشن پارٹیوں کے پاس کورونا سے نمٹنے کے لئے ایسا کون سا سنہری حل ہے جسے اجلاس میں پیش کرتے ہی حکومت بخوشی مخالف سیاسی جماعتوں کی تجویز پر عمل درآمد شروع کردے گی۔ اگر ایسا کوئی نایاب نسخہ اپوزیشن لیڈروں کے پاس موجود ہے تو اسے پیش کرنے کے لئے اسمبلی کا اجلاس ہونا ہی کیوں ضروری ہے۔ یہ اعلان اجلاس کے بغیر کیوں نہیں کیا جاسکتا تاکہ ہر عام و خاص کو اپوزیشن کی تجاویز کا علم ہوجائے اور ان کے تیر بہدف ہونے کی صورت میں حکومت پر ان بہتر تجاویز پر عمل درآمد کے لئے دباؤ میں اضافہ ہوسکے۔ موجودہ حالات میں قومی اسمبلی کے ’آئے، بیٹھے ، تقریر کی اور چلے گئے ‘ قسم کے اجلاس کا ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر خود کو نمایاں کرکے عوام تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ بھی موجود ہیں اور حکومت کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ پاکستانی عوام اب سیاسی لیڈروں کی مخالفت برائے مخالفت کی حکمت عملی سے عاجز آچکے ہیں۔ اس پالیسی سے ملک و قوم کا کچھ بھلا نہیں ہوتا بلکہ سیاسی عدم استحکام اور جمہوری روایات کے برعکس ہونے والے فیصلوں سے پارلیمانی نظام اور سیاست دانوں پر لوگوں کا اعتماد مسلسل کم ہورہا ہے۔
مارچ میں بین الاقوامی پروازوں پر پابندی سے پہلے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف وطن واپس آئے تھے۔ اس سے پہلے وہ چار ماہ تک نواز شریف کے علاج کے بہانے لندن میں مقیم رہے تھے۔ اس دوران ملک میں یہ افواہیں گشت کرتی رہی تھیں کہ شہباز شریف مقتدر قوتوں کے ساتھ کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے رابطے میں ہیں تاکہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لاکر شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا جاسکے۔ اس قسم کی خبریں لانے یاپھیلانے والوں نے نہ تو اس حقیقت پر غور کیا کہ گزشتہ برس کے آخر میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے دوران بھی بڑی تبدیلیوں کے دعوے کئے گئے تھے لیکن نہ ان دعوؤں کی حقیقت سامنے آسکی ہے اور نہ ہی عمران خان کی حکومت کو کو ئی زک پہنچائی جاسکی ہے۔ اس کے بعد نومبر میں پلیٹیٹس نامی بیماری کے علاج کے لئے نواز شریف کی لندن روانگی کے وقت سے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ عمران خان کی بری کارکردگی سے عاجز آچکی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت تبدیل کی جارہی ہے۔ اسی لئے نواز شریف کو جیل سے رہا ہوکر لندن جانے کی اجازت مل سکی ہے اور مریم نواز کو بھی ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔
ایسی خبروں کو عام کرنے اور ان پر یقین کی فضا پیدا کرتے ہوئے یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ اس سارے عمل میں عدلیہ بھی اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ اسے اسٹبلشمنٹ کے زیرنگیں ادارے کے طور پر پیش کرکے نظام عدل کو سنگین خطرات سے دوچار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر اپوزیشن پارٹیاں موجودہ آئینی انتظام کو تسلیم کرتی ہیں اور مانتی ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے لوگوں کو ہی حق حکمرانی حاصل ہے، تو انہیں درپردہ انتظام یا افہام و تفہیم کے ذریعے ملک میں حکومت کی تبدیلی پر راضی ہونے کا اختیار کیسے حاصل ہوسکتاہے؟ اس قضیہ میں سب سے اہم یہ بات فراموش کردی جاتی ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ کی اشیرباد سے موجودہ حکومت کے خلاف کوئی ’پارلیمانی انقلاب‘ برپا کیا جاسکتا ہے تو کیا عمران خان یوں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد خاموش بیٹھے رہیں گے۔ اگر وہ اسمبلی میں تیس کے لگ بھگ نشستیں جیتنے کے بعد 2014 میں منتخب حکومت اور پارلیمنٹ کے لئے خطرہ بن گئے تھے تو اب تو انہیں قابل ذکر تعداد میں نمائیندگی حاصل ہے۔
بیانات و قیاسات پر مبنی رپورٹوں اور تجزیوں کی بنیاد پر تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کرنے والوں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جب موجودہ حکومت اسٹبلشمنٹ کو کسی بھی طرح چیلنج نہیں کرتی تو وہ صرف کاغذی تبدیلی سے کون سا ایسا مفاد حاصل کرلے گی جو اسے اب حاصل نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن کا زہر نکال کر اسے ایسا کاغذی شیر بنا دیا گیا ہے جسے دیکھ کر بچے بڑے سب ہی محظوظ ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی ہم آہنگی نہ بھی ہو تو بھی سیاسی سکون کی فضا پیدا کرلی گئی ہے۔ یہ ماحول اسٹبلشمنٹ کے منصوبہ کے عین مطابق ہے۔ پھر وہ عمران خان جیسے مقبول لیڈر کو اقتدار سے محروم کرکے اس خاموشی کو بے چینی اور سیاسی ہنگامہ آرائی میں تبدیل کرنے کا خطرہ کیوں مول لے گی؟
شہباز شریف کی وطن واپسی کے اغراض و مقاصد سے ان کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اخباری اور ٹی وی انٹرویوز میں انہوں نے اپنے ارادوں اور ماضی میں اپنے کردار پر کچھ روشنی بھی ڈالی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اس قیاس کو یقین میں تبدیل کیا ہے کہ ملک میں سیاسی تبدیلی نہ تو ووٹ سے آتی ہے اور نہ اسے لانے کے لئے ووٹوں کے نتائج کا انتظار کیا جاتا ہے۔ بلکہ قبل از وقت ہی ایک نہیں حکومت بنانے کے دو دو خواہشمندوں کے ساتھ معاملات طے کرلئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد یا تو انتخابی نتائج کو ضرورت کے مطابق مرتب کروالیا جاتا ہے یا ایوان میں من پسند امیدوار کے حق میں رائے ہموار کروا لی جاتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے ان بیانات کے بعد ملکی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت اور حکومتی معاملات پر دسترس کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔ پروپیگنڈا کی بنیاد پر جس کا زیادہ زور سیاست دانوں کی بدعنوانی اور نااہلی سامنے لانے پر صرف کیا جاتا ہے اور جمہوریت اور عوامی نمائیندوں کے بارے میں لوگوں کی رائے آلودہ کی جاتی ہے۔ یہ رائے عوام کے تحت الشعور میں راسخ کی گئی ہے کہ اگر فوج نہ ہو تو سیاست دان نہ ملک چلا سکتے ہیں اور نہ ہی قومی خزانہ محفوظ رہ سکتا ہے۔
البتہ سیاست کو کٹھ پتلیوں کا تماشہ بنانے کے اس طریقہ کے خلاف پاکستانی عوام میں رائے مسلسل مستحکم ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں نااہل ہونے کے بعد جب نواز شریف نے خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جی ٹی روڈ سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا تھا تو اسے وسیع پزیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے جب عوامی حاکمیت اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ بلند کیا تو قید و بند کے باوجود اس نعرے کی گونج نے ایوان ہائے اقتدار کو ہراساں کردیا۔ نواز شریف اس وقت بغرض علاج لندن میں ہیں۔ لیکن وہ جان سکتے ہیں کہ اگر وہ اس وقت پاکستان کی کسی جیل میں ہوتے اور عوام تک یہ بات پہنچتی کہ کوئی سیاسی لیڈر ان کے حق انتخاب کی حرمت کے لئے اس وقت قید ہے تو ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا اور جمہوریت کا مقدمہ مضبوط ہوتا۔ نواز شریف کا لندن جانا طبی لحاظ سے کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہوتا، سیاسی لحاظ سے اس فیصلہ نے ’ ووٹ کو عزت دو ‘ کے نعرے کی اہمیت کو ختم کردیا ہے۔
شہباز شریف کو سیاسی فیصلوں کا اختیار دے کر اور مریم نواز کو خاموشی اختیار کرنے پر آمادہ کرکے نواز شریف خود کو پاکستانی سیاست سے غیر متعلق کرچکے ہیں۔ یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کا سیاسی ایجنڈا مختلف ہے۔ دونوں بھائیوں کے نزدیک حصول اقتدار ہی سیاست کا مطمح نظر ہے۔ البتہ شہباز شریف جوڑ توڑ کی جس سیاست کے ذریعے بازی پلٹنا چاہتے ہیں، اس کا امکان فی الوقت موجود نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی دو وجوہات ہیں۔ 1) اسٹبلشمنٹ کو شریف برادران سے بہتر متبادل حاصل ہے۔ 2) عوام یہ جان چکے ہیں کہ اگر کسی ٹوڈی بچہ کو ہی حکومت میں آنا ہے تو اس کی شکل خواہ کچھ بھی ہو، کیا فرق پڑتا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کو کٹھ پتلی تماشہ بنانے کے خلاف رائے دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے ذریعے اس رائے کا نمائیندہ بننے کی کوشش کی تھی۔ ان کے پاس اب بھی یہ آپشن موجود ہے کہ وہ اس آواز کی طاقت اور اہمیت کو سمجھیں اور اس کا نمائیندہ بن جائیں۔ شہباز شریف کے ذریعے مفاہمت کا راستہ تلاش کرتے ہوئے ، وہ اس مقبولیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے جو اسٹبلشمنٹ کو منتخب حکومت کے ماتحت کرنے کی کوششوں کی وجہ سے انہیں نصیب ہوئی ہے۔ انہیں جان لینا چاہئے کہ مراعات اور سہولتوں کا راستہ بھی عوامی مقبولیت اور پزیرائی سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔
اگر نواز شریف تھک چکے ہیں تو ان کی عزت اسی میں ہے کہ وہ سیاست سے علیحدگی کا اعلان کردیں۔ جمہوریت کے لئے پاکستانی عوام کی خواہش کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرلے گی۔ مؤرخ یاد رکھے گا کہ نواز شریف نے عوامی حاکمیت کی خواہش ظاہر کی پھر اپنے ذاتی مفادات کے لئے اس سے دستبردار ہوگئے۔ اور عوام کو بیچ منجھدار تنہا چھوڑ دیا۔