ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 30 ہزار سے زائد، اموات 648 ہوگئیں
- اتوار 10 / مئ / 2020
- 3820
پاکستان میں مجموعی طور پر مصدقہ کیسز کی تعداد 30174 ہوگئی ہے جبکہ 648 لوگ اس وائرس سے انتقال بھی کرگئے ہیں۔ دنیا میں کورونا متاثرین کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ دو لاکھ 79 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے میں 1679 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 21 افراد وبا سے ہلاک ہوئے جبکہ آٹھ ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا ہے اور لوگ بھی وبا سے محفوظ رہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پورے ملک کو بند کرنے کے بجائے وبا سے متاثرہ مخصوص علاقے بند کیے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے اکثر ممالک کی یہی سوچ ہے کہ لوگوں سے زیادہ عرصے تک ان کا روز گار نہیں چھینا جا سکتا۔ اسد عمر نے کہا کہ زمینی سطح پر اقدامات پر عمل در آمد کروانا صوبوں کا کام ہے۔
وبا پر کنٹرول کے حوالے سے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 70 لیبارٹرز میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ ان لیبارٹرز کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس دوران حکومت پنجاب نے لاک ڈاؤن میں 31 مئی تک اضافہ کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔ ہفتے کو جاری ہونے والے نوٹی فیکیشن میں پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرائی گی۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق پنجاب میں تمام چھوٹی دکانیں ہفتے میں چار دن کھلیں گی۔ پنجاب کے تمام بڑے شاپنگ مالز، تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ کنسٹرکشن انڈسٹریز جن میں الیکٹرانکس، سٹیل شامل ہیں، انھیں 'ایس او پیز' پر عمل درآمد کے تحت کھولنے کی اجازت ہوگی۔
پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ حجام سیلون، بیوٹی پارلر اور جمنیزیم کھول دیئے گئے ہیں۔ پنجاب میں تمام چھوٹی دکانیں ہفتے میں چار دن پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو کھلیں گی۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تمام دکانیں بند رہیں گی، جس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔