ملتان کا قرنطینہ سینٹر: دھرنے سے کبڈی میچ تک
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 10 / مئ / 2020
- 6630
آصفہ ساجد فروری کے وسط میں ایک بڑے قافلے کے ہمراہ جھنگ سے کوئٹہ پہنچیں جہاں سے انہیں مذہبی مقامات کی زیارت کرنے کے لیے ایران جانا تھا مگر کوئٹہ پہنچنے پر جب انہیں معلوم ہوا کہ ایران میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے تو انہوں نے قافلے کے سالار سے کہا کہ انہیں آگے بڑھنے کے بجائے جھنگ واپس چلے جانا چاہیے۔’مگر سالار نے کسی نہ کسی طرح ہمیں سرحد پار کر ا دی۔‘
قافلہ جب ایرانی شہروں قم اور مشہد پہنچا تو وہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کافی تیزی آ چکی تھی۔ آصفہ کا کہنا ہے کہ وہ خود اور دوسرے زائرین سالار سے کہتے رہے کہ انہیں پاسپورٹ واپس کردے تاکہ وہ بذریعہ ہوائی جہاز واپس چلے جائیں مگر وہ نہیں مانا۔ سالار اس کے برعکس ان کو یقین دہانی کراتا رہا کہ وہ ایرانی حکام سے رابطے میں ہے اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں قافلے کو فوراً پاکستان لے آئے گا-
جب مارچ کے آغاز میں زائرین بالآخر پاکستان واپس آئے تو ان کو براہِ راست اپنے گھرجانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ تافتان میں قائم کیے گئے ایک قرنطینہ میں ٹھہرایا گیا جہاں 15 دن قیام کے بعد ان کو 20 مارچ کو ملتان میں قائم کیے گئے ایک دوسرے قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا- آصفہ اور تقریباً 35 دوسرے زائرین اگلے چالیس روز تک ملتان میں ہی رہے اس دوران ان کے دو کورونا ٹیسٹ کیے گئے-
ملتان کا قرنطینہ پاکستان میں کورونا وائرس سے نپٹنے کے لیے قائم کی جانے والی اولین سہولتوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ایک ہزار 836 لوگوں کو علیحدگی میں رکھنے کا انتظام موجود ہے۔ ابتدا میں ایران سے واپس آنے والے ایک ہزار 249 زائرین کو یہاں رکھا گیا جب ان میں سے 89 لوگوں میں کورونا وائرس کے اثرات پائے گئے تو ان کو دوسروں سے الگ کر دیا گیا اور ایک ہزار 160 دیگر زائرین کو بتا یا گیا کہ انہیں 14 دن بعد گھر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔
یہ مدت گزرنے کے بعد جب ان میں سے کچھ مزید افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تو ان میں سے دو کے اندر وائرس پایا گیا مقامی انتظامیہ نے ان دونوں کو فوراً علاج کے لیے بھجوانے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی۔ مگر جب یہ لوگ انتظامیہ کی فراہم کردہ گاڑیوں میں بیٹھ گئے تو لاہور سے محکمہ صحت کے سیکرٹری نے فون کرکے ان کے جانے پر پابندی لگا دی۔ سیکرٹری کا کہنا تھا کہ دو لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے خطرہ یہ ہے کہ کہیں کچھ دوسرے لوگوں میں بھی وائرس موجود نہ ہو اس لیے حکومت ان کو گھر بھیجنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر ان سب کے ٹیسٹ کرے گی-
اس پر قرنطینہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ایک مقامی صحافی جنہوں نے اس احتجاج کے بارے میں رپورٹنگ کی بتاتے ہیں کہ مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ اور سٹاف کو قرنطینہ سے باہر نکال کر دروازے اندر سے بند کرلیے- نعرے بازی کرتے ہوئے انہوں نے قرنطینہ میں گشت کیا، دھرنا دیا اور بھوک ہڑتال بھی کی۔ صحافی کے بقول، جب موقع پر موجود پولیس نے مظاہرین کو قابو کرنے میں انتظامیہ سے تعاون نہ کیا تو صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے فوج کوبلانا پڑا- پھر بھی احتجاج 48 گھنٹے جاری رہا جس کے بعد انتظامیہ اور مظاہرین میں مذاکرت ہوئے اور طے پایا کہ جن لوگوں میں کورونا کی کچھ علامات موجود ہیں ان کے علاوہ سب کو قرنطینہ سے جانے دیا جائے گا-
ملتان کی ضلعی حکومت کے ترجمان محمد اصغرخان کے مطابق بعد ازاں تقریباً 36 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 11 کا ٹیسٹ منفی آیا ان میں آصفہ بھِی شامل تھیں۔ مگر پھر بھی ان سب کو گھر جانے سے روک دیا گیا۔ اصغرخان اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انتظامیہ 14 روز بعد ان کا ایک مزید ٹیسٹ کرکے حتمی طور پر طے کرنا چاہتی تھی کہ وہ کورونا سے متاثر ہیں یا نہیں- 'حکام نے فیصلہ کیا کہ جب ان کا دوسرا ٹیسٹ بھی منفی آئے گا تو انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔‘
دوسرے ٹیسٹ کے نتائج بالآخر اپریل کے اختتام پر آئے جس کے بعد آصفہ سمیت 70 کے قریب لوگوں کو قرنطینہ سے رخصت کر دیا گیا- ان میں ایران سے آئے ہوئے زائرین کے علاوہ تبلیغی جماعت کے ارکان بھی شامل تھے- اپنے گھر جانے سے محض چند دن پہلے تک آصفہ قرنطینہ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات سے سخت نالاں تھیں۔ ملتان میں سجاگ سے بات کرتے ہوئے وہ ہچکیاں لے کر رونے لگیں- ان کا کہنا تھا: 'مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیوں میرے گھر واپس نہیں بھیجا جا رہا۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو آج بھیج رہے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ کل بھیج دیں گے۔‘
مگر ان کی کہانی ملتان کے قرنطینہ سے متعلق واحد تشویشناک بات نہیں۔ اپریل کے اختتامی دنوں میں بھی یہاں رکھے گئے کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کو جانے کے لیے احتجاج کیا جس کے بعد تین افراد کو رات کے ایک بجے نیند سے جگا کر ان کے خون کے نمونے لیے گئے مگر اُن (متاثرین) کا دعویٰ ہے کہ نمونے کسی لیبارٹری میں بھیجنے کی بجائے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیے گئے۔
ملتان کے اخبارنویسوں نے نمونوں کے کچرے میں پھینکے جانے کی تصاویر ضلعی انتظامیہ کوبھی دکھائیں مگرتا حال حکام نے اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا- اسی طرح تین اپریل کو وائرل ہونے والی ایک وڈیومیں قرنطینہ میں مقیم نوجوانوں کو کبڈی کھیلتے دیکھا جا سکتا ہے- تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس وڈیو میں موجود ہے ان میں سے کچھ نے بعد ازاں کبڈی جیتنے والوں کو کندھوں پراٹھا کر پورے قرنطینہ میں گھمایا-
ضلعی انتظامیہ نے اس پر یہ موقف اپنایا ہے کہ کبڈی کھیلنے والے نوجوان اور تماشائی، ان میں سے کسی کو کورونا نہیں تھا۔ 'یہ لوگ اس بات کی خوشی منا رہے تھے کہ اب وہ اپنے گھر جا سکیں گے.‘ اس سے پہلے اسی قرنطینہ میں ایک مذہبی محفل کا بھی اہتمام کیا گیا جس سے ایک معروف مقامی ذاکر اور شاعر شوکت رضا شوکت نے خطاب کیا- اس موقع پر بھی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری طبی ضابطوں کا کوئی خیال نہ رکھا گیا-
اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ قرنطینہ میں موجود لوگوں کے لیے اپنے اپنے کمروں میں ہی خطاب سننے کا انتظام موجود تھا۔ مگر اس تقریب کی سرکاری طور پر جاری کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے افسر اور کئی دیگر لوگ کسی فاصلے کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بیٹھے ہیں۔
معروف سرائیکی دانشوراحمد نواز سومرو اس صورتِ حال سے بہت نا خوش ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قرنطینہ میں ہونے والی بد انتظامی پورے جنوبی پنجاب میں کورونا کے پھیلاﺅ کا سبب بنی ہے- 'ہم پہلے روز سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں قرنطینہ قائم کرکے ملتان کے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔‘
(بشکریہ: سجاگ)