برطانیہ کے سوا یورپ کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز
- سوموار 11 / مئ / 2020
- 3890
فرانس اور اسپین سمیت بیشتر یورپی ملکوں میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے جب کہ برطانیہ نے کورونا وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
فرانس، بیلجیم، یونان اور اسپین میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی پر عمل درآمد شروع ہو گا۔ فرانس میں لگ بھگ آٹھ ہفتوں کے بعد پیر کی صبح سے شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ پرائمری اسکول ٹیچرز ایک مرتبہ پھر اسکولوں میں آ گئے ہیں جب کہ ہیئر ڈریسرز سمیت بعض دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود فرانس میں ریستوران، تھیٹرز، سنیما اور بارز بدستور بند رہیں گے۔
اتوار کو فرانس میں اپریل کے بعد سے سب سے کم یومیہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ اتوار کو کورونا وائرس کے شکار 70 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس سے فرانس میں اب تک 26 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جب کہ ملک بھر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 77 ہزار سے زیادہ ہے۔
برطانیہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا یورپی ملک ہے جہاں اب تک 31 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور دو لاکھ 19 ہزار سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم بورس جانسن نے یکم جون تک لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ہے اس لیے فوری طور پر پابندیوں میں نرمی نہیں کی جا سکتی۔
بورس جانسن نے اتوار کو کہا کہ برطانوی عوام کی طرز زندگی کے لیے لاک ڈاؤن کے مصائب برداشت کرنا مشکل ہے تاہم وبا کو کنٹرول کیے بغیر پابندیوں میں نرمی کرنا احمقانہ فیصلہ ہو گا۔ یاد رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے اور وہ تین روز تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بھی رہ چکے ہیں۔ بورس جانسن نے کہا کہ وہ رواں ماہ ایک مشروط منصوبہ پیش کریں گے جس کے تحت مرحلہ وار لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے گی۔ تاہم رواں ہفتے پابندیوں میں نرمی کرنے کا وقت نہیں ہے۔
کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسپین کے مختلف شہروں میں عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جا رہی ہے۔ وبا سے متاثرہ شہر میڈرڈ اور بارسلونا میں بدستور لاک ڈاؤن رہے گا جب کہ دیگر شہروں میں بعض دکانوں کو پیر سے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسپین میں 26 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں اور یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 200 سے کم ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں دو لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
جرمنی میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے بے یقینی پائی جاتی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ جرمنی کے کم از کم ایک ضلع میں دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہاں چند روز قبل گوشت کے پراسسنگ پلانٹ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ دیکھا گیا تھا۔
بیلجیم اور یونان بھی پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرہے ہیں جب کہ ترکی نے پہلے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی ہے جہاں اتوار سے 65 برس سے زائد عمر کےافراد کو بھی گھروں سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔