سپریم کورٹ نے نیو نیوز کی نشریات بحال کرنے کا حکم دے دیا
- سوموار 11 / مئ / 2020
- 4460
سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی ٹی وی چینل 'نیو نیوز' کی بندش کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نشریات بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیو نیوز کو چند روز قبل پیمرا نے بند کر دیا تھا۔ پیمرا نیو ٹی وی کی بندش کی وجہ غیر قانونی طور پر نیوز اور حالات حاضرہ کا مواد نشر کرنا بتایا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیو نیوز کی بندش کو درست قرار دیا تھا۔ نیو نیوز کی انتظامیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
سپریم کورٹ میں پیر کو جسٹس مشیر عالم اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نیو ٹی وی انتظامیہ کی درخواست کی سماعت کی۔ نیو ٹی وی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون میں دو اصول بالکل واضح ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ بنیادی قانون کے متصادم ماتحت قوانین نہیں بنائے جا سکتے اور دوسرا اصول یہ ہے کہ ایک قانون کے مخالف قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا نے ریگولیشنز ایگزیکٹو آرڈر استعمال کرتے ہوئے بنائے۔ اس طرح کی تبدیلیاں رولز کے ذریعے ہی ممکن ہیں اور رولز کی منظوری کابینہ سے ضروری ہے۔
علی ظفر کا دوران سماعت کہنا تھا کہ پیمرا 2002 کے قانون کے تحت عوامی مفاد کے خلاف مواد نشر ہونے پر نشریات روک سکتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ پیمرا نشریات روکنے کا مجاز نہیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آپ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان قانونی نکات کو کیوں نہیں اٹھایا۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیمرا کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نیو نیوز کی نشریات بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیو نیوز پیمرا ریگولیشنز کے خلاف ریلیف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔ نیو نیوز کو گزشتہ ہفتے 6 مئی کو پیمرا کے حکم پر بند کیا گیا تھا۔
اس بارے میں نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل قرار کہتے ہیں کہ پیمرا کی جانب سے نیو نیوز کے خلاف کارروائی انہی کارروائیوں کا تسلسل ہے جن کے ذریعے ملک بھر کے صحافیوں کو بے روزگار کیا جا رہا ہے اور میڈیا کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نیو نیوز آج سے نہیں بلکہ گزشتہ چھ سال سے زائد عرصہ سے نیوز اور کرنٹ افیئرز کے پروگرام دکھا رہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر ان کے لائسنس کا مسئلہ تھا تو اس حوالے سے پہلے کیوں نہیں کہا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک پروگرام میں وزیر اعظم کی پیروڈی دکھانا، اس اقدام کی اصل وجہ تھی۔ اسی وجہ سے اس چینل کے مالکان اور ورکرز کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن ہم حکومت کو کہنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ اس پر غصہ نہ کیا جائے بلکہ تحمل سے کام لیا جائے۔ چینلز کو بند کرنے کی ہر کوشش کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔