کورونا پر غور کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس، ڈاکٹروں کی ہدایت پر شہباز شریف شریک نہیں ہوئے
- سوموار 11 / مئ / 2020
- 6020
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی نے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا ہے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق پارٹی نے یہ فیصلہ شہباز شریف کے ڈاکٹرز کی تحریری رائے کے بعد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز نے سختی سے منع کیا ہے کہ شہباز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کریں۔ مسلم کی ترجمان کے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کینسر سرجری اور قوت مدافعت میں کمی سے ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس کے آغاز پر کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے حکومت کے اقدامات پر بحث ہوگی۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ، دیگع ارکان اسمبلی سمیت تمام متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کے لیے اجلاس میں دعا کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وبا کی وجہ سے آج سندھ کارڈ کی نہیں بلکہ پاکستان کارڈ کی ضرورت ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس پرا یک نکاتی ایجنڈے پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اپوزیشن کے مطالبے کو تسلیم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا وائرس کی ویکسین سامنے آنے تک ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنا ہوگا اس میں دو سال لگیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا اور مشترکہ ایجنڈا بنانا ہوگا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی وفاق کی بات کرتی تھی لیکن آج وفاقی سوچ صوبائیت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ پیپلزپارٹی اب اب صوبائی تعصب کو ہوا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں انفیکشن اور اموات کی شرح 2.17 فیصد ہے جبکہ عالمی اوسط 6.8 فیصد ہے۔ ملک میں ٹیسٹ کرنے کی تعداد ناکافی ہے۔ پاکستان میں ابھی عروج آنا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک تاثر ملا کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو میں واضح کردوں گا کہ ہم نے وفاقی سطح پر ایک پروگرام کا آغاز کیا جس کا نام احساس کفالت پروگرام ہے۔ یہ پروگرام پورے پاکستان کے لیے اور اس وقت سندھ میں 26 ارب روپے احساس کفالت کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں اور 23 لاکھ کنبے اس سے مستفید ہوچکے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری احتیاطی تدابیر میں کمی اور سستی رہی ہے۔ حکومتی پالیسی گومگو کی ہے۔ ڈاکٹر ظفرمرزا نے ایک بریفنگ میں کہا کہ 75 فیصد کیسز ایران سے آئے ہیں، 17 فیصد دیگر سفر کرنے والے اور 5 فیصد مقامی ہیں اور اب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صحت کا محکمہ صوبوں کا ہے لیکن ایئرپورٹس میں تمام ملازمین اور صحت کا عملہ وفاقی حکومت کا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ظفر مرزا کے بقول 75 فیصد کا سیلاب جو بلوچستان میں آیا تو تفتان میں عملہ صوبائی حکومت کا نہیں تھا بلکہ وفاقی حکومت کا عملہ تھا۔ حکومت اس ایوان کو امیگریشن کی دستاویزات فراہم کرے کہ کتنے لوگ وہاں آئے اور کتنی دیر رہے۔ پہلی کھیپ میں 252 لوگ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اپنے گھروں کو سدھار گئے جس کے بعد ہزاروں افراد کو ایک چھوٹے گاؤں میں رکھا جہاں سہولتوں کی کمی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے کہا ہمارے پاس روزانہ 20 ہزار ٹیسٹ کی صلاحیت ہے جبکہ ہمیں دو ہفتے پہلے کمیٹی میں بتایا گیا کہ 50 ہزار روزانہ ٹیسٹ کریں گے لیکن آج 10 دن بعد وزیرخارجہ کہہ رہے ہیں 20 ہزار روزانہ ٹیسٹ ہورہے ہیں۔ اب تک پاکستان میں 2 لاکھ سے کچھ زیادہ ٹیسٹ ہوئے ہیں جو 22 کروڑ کی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب نے کہا کہ وفاق اور حکومت پاکستان کو ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہونا تھا اور جہاں صوبائی حکومت ایک پیسہ خرچ کرتی ہے وہاں وفاق کو دس روپے خرچ کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہی درخواست کرسکتے ہیں کہ تعاون کیا جائے۔
دنیا میں طبی عملے کو پیکجز دیے جارہے ہیں اور خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں کیا ہوتا ہے۔ بلوچستان میں ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور پنجاب میں ڈاکٹروں کو بھوک ہڑتال کرنی پڑتی ہے۔
وزیرخارجہ کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کہا کہ وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور ہم بات کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے بیانات ذمہ دارانہ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے اور اگر کچھ کہتے ہیں تو اس سے ہماری رہنمائی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت کے کراچی سے منتخب رہنماؤں کے بیانات غیرذمہ دارانہ ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے خدانخواستہ کیسز اور اموات میں اضافہ ہوگا تو اس کے لیے ہسپتالوں میں بستروں اور دیگر تیاری بھی کرنی ہوگی جس کے لیے وفاقی حکومت کو صوبوں کی مدد کرنا چاہئے۔ ہماری حکومت نے سیلاب اور زلزلوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم صوبوں کی مدد نہیں کرسکتے اور خود کریں بلکہ ہم نے بڑھ چڑھ کر مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بیانات ہم ایک دوسرے کے خلاف دیتے ہیں اس کو کورونا وائرس کی آگاہی کے لیے دیں تو فائدہ ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جنگ کا وقت ہے لیکن ہمارا وزیراعظم موجود نہیں ہے۔ وزیراعظم کنفیوژ ہے اور جو اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرپارہے ہیں۔ مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا معاشی مشکلات دوسرے ممالک میں نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش، بھات، نائیجیریا، افریقہ، ایتھوپیا اور افغانستان میں معاشی مشکلات نہیں ہیں۔ صرف پاکستان میں معاشی مشکلات ہیں۔ اگر وہ ممالک لاک ڈاؤن بھی کرسکتے ہیں، معیشت کوبھی سنبھال سکتے ہیں اور اپنے عوام کو ریلیف بھی دے سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کورونا ریلیف آرڈیننس منظور نہیں کررہی ہے اور سندھ میں ریلیف کے سامنے پی ٹی آئی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ گورنز سندھ آج ہی اس آرڈیننس کو منظور کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ کام کرنے نہیں دیتے، میں صرف سندھ کی بات نہیں کررہا بلکہ پورے پاکستان کی بات کررہا ہوں۔ پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس طرح کی بیان بازی آپ کرتے ہیں۔ کورونا کے وبا کے موقع پر تو ایسے بیانات نہ دیں۔ ہم عمران خان کو اپنا وزیر اعظم کہیں گے یہ آگے بڑھیں۔ کیونکہ مجھے آپ سے لڑنا نہیں ہے بلکہ مل کر کام کرنا ہے۔