کورونا سے متاثرین اور اموات میں مسلسل اضافہ
- منگل 12 / مئ / 2020
- 4080
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 32 ہزار 674 لوگ متاثر ہوگئی ہے جبکہ 724 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ دنیا میں متاثرین کی تعداد 42لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 2 لاکھ 86 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان میں آج بھی 1146 نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے مزید 39 ہلاکتیں ہوئیں۔ ملک بھر میں ٹیسٹ کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پشتوں تحفظ تحریک کے رہنما علی وزیر بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد مجموعی کیس 88 ہو گئے ہیں۔
کارونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پشاور ہائی کورٹ کو 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق عدالتیں، بار رومز، ڈسپنسری سمیت ہائی کورٹ کے دفاتر بھی بند رہیں گے۔ صرف دو سنگل بینچ ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کریں گے۔ یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میں کورونا کیس سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔
اسپین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو دو ہفتوں تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ تاکہ اسپین میں باہر سے کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے نہ آ سکیں۔ اسپین میں کورونا وائرس کے شدید اثرات کے باعث گزشتہ سات ہفتوں سے لاک ڈاؤن کی سخت پابندیاں عائد رہی ہیں۔
دنیا بھر کے ملکوں میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے اقدامات اختیار کیے جائیں یا پھر لوگوں کو معمول کی زندگی میں لوٹنے کی اجازت دے دی جائے۔ سنگاپور میں آج سے حجاموں، بیکریوں اور کپڑے دھونے کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بھارت میں بھی مارچ کے بعد سے آج پہلی بار ٹرین سروس بحال کی جا رہی ہے۔ تاہم مسافروں کو بخار چیک کروانے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا میں ان افراد کی تلاش جاری ہے جو دارالحکومت سیول کے نائٹ کلبوں میں گئے تھے جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ بہت سے افراد کی نشاندہی ہوئی تھی۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فون اور کریڈٹ کارڈ کے ڈیٹا سے ایسے لگ بھگ 2,000 افراد کو تلاش کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جائیں۔ اس نائٹ کلب جانے والے 100 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات 38 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔ یہ اموات یورپ کے کسی بھی ملک میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔ برطانیہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چھ ہزار سے زائد افراد وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانیہ کے قومی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب وزیرِ اعظم بورس جانسن لاک ڈاؤن میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے بعض کاروبار کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں اپوزیشن جماعتوں کا یہ مؤقف ہے کہ بورس جانسن نے وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے میں تاخیر کی۔