باؤ جی میرا مسئلہ چولہا ہے
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- بدھ 13 / مئ / 2020
- 6030
ان دنوں اخبارات، ٹی وی اور دیگر میڈیا پر دہاڑی دار مزدور کی دہائی دی جارہی ہے۔ بڑے بڑے ٹی وی اینکر حضرات دہاڑی دار مزدور کی نوحہ خوانی کررہے ہیں۔ پر مغز دلائل دیے جارہے ہیں۔ اور قارئین اور اینکر حضرات اپنے مہمانوں کے فلسفیانہ خیالات سن رہے ہیں۔
یہ بحث معاشی، معاشرتی اور سیاسی رنگوں کی پھلجڑی بن کر جگمگا رہی ہے۔ سبھی اینکر حضرات اور مہمان مبصرین ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ دہاڑی دار مزدور حالات کی بے رحمی کا شکار ہے۔ ایسے کڑے وقت میں اور قابل توجہ مباحث میں جب بھی اپوزیشن کو موقع ملتا ہے وہ برملا پکار اٹھتے ہیں کہ حکومت وقت کچھ نہیں کررہی۔ حالانکہ وہ لوگ جو ٹی وی پر بیان دے رہے ہیں ، یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی حکومتوں کے حصہ دار تھے۔ وہ بھی حکومت کا شعور رکھتے ہیں لیکن اب نہیں۔ وہ تو صرف باری آنے کے انتظار میں ہیں۔ اور صرف گئے دنوں کو پھیر لانے کے وسیلے کررہے ہیں۔
ہم بات کہہ رہے تھے کہ دہاڑی دار مزدور کی لیکن نکل گئی سرمایہ داروں کی سمت۔ وہ مزدور جو صبح صبح فٹ پاتھ پر جاکر بیٹھ جاتا ہے اور مزدوری کی تلاش میں اس کی آنکھیں سرگرداں رہتی ہیں۔ کسی نے اس سے جاکر پوچھاکہ اخباروں، ٹی وی اور کمپیوٹرز پر تمہارے بارے میں مباحث چل رہے ہیں، تمہیں ان کا علم ہے؟ اگر پوچھ لیں تو وہ بیزاری سے کہے گا ’باؤ جی مجھے ان باتوں سے کیا غرض۔ میرے دن رات تو صرف اس جستجو میں مبتلا ہیں کہ آج رات میری بیوی چولہا جلا سکے گی یا نہیں۔ یامیرے بچے آج بھی کل کی طرح رو رو کر سوجائیں گے‘۔ ان سے کہیں کہ حکومت نے تو آپ لوگوں کو لاکھوں روپے کی امداد مہیا کررہی ہے۔ ’سنا ضرور ہے باؤجی لیکن وہ میری پہنچ سے بہت دور ہے۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ امداد ہے کہاں؟ جاؤں تو کہاں جاؤں۔ میں تو اس جستجو میں ہوں کہ کیا آج رات میرے گھر کا چولہا گرم ہوگا اور میرے بچے رونے کی بجائے کچھ کھا کر سوئیں گے‘۔
سنا تو ہے کہ حکمران ملک لوٹ کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے ہیں اور وہاں اپنے محل خرید لئے ہیں۔ اور باہر کے ملکوںمیں ملیں لگا لی ہیں۔ اور یہ بھی سنا ہے کہ مریم نواز نے کہا ہے کہ میری ملک میں کوئی جائداد نہیں، باہر کے ملکوں کی کیابات کرتے ہو۔ سنا ہے کہ وہ جاتی عمرہ میں مہارانیوں کی طرح رہ رہی ہیں۔ وہ شہنشاہیت کی پروردہ ہیں۔ باؤجی میرا مسئلہ جو بھی ہے ، میرے بچوں کے آنسو۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ زرداری نے پیرس میں محل خریدا اور نواز شریف کے نابالغ بچوں نے ولدیت کے سبب سے مہنگی جائداد خریدی۔ یہ درست سہی۔ ہم جاہل لوگ ہیں لیکن اتنا شعور رکھتے ہیں کہ بلاول بھٹو جو اقتدار میں آنے کے لئے بے تاب ہے، اس کا تماشہ دیکھئے۔ زرداری نے صرف ایک محل خریدا ، ملیں لگائیں اور صرف دس فیصد پر گزارا کیا۔ نواز شریف کے بچوں نے کم سنی میں ولدیت کے سبب سے ہی سب سے مہنگے علاقے میں جائیدادیں خریدیں۔ تو وہ لوگ اگر اقتدار میں آگئے تو بلاول بھٹو ایک نہیں سات محل خریدے گا۔ اور مریم نواز دس سے تیس ملیں لگائیں گی۔ اور میں باؤ جی ایسے ہی فٹ پاتھ پر جان دے دوں گا اور شاید کمیٹی کے لوگ مجھے کہیں دفنا دیں گے۔ لیکن باؤ جی میرا چولہا ہے اور میرے دو بچے ہیں۔ میرا چولہا ٹھنڈا پڑا ہے اور میرے بچوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں:
کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ پر چلو اتنا
یہاں تو رات بھر مزدور خواب دیکھتے ہیں
یہ مسئلہ ایک مزدور کا نہیں۔ یہ مسئلہ ملک کی آدھی آبادی کا ہے۔ پاکستان ایک نادار ملک ہے اور نہ جانے کب تک نادار رہے گا۔ پہلے تو کہتے تھے کہ ملک کو دیانت دار حکمران نہیں ملا۔ درست سہی لیکن دیانت داری کیااس مزدور کا چولہا جلا سکے گی۔ اس کے بچوں کی آنکھوں سے آنسو پونچھ سکے گی۔ سارا پاکستان اس بات پر متفق ہے کہ وزیر اعظم دیانت دار انسان ہے۔ اس کا دل مزدور کے لئے دھڑکتا ہے۔ لیکن ہم آپ سے ایک سوال کرتے ہیں کہ اکیلا وزیر اعظم کون کون سے محاذ پر سینہ سپر ہوسکتا ہے۔
ہم تو آئے دن دیکھ رہے ہیں کہ اپوزیشن چلا رہی ہے کہ سارے معاملات اسمبلی میں لائے جائیں۔ یہ درست سہی لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ہماری اسمبلی کی موجودہ حالت کیا ہے۔ پاکستان قومی اسمبلی تو ہر بار جنگ عظیم کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ اپوزیشن ہمیشہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی بجائے حکومت وقت کی نالائقی اور نااہلی کی گردان کرکے اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوجاتی ہے۔ ان کے نزدیک فساد کی جڑ وزیر اعظم ہیں۔
ہم نے مانا کہ دہاڑی دار حکومت کا مسئلہ ہیں۔ بیروزگار حکومت کا مسئلہ ہیں۔ غربت حکومت کا مسئلہ ہے۔ قوم اور ملک کا تحفظ حکومت کا مسئلہ ہے۔ سرحدیں حکومت کا مسئلہ ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف بھی حکومت کا مسئلہ ہیں۔ زرداری اوربلاول بھی حکومت کا مسئلہ ہیں۔ مریم اور حمزہ شہباز بھی حکومت کا مسئلہ ہیں۔ عوام یہ بھی سوچتے ہیں کہ عدالت عالیہ میں جومقدمات درج ہیں، کیا عدالت عالیہ ان کے فیصلے اس صدی میں سنانے کی اہل ہوگی ۔ یا زرداری سے لے کر اسحاق تک:
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
فٹ پاتھ پر بیٹھا دہاڑی دار بھی سچ کہتا ہے۔ ٹی وی اینکر بھی سچ کہتا ہے۔ اخبارات بھی سچ کہتے ہیں۔ اگر ہم ان سچائیوں کا شمار کریں تو بہت ممکن ہے یہ سچائیاں ایک اور کورونا بن کر ہم پر حاوی نہ ہوجائیں:
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات