کورونا وائرس: پاکستان میں ایک دن میں 2200 کیسز کا اضافہ
- بدھ 13 / مئ / 2020
- 3870
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2225 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ کیسز کی مجموعی تعداد 35 ہزار 298 ہوگئی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 31 اموات کے بعد کل جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 761 تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد 43 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ عالمی طور پر اس وبا سے دو لاکھ 93 ہزار افارد ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان نے وبا سے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے باوجود ایران کے ساتھ سرحد کھول دی ہے۔ فروری میں ایران میں وبا تیزی سے پھیلنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 82 ہزار ہو گئی ہے۔ متاثرین کی کل تعداد 13 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہے۔ چین کے شہر جیلن کو کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عید الفطر کی پانچ چھٹیوں کے دوران ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے عید الفطر کے موقع پر ملک کے تمام شہروں میں کرفیو لگانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ 23 مئی سے 27 مئی تک ملک بھر میں مکمل کرفیو ہو گا جس کے دوران پانچ افراد سے زیادہ کے جمع ہونے پر پابندی ہو گی۔
وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی سماجی دوری پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ نئے حکم نامے کے مطابق صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کرفیو میں جزوی نرمی کی جائے گی لیکن اس کا اطلاق مکہ شہر پر نہیں ہو گا۔
وائٹ ہاؤس کے صحت اعلیٰ ترین مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اعلان کردہ 81000 سے یقینی طور پر کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے امریکی ریاستوں کو خبردار کیا کہ کاروبار کھولنے میں عجلت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ڈاکٹر فاؤچی نے سینیٹ میں اس وبا سے نمٹنے کے بارے میں امریکی حکومت کی حکمت عملی کی تحقیقات کرنے والے پینل کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھر میں اور خاص طور پر نیویارک میں بہت سے افراد اپنے گھروں میں چل بسے تام ان کی ہلاکتوں کو مجموعی تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے ایسے کیسز کی کوئی واضح تعداد نہیں بتائی۔ ڈاکٹر فاؤچی نے خبردار کیا کہ ستمبر سے نومبر کے دوران کورونا وائرس کی وبا شدید تر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس وقت تک حکومت اس وبا سے نمٹنے میں زیادہ مہارت حاصل کر لے گی۔
امریکہ کی بیشتر ریاستوں کے گورنر اسٹورز، ریستوران اور دفاتر کو سماجی فاصلے کی پابندیوں کے ساتھ کھولنے کی اجازت دے چکے ہیں۔ تاہم ڈاکر فاؤچی کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کرتے وقت حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو اس بات کا حقیقی خطرہ موجود ہے کہ یہ وبا کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے آٹھ مختلف اقسام کی ویکسینز کی تیاری کا کام جاری ہے جب کہ یہ بات اس سال موسم خزاں یا سردیوں کے دوران ہی معلوم ہو سکی گی کہ ویکسین کی تیاری میں کامیابی حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔