موسم خزاں تک کورونا زیادہ شدت اختیار کرسکتا ہے: ماہرین

  • جمعرات 14 / مئ / 2020
  • 4800

پاکستان میں مجموعی طور پر 36 ہزار 717 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ کورونا سے 788 اموات ہوئی ہیں۔ دنیا میں کورونامتاثرین کی تعداد 43 لاکھ 70 ہزار جبلہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک میں 1332 نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران 33 مریض چل بسے۔ خیبر پختونخوا  میں 275 اموات  ہوچلی ہیں جو تمام صوبوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔ اپنی ٹوئٹ میں ظہور بلیدی نے کہا کہ اُن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ لہذٰا اُنہوں نے خود ساختہ تنہائی اختیار کر لی ہے۔

افغانستان میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 413 کیسز کے ساتھ مریضوں کی کل تعداد 5639 ہو گئی ہے۔ وزارتِ صحت کے نائب وزیر ڈاکٹر واحداللہ مجروح نے کابل میں جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کابل میں ایک روز میں 188کیسز کا اندراج ہوا۔ انہوں نے اس اضافے کی وجہ لوگوں کی شہروں کی طرف واپسی کو قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر مجروح نے کہا کہ اب تک کرونا وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 136 ہو گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاک ڈاؤن کے جلد خاتمے کے نتیجے میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کورونا کا علاج ملیریا کی دوا کلورو کوئن کے معاملے پر اختلاف کرنے والے ڈاکٹر رک برائٹ آج امریکی ایوانِ نمائندگان میں اپنا بیان دیں گے۔ ڈاکٹر رک برائٹ کا کہنا تھا کہ اُنہیں اس لیے برطرف کر دیا گیا تھا کیوں کہ وہ حکومت کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی میں سائنس کو بنیادی فوقیت دینے پر اصرار کرتے رہے تھے۔

ایوان نمائندگان کی صحت سے متعلق ذیلی کمیٹی میں اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہیے کہ ہم کس قسم کی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں دنیا کے بہترین سائنس دان موجود ہیں۔ لہذا انہیں کورونا وائرس کے خلاف مہم کی قیادت کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر رک برائٹ کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے اراکین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی کیا ہے جس سے اب تک امریکہ میں 84,000 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ کورونا وائرس اس سال موسم خزاں میں دوبارہ زور پکڑے گا جس سے اس سے نمٹنے کا چیلنج مزید مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے ساتھ ساتھ موسمی نزلہ زکام بھی پیدا ہو گا۔

اُن کے بقول اس وقت ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر شدید دباؤ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سمیت دیگر طبی ماہرین نے جو اقدامات تجویز کیے ہیں ان پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت عمل کیے بغیر 2020 کا موسم سرما امریکی تاریخ کے بدترین موسم کا روپ اختیار کر سکتا ہے۔