حساس معاملات پر سیاست نہ کی جائے: وزیر اطلاعات شبلی فراز
- جمعرات 14 / مئ / 2020
- 4880
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپوزیشن سے کہا ہے کہ ایسے معاملات پر بات نہ کریں جس سے قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ ملک کو اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ وہ سینیٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔
عالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق ملکی پالیسی پر تبادلہ خیال کے لیے سینیٹ اجلاس ہوا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے صدارت کی۔ اجلاس کے آغاز پر کچھ سینیٹرز کی ذاتی وجوہات پر عدم شرکت کی درخواست منظور کی گئی اور افغانستان میں حملے کے نتیجے میں بچوں کی موت کی مذمت کی گئی۔ اس موقع پر سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہمارا جی ڈی پی مشکل سے 300 ارب ڈالر ہے، ہمارے کیسز 30 ہزار سے تجاوز کرگئے ہیں، اموات 700 کے قریب ہیں۔
شبلی فراز نے کہا کہ قرضوں میں ڈوبے ہمارے ملک میں ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں جتنے بڑے بحران کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ پالیسی بنانے میں سب سے پہلے توجہ کے مستحق یومیہ اجرت کمانے والے، ریڑھی لگانے والے، رکشے والے لوگ ہوتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان فلاحی سوچ رکھتے ہیں۔ حکومت کی حکمت عملی وبا سے نمٹنے کے ساتھ غریب لوگوں کی بھوک بھی دور کرنے پر مبنی ہے۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت نے تمام صوبوں کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس کسی کے ساتھ امتیازی رویہ نہیں روا رکھا۔ وفاق، کورونا وائرس بحران پر سیاست نہیں کرنا چاہتا اور اپوزیشن الزام تراشیاں کر رہی ہے۔ حکومت نے تمام صوبوں کو حفاظتی سامان اور رقم فراہم کی ہے۔
شبلی فراز نے اپوزیشن کو تجویز دی ہے کہ حساس معاملات کو سیاسی فائدوں کے لیے نہ اٹھائیں۔ ایسے معاملات پر بات نہ کریں جس سے قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچے، ملک کو اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے وبا سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کے بارے میں بتانے کا کہا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے متعدد سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا اپوزیشن کا کوئی اپنا پلان ہے، کیا وہ کرفیو چاہتے ہیں، جب اپوزیشن نے اجلاس طلب کیا تو انہوں نے شرکت کیوں نہیں کی۔ اپوزیشن جماعتوں کو خود کو ’سیاسی انتقام کا نشانہ‘ ظاہر کرنے کے بجائے ان سوالات کا جواب دینا چاہیے۔
ان سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس روز پاکستان میں وبا پھیلی تو ایک افراتفری پھیل گئی۔ اجلاس میں صرف کورونا وائرس کے بارے میں بات کرنے کا کہا گیا اب تو بچے بچے کو معلوم ہے کہ کورونا کیا ہے۔ وزیراعظم نے کورونا وائرس سے متعلق اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ حکومت سے اپیل ہے کہ قومی اتفاق رائے پیدا کرے۔
انہوں نے کہا ’حکومت شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور سراج الحق سمیت دیگر رہنماؤں سے بات کرے۔ ہمیں اپنا دشمن کیوں سمجھتے ہیں۔
سینیٹرسراج الحق کا کہنا تھا کہ ’اللہ کی سنت ہے کہ جب عذاب آتا ہے تو اس میں برے لوگوں کے ساتھ وہ مسلمان جو برائی کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے وہ بھی اس کا شکار ہوتے ہیں‘۔ اس وبا کی وجہ سے کچھ کمزوریاں سامنے آئی ہیں، پہلی بار ہمیں معلوم ہوا کہ 22 کروڑ عوام کے لیے صرف 13 سو وینٹی لیٹرز ہیں اور اس وبا کے دوران بھی ہماری قیادت ایک پیج پر نہیں آسکی۔
کہنے کو تو سب نے ماسک لگائے ہیں مگر اپنی زبان کو لگام نہیں دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک اور چیز جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارا بجٹ سوشل سیکٹر پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ انتظامی معاملات پر خرچ ہوتا ہے‘۔