کابل اسپتال پر حملہ طالبان نے نہیں، داعش نے کیا تھا: امریکہ

  • جمعہ 15 / مئ / 2020
  • 3900

امریکہ نے افغانستان کے درالحکومت کابل میں زچہ و بچہ اسپتال اور ننگرہار صوبے میں ایک جنازے پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار شدت پسند گروپ داعش خراسان کو ٹھہرایا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے طالبان نے نہیں کیے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے یہ بات اپنی متعدد ٹوئٹس میں ایک ایسے وقت کہی ہے کہ جب افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں اسپتال اور ننگر ہار صوبے میں ایک جنازے پر ہونے والے خود کش حملوں کے بعد فوج کو طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔  زلمے خلیل زاد نے افغان عوام پر زور دیا ہے کہ وہ شدت پسند گروپ کی چال میں نہ آئیں اور امن کے حصول کی لیے متحد ہو جائیں۔

جمعرات کے روز خلیل زاد نے ٹوئٹس میں کہا کہ داعش افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے خلاف ہے اوروہ عراق اور شام کی طرح افغانستان میں بھی فرقہ وارانہ جنگ کو ہوا دینا چاہتی ہے۔ خلیل زاد نے افغان حکومت اور طالبان پر زور دیا کہ انہیں داعش خراسان کے پھیلائے گئے جال میں پھنس کر افغان امن عمل میں تاخیر اور امن کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی بجائے اس عفریت کو کچلنے اور امن کے تاریخی موقع کے حصول کے لیے متحدہ ہونا چاہیے۔

یادر ہے کہ شدت پسند گروپ داعش سے منسلک ایک گروپ نے ننگر ہار صوبے میں ایک پولیس عہدیدار کے جنازے پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تاہم کابل میں زچہ و بچہ اسپتال پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔ طالبان نے بھی ان دونوں حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ لیکن افغان حکومت نے طالبان پر ایسے گروپوں کے ساتھ مل کر حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے جو ان دہشتگرد حملوں میں ملوث تھے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغان سیکیورٹی فورسز کو طالبان کے خلاف جارحانہ حملے تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کے خصوصی نمائندے خلیل زاد کی طرف سے شدت پسند گروپ داعش کو حالیہ حملوں کا ذمہ دار قرار دینے کا مقصد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدگی اور تناؤ کو کم کرنا ہے۔ جو افغان امن عمل کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔