عمران خان نے جو کہا تھا دنیا آہستہ آہستہ وہیں پہنچ رہی ہے: اسد عمر
- جمعہ 15 / مئ / 2020
- 4830
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو کہا تھا دنیا آہستہ آہستہ وہیں پہنچ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے سب سے زیادہ اثرات غریبوں پر مرتب ہوں گے اور اب دیگر ممالک کو بھی یہ احساس ہورہا ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ 3 دن سے ہونے والے اجلاس میں کچھ تقاریر میں سیاسی جگت بازی کے علاوہ کچھ نہیں تھا تاہم کچھ سنجیدہ باتیں بھی کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق متضاد رائے بھی پائی جاتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے کہا کہ 6 ہفتے کے لیے سب بند کردیتے تو کورونا ہی ختم ہوجاتا اور دوسری رائے یہ ہے کہ وبا نے پھیلنا ہے اور ڈر کر زندگی گزارنے سے فائدہ نہیں ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ 6 ہفتوں کا لاک ڈاؤن اتنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک میں جب سخت لاک ڈاؤن کو کھولا گیا تو کیسز میں دوبارہ تیزی آنا شروع ہوگئی۔
اسد عمر نے کہا کہ جب تک ویکسین دریافت نہیں کی جاتی تب تک ہمیں اس وبا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو کہا تھا دنیا آہستہ آہستہ وہیں پہنچ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے سب سے زیادہ اثرات غریب افراد پر مرتب ہوں گے اور اب دیگر ممالک کو بھی یہ احساس ہورہا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان مغرب کی اندھی تقلید نہیں کرے گا۔ ملک میں بہترین ڈاکٹرز اور ماہرین ہیں جو حکومت کی مدد کررہے ہیں۔
گزشتہ مہینوں میں ملک کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹے میں 13 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ ابتدائی طور پر ملک میں صرف 2 لیبارٹریز کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرسکتی تھیں لیکن اب 70 ٹیسٹگ لیبارٹریز موجود ہیں۔ اسد عمر نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے اس بحران کے وقت میں ڈاکٹروں اور طبی عملے، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انتظامیہ اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام افراد نے پچھلے 2 ماہ میں جو محنت کی اس وجہ سے صورتحال بے قابو نہیں ہوئی۔
اسد عمر نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) ہفتے کے 7 دن کام کررہے ہیں اور انہیں 31 مارچ سے کوئی چھٹی نہیں ملی۔ اس وقت فوج کے ہزاروں نوجوان ہمیں سپورٹ کررہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے دیگر محکمے جو تعاون پیش کررہے ہیں ہم ان کے مشکور ہیں۔
اس سے پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں وبا تیزی سے پھیلنے کے باوجود لاک ڈاؤن کھول دیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا ایک بھیانک وبا کا سامنا کررہی ہے جس نے پوری دنیا کی معیشت اور معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور کئی لحاظ سے انسانیت اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آنے والے دنوں میں زیادہ خطرہ ہے کیونکہ وبا کا عروج مئی کے آخر سے ستمبر کے درمیان کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہیں جہاں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور ملک میں لاک ڈاؤن کھول دیا ہے اور لوگوں کو بازاروں، سڑکوں پر کھلے اجتماع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی کیا ہے؟ شاہد خاقان عباسی نے حکومت سے بار بار پوچھا کہ کوئی ایک صفحہ بتادیں، کیا اس ایوان کا یہ استحقاق نہیں تھا کہ بحث شروع ہونے سے قبل ہمارے پاس حکومت کی حکمت عملی کی کاپی ہوتی تاکہ ہم اسے پڑھتے اور اس پر رائے دیتے لیکن یہاں اجلاس کے ایجنڈا کے علاوہ کچھ موجود نہیں۔ میں حکومت سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ان کے پاس کوئی معاشی، زرعی یا خارجہ پالیسی ہے؟ صرف ایک پالیسی ہے کہ اپنے چہیتوں اور سوشل میڈیا کے جیالوں کو جو اپوزیشن کو گالیاں دیتے ہیں انہیں وزارتیں بانٹی جائیں۔