پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود فضائی سروس بحال کردی گئی
- ہفتہ 16 / مئ / 2020
- 4390
پاکستان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 847 ہو گئی ہے۔ متاثرین کی تعداد39 ہزار 473 ہے تاہم ملک بھر میں آج سے اندرون ملک فضائی آپریشن بحال گیا ہے۔ دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی بحال کی جارہی ہے۔
دنیا میں اس وقت کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 46 تک پہنچ رہی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس وائرس سے مرنے اور بیمار ہونے والوں کی ایک تہائی تعداد کا تعلق امریکہ سے ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان 18 مئی کو کورونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس کی سماعت کرے گی۔ سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد بینچ کی سربراہی کریں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس سجاد علی شاہ کی عدم دستیابی پر جسٹس مشیر عالم اور جسٹس سردار طارق مسعود کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔ جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس قاضی امین بدستور بینچ کا حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز، سیکریٹری صحت اور چیف سیکریٹری صاحبان کو نوٹسز جاری کئے ہیں۔
وفاقی اور پنجاب حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔ وفاق کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں قومی رابطہ کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں بارے عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے۔
وفاق کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعمیراتی سیکٹر کے فیز ٹو کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شاپنگ مالز، شادی ہالز 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے چھوٹے کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس قبل ہونے والی سماعت میں عدالت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔
بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہو گئی ہے جب کہ وائرس کے پھیلاؤ کے سبب ممبئی کے اسپتالوں میں صورتِ حال قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 85 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ جس کے بعد ملک میں مریضوں کی تعداد چین سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جہاں وائرس سے لگ بھگ 84 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔
بھارت کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گو کہ ملک میں کیسز بڑھ رہے ہیں، لیکن لاک ڈاؤن کے باعث وائرس کے پھیلاؤ میں بھی کمی آئی ہے۔ بھارت کے کاروباری طبقے، ورکنگ کلاس اور ریاستوں کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی پر لاک ڈاؤن اٹھانے اور معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا عندیہ دے دیا ہے۔
کیسز میں اضافے کے باوجود بھارت میں اموات کی شرح چین کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ بھارت میں اب تک وائرس سے 2752 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ چین میں 4600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔