یہ ہاتھ سلامت رہیں

  • تحریر
  • ہفتہ 16 / مئ / 2020
  • 7880

کرونا وائرس کے ہاتھوں  اچانک لاک ڈاؤن  سے  روزانہ کی کمائی  پر انحصار کرنے  والے  لاکھوں خاندان اچانک غذائی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہم ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے ٹرسٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم  بیس لاکھ خاندانوں کو راشن  اور روزانہ ایک لاکھ افراد کو کھانا فراہم کریں گے۔ 

 مارچ  میں سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی کراچی کی ایک معروف فلاحی تنظیم ویلفئییر سیلانی ٹرسٹ  نے لاکھوں خاندانوں کو بھوک سے بچاؤ کے لئے  اپنی  کوششیں  کا اعلان کیا۔ کہنے کو کتنا آسان اور بھلا لگتا ہے کہ  بیس لاکھ خاندانوں کو راشن فراہم کریں گے مگر اس  کے حجم اور انتظامات کے لئے کاغذ قلم پکڑ کر حساب کتاب کریں تو ذہن چکرا جائے۔ اس  پرمستزاد ایک لاکھ افراد کو تین وقت کا تازہ کھانا فراہم کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔  سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ کے مولانا بشیر  احمد  فاروقی نے جب یہ اعلان کیا تو ان کے ایک  بہی خواہ اور  معاون کراچی کے معروف سوشل ورکر  دوست  محمود ارشد نے ان سے رابطہ کرکے اپنی پریشانی ظاہر کی، مولانا اتنا بڑا فلاحی پروجیکٹ اور وہ بھی یوں کھڑے پیر،  اتنی بڑی ذمہ داری! کیسے  کر پائیں گے؟  مولانا بشیر فاروقی  نے بڑے پرسکون  انداز میں جواب دیا، ہم نے مالیاتی اور سپلائی کے انتظامات کا بندوبست کرکے ہی اعلان کیا ہے۔ ایسا نہیں کہ اعلان کرکے سرمایہ اکٹھا کرنے نکلیں گے۔ اپنے بہی خواہ کو مزید اطمینان دلانے کے لئے انہوں نے  بتلایا کہ ان کے اس اعلان کے پیچھے جن مخیر حضرات کا  تعاون  شامل ہے ان میں فلاں کاروباری ادارے کی جانب سے ایک ارب روپے کی خطیر امداد بھی شامل ہے۔ اللہ کارساز ہے۔ 

کرونا وائرس کی افتاد پاکستان میں وارد ہوئی تو حکومتی امداد  کے علاوہ  بہت سی نمایاں  فلاحی تنظیمیں میدان میں نکل آئیں۔ سیلانی ٹرسٹ کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت، جماعت اسلامی کی الخدمت سمیت درجنوں فلاحی تنظیمیں سرگرم عمل ہوگئیں۔ اخوت نے ایک قدم اور بڑھایا اور ایک بڑے کاروباری ادارے کے ساتھ مل  کر قرضِ حسنہ پروگرام بھی شروع کر دیا۔ اتفاق سے رمضان المبارک کی بھی آمد آمد تھی جس میں عموماٌ  زکوٰۃ اور صدقات  دینے کا تناسب کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کے دوران  معروف فلاحی ہسپتالوں، تھیلیسیمیا مریضوں سمیت  فلاحی تنظیمیں  امداد کے لئے ہم وطنوں سے درخواست گزار ہوتی ہیں۔ 

کرونا وائرس  نے جس طرح دنیا بھر کی اکونومی اور روزمرہ کے معمولات  کو یکدم جام کر دیا، اسی طرح پاکستان کے معاشی اور معاشرتی معمولات کو بھی درہم برہم کرکے جام کر دیا۔ لاکھوں کروڑوں افراد  روزانہ کی محنت اور  مشقت  سے اپنی روزی کماتے ہیں۔  دیہاڑی دار کی دیہاڑی نہ لگے تو اس کا  اس  دن کا روزگار  ضائع ہو جاتا ہے۔ حکومت کے لئے بھی یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا کہ کس طرح ایسے افراد  کی نشاندہی ہو، ان تک پہنچا جا سکے اور وسائل بہم ہوں کہ  ایسے خاندانوں کی  امداد کرکے انہیں بے روزگاری اور آمدن ختم ہونے کے اثرات  کا ازالہ کیا جاسکے جس کی عملی صورت بعد میں احساس پروگرام کے ذریعے سامنے آئی۔ حکومتیں کتنی بھی بااثر  اور امیر ہوں، ان کی ایک  حد ہوتی ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیموں اور مخیر خواتین و حضرات  کی  ضرورت رہتی ہے کہ وہ ضرورت مندوں کے قریب ترین اور فوری متحرک ہو سکتے ہیں ۔

پاکستان ان نمایا ں ممالک میں شامل ہے جہاں فلاحی کاموں کے لئے  دل کھول کر عطیات دئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں انسانی خدمت کا جائزہ لینے والے ایک ادارے  کے   جائزے کے مطابق  پاکستان  میں جی ڈی پی کا لگ بھگ سالانہ  ایک فی صد فلاحی کاموں کے لئے عطیات دئے جاتے ہیں۔  برطانیہ میں یہ شرح  جی ڈی پی کا  1.3%  ہے جبکہ کینیڈا میں یہ شرح  1.2%   ہے،    یوں پاکستان کا ریکارڈ امیر ممالک کے  تقریباٌ برابر ہے۔ اسی پیمانے پر پاکستان میں فلاحی کاموں کے لئے عطیات کی شرح بھارت سے دوگنا ہے۔ عطیات  میں  دینی فریضے کے طور پر ادا کی جانے والی زکوٰۃ کا حجم سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ صدقات، فطرانہ اور عمومی مالی امداد  دینے میں بھی پاکستان کا شاندار ریکارڈ ہے۔

دور کیا جانا،   گزشتہ ایک دِہائی کے دوران زلزلے اور  سیلاب کی تباہ کاریوں کے  نتیجے میں ہونے والے نقصان اور ضروریات  کے لئے قوم میں مدد کا مثالی جذبہ سامنے آیا۔ اید ھی فاؤنڈیشن، چھیپا، عالمگیر  ویلفئیر ٹرسٹ، امن فاؤنڈیشن، فاؤنٹین ہاؤس،  چوہدری رحمت علی ٹرسٹ   سمیت درجنوں ایسی فلاحی تنظیمیں ہیں جن  کی  سال ہا سال کی کارگزاری  پر لوگوں کا اعتماد ہے اور وہ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔  تعلیم  اور صحت کے  میدان میں بھی بہت نمایاں تنظیمیں ہیں جو عرصے سے سرگرم عمل ہیں اور لاکھوں افراد کی خدمت میں مصروف ہیں۔  دینی فریضے  کے طور پر مساجد اور مدارس ان عطیات کی خصوصی توجہ کے حامل رہتے ہیں۔زیادہ تر عطیات انفرادی  حیثیت میں ضرورت مند افراد کو  دئے جاتے ہیں، تاہم گزشتہ کئی سالوں  سے فلاحی تنظیموں  کو عطیات  دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی فلاحی کاموں کے لئے عطیات تنظیموں کو دینے کا چلن عام ہے۔ فلاحی کام انجام دینے والی ان تنظیموں کا سائز  بسا اوقات اربوں  ڈالرز تک  جا پہنچتا ہے۔ ان کا پھیلاؤ اور وسعت  عموماٌ کسی بڑی انٹر نیشنل کمپنی کی مانند ہوتا ہے۔ فلاحی کاموں کا دائرہ کار اس قدر وسیع ہے کہ دنیا کی معروف یونی ورسٹیوں میں فلاحی تنظیموں کی مینیجمنٹ پر خصوصی ڈگری کورسز کروائے جاتے ہیں۔  ان اداروں  کو  جہاں اپنے فلاحی کاموں  کو تسلسل سے جاری رکھنے کے لئے مسلسل سرمائے کی فراہمی ضروری ہے وہیں بہترین انتظامی صلاحیتیوں  اور شفافیت کی بھی ضرورت رہتی ہے۔

افراد تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اداروں کو  پائیدار  بنانے  اور مستقل بنیاد فراہم کرنے کے لئے فلاحی کاموں کے لئے قائم تنظیموں میں بھی بہترین  انتظامی  صلاحیتوں، آمدنی کے کچھ مستقل ذرائع   انفرادی  چھاپ سے بلند ہو کر ادارہ سازی  اور شفافیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بہت سی عمدہ کام کرنے والی فلاحی تنظیمیوں کا انفرادی چھاپ اور اثرات  سے  نکل کر  اپنے کام کو  ادارہ جاتی  کرنے  کا ریکارڈ ملا جلا ہے۔ ضرورت ہے کہ  فلاحی کاموں کے لئے دامے درمے سخنے حصہ ڈالنے کی اس روایت اور عمل کو  بہترین انتظامی اور پائیدار  اداروں  کی  صورت دینے کے عمل کی  سرکاری اور نجی سطح پر  حوصلہ افزائی  کی جائے۔ یوں  شفافیت، اعتماد اور مقاصد سے جڑے یہ ادارے آفات  اور عام دنوں میں قوم کے لئے ایک نعمت  ثابت ہوتے رہیں گے۔ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!