صدر ٹرمپ نے ویکسین تیار کرنے کا کام تیز کرنے کا حکم دے دیا

  • اتوار 17 / مئ / 2020
  • 4230

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ویکسین کی تیزی سے تیاری پر خصوصی توجہ دییں۔ جمعہ کے روز وائٹ ہائوس میں 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کا اعلان کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ سال کے آخر تک ویکسین آ جانی چاہیے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ''ویکسین آئے یا نہ آئے ملک کو بہرحال دوبارہ کھول دیا جائے گا''۔ ان کی انتظامیہ نے اس ہفتے اس بات کو یقینی بنانے کے منصوبے بھی تیار  کئے ہیں کہ امریکہ میں اہم نوعیت کے طبی ساز و سامان کی کمی نہ ہونے پائے۔ نامہ نگار پیٹسی ودکسارا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ جنوری 2021 تک کروڑوں کی تعداد میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار ہو جائے۔

پبلک ہیلتھ کے بیشتر ماہرین سمجھتے ہیں کہ شاید ویکسین کی تیاری کے لئے دی گئی مدت میں یہ ممکن نہ ہو۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے جو زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، جیسا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز یا ضعیف العمر افراد، ان کے لئے ہنگامی طور ہر استعمال کے لئے یہ ویکسین تیار کر لی جائے۔ پالیسی سینٹر کے چیف میڈیکل ایڈوائزر آنند پاریکھ کہتے ہیں کہ ہر کام کو انتہائی مہارت سے کرنا ہو گا۔

 ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک عام پبلک کا تعلق ہے ان کے استعمال کے لئے ویکسین کی تیاری کے لئے میرے خیال میں اگر سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے، تو 18 مہینے کی مدت درکار ہو گی۔ ایک ایسے وقت میں جب نومبر میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، ٹرمپ ملک کو کھولنا اور معیشت کا پہیہ دوبارہ چالو کرنا چاہتے ہیں۔

صدر نے کہا ہے کہ ''ویکسین ہو یا نہ ہو ہم واپس آ رہے ہیں۔ ہم ملک کھولنے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔ اور بہت سی صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ویکسین بھی نہیں ہوتی۔ اور کوئی وائرس یا فلو آتا جاتا رہتا ہے۔ اور آپ اس سے نبردآزما ہو کر آگے نکل جاتے ہیں''۔

ٹرمپ نے احتجاج کرنے والوں کی حمایت کا اظہار کیا جو چاہتے ہیں کہ انفرادی طور پر ریاستیں گھر کے اندر رہنے کے حکم کو واپس لیں اور ان کی معیشتوں کو کھول دیں، حالانکہ ان میں سے بہت سی ریاستیں اس معیار پر پوری نہیں اترتیں، جو خود ان کی حکومت کے مقرر کردہ اور انہیں کھولنے کے لئے لازمی ہیں۔

ان میں سے بعض وہ ہیں جنہیں ریڈ اسٹیٹس کہا جاتا ہے، جنہوں نے دو ہزار سولہ میں ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جن ریاستوں کو قبل از وقت کھول دیا گیا اور وہاں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہوا، تو صدر ٹرمپ کو اس کا سیاسی طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔