پاکستان میں کورونا وائرس سے 20 سے 40 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر

  • اتوار 17 / مئ / 2020
  • 4470

ملک میں 40ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کا شکار ہونے والوں کی عمریں 20 سے40 کے درمیان ہیں۔

پاکستان میں ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب یومیہ 14ہزار ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 39 افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں مجموعی اموات 875 ہو گئی ہیں۔ دنیا میں اس وقت 46 لاکھ 50 ہزار افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ 3 لاکھ 12 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 4055 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1352 مزید کیسز کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکہ میں وبا سے متاثر افراد کی تعداد 14لاکھ 67 ہزار ہو چکی ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 89 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ویکسین کی تیزی سے تیاری پر خصوصی توجہ دیں۔

روس میں بھی متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور 2 لاکھ 72 ہزار افراد میں وبا کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکہ اگلے ہفتے سے فوجی ٹرانسپورٹ کو ذریعے روس کو 200 وینٹی لیٹر تحفے میں بھجوا رہا ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 85ہزار  ہوگئی ہے جب کہ 2872 مریض وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے امریکی رہنماؤں اور انتظامیہ کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے اقدامات پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک آن لائن  تقریب سے خطاب میں براک اوباما نے کہا کہ وبا سے واضح ہوگیا کہ کئی حکام تو یہ تک ظاہر نہیں کر رہے کہ وہ کسی منصب پر موجود ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر نے 'ہسٹوریکل بلیک کالجز اینڈ یونیورسٹیز' کے کامیاب ہونے والے طلبہ سے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر پر دو گھنٹے کا خطاب کیا۔ غیر متوقع طور پر وہ کئی سیاسی موضوعات کو بھی زیر بحث لائے۔انہوں نے کئی حالیہ واقعات کا ذکر بھی کیا جب کہ وبا سمیت دیگر امور کا معاشرے اور معاشی حالات پر اثرات کا حوالہ دیا۔

سابق صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ سب سے اہم یہ ہے کہ وبا نے اس خیال کا پردہ چاک کر دیا ہے کہ کئی لوگ جن کے پاس ذمہ داریاں ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ تاہم کئی ایسے ہیں جو یہ ظاہر بھی نہیں ہونے دے رہے کہ ان پر کوئی ذمہ داری ہے۔