کورونا وائرس: پاکستان میں متاثرین کی تعداد 42 ہزار 227، اموات 899 ہوگئیں

  • سوموار 18 / مئ / 2020
  • 4550

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 42 ہزار 227 ہوگئی ہے جبکہ اموات 899 تک جا پہنچی ہیں۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 47 لاکھ 88 ہزار اور اموات تین لاکھ 16 ہزار تک پہنچ گئیں۔

سرکاری سطح پر کورونا وائرس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق  مئی کی سہ پہر تک ملک میں 927 مریضوں کا اضافہ ہوا۔  ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری، 2020 کو کراچی میں سامنے آیا تھا جس کے ساتھ ہی اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئی اور بعدازاں لاک ڈاؤن بھی نافذ کیاگیا تھا۔

ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ بھی ہے اور 16 مئی کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کا پہلا کیس آنے کے بعد سے ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں 30 گنا اضافہ کیا گیا اور ہفتے کو ایک ہی روز میں ریکارڈ 14 ہزار 878 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ آج بھی ملک میں کورونا وائرس کے متعدد متاثرین سامنے آئے ہیں۔

روس میں 71 لاکھ افراد کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ امریکہ میں ایک کروڑ 18 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔  روس میں کورونا متاثرین کی تعداد پونے تین لاکھ سے زیادہ ہے۔ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے روس امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ بھارت میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 90 ہزار 927 تک پہنچ گئی ہے۔ وائرس سے ہلاکتیں کی تعداد 2872 ہو گئی ہے۔

بھارت میں ایک روز کے دوران کورونا وائرس کے پانچ ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں متاثرین کی تعداد 96 ہزار 169 تک پہنچ گئی ہے۔ بھارت کے وزیرِ صحت نے پیر کو کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتِ حال بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں پانچ ہزار 242 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک روز کے دوران کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

بھارت میں ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب حکومت نے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے کے لیے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں جس کا اطلاق 31 مئی تک رہے گا۔ بھارت میں لاک ڈاؤن میں بدستور نرمی کی جا رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں ریاستوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کورونا سے متاثرہ علاقوں میں کس قسم کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اختیار دیتی ہیں۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے متاثرہ علاقوں کو مختلف زون میں تقسیم کر دیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان لگ بھگ دو ماہ بعد دو طرفہ تجارت بحال ہو گئی ہے۔ پیر سے طورخم اور چمن کی گزرگاہوں کے ذریعے سامان سے لدے درجنوں ٹرک اور ٹرالرز دونوں جانب سے اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔  اسی طرح پشاور سے لنڈی کوتل اور لنڈی کوتل سے میچنی چیک پوسٹ تک پھنسنے والی گاڑیاں بھی طورخم کی طرف روانہ ہو گئی ہیں۔

کورونا وائرس کے باعث پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کا سلسلہ گزشتہ ماہ کے وسط میں روک دیا تھا۔ بعد ازاں افغان حکومت کی درخواست پر وزیرِ اعظم عمران خان نے محدود پیمانے پر پاکستان سے برآمدات، کراچی کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحد پار افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے سامان رسد شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے مطابق ہفتے میں تین دن طورخم اور چمن کی گزرگاہوں کے ذریعے صرف پاکستان سے برآمدات کی اجازت تھی جب کہ افغانستان سے ہر قسم کی درآمدات مکمل طور پر بند تھی۔