افغانستان میں شراکتِ اقتدار کا معاہدہ ہوگیا

  • سوموار 18 / مئ / 2020
  • 4750

افغانستان میں صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکتِ اقتدار کا ایک معاہدہ ہو گیا ہے۔  معاہدے کے مطابق عبداللہ عبداللہ صدر کے بعد ملک میں دوسرا اہم ترین عہدہ سنبھالیں گے۔

عبداللہ عبداللہ  کابینہ میں 50 فی صد ارکان کی تقرری کے لیے بھی نام دیں گے جن میں اہم وزارتیں بھی شامل ہوں گی۔  عبداللہ عبداللہ گورنروں کی تقرری کے لیے نظام وضع کرنے میں بھی مدد دیں گے اور نئی قومی افہام و تفہیم کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے طالبان کے ساتھ امن عمل اور مستقبل کے مذاکرات کی قیادت بھی کریں گے۔

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے صدر اشرف غنی اور قومی مفاہمتی ہائی کونسل کے نئے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کو ٹیلی فون کر کے معاہدے پر مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ موقف رہا ہے کہ سیاسی تصفیہ ہی تنازع کو ختم کر کے بین الافغان مکالمے کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے انتخابات کے بعد اس کے نتائج کے حوالے سے اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ اور فروری میں دونوں نے صدارت کا الگ الگ حلف اٹھا لیا تھا اور اپنی متوازی حکومتوں کا اعلان کر دیا تھا۔ اس وقت سے ملک شدید سیاسی بحران کی زد میں تھا اور امریکہ سمیت تمام متعلقہ فریق دونوں کے درمیان صلح اور شراکت اقتدار کا کوئی معاہدہ کرانے کے لیے کوشاں تھے۔

علاوہ ازیں ایک طاقتور ازبک لیڈر اور سابق نائب صدر عبدالرشید دوستم کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے مارشل کا عہدہ دے دیا گیا ہے جو افغان فوج میں سب سے بڑا عہدہ ہے۔ 2016 میں ایک سیاسی حریف نے دوستم پر، جو کہ حقوق انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں، الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انہیں زدو کوب کیا۔ جس کے بعد دوستم ترکی فرار ہو گئے تھے۔ ایک سال وہاں قیام کے بعد عبداللہ عبداللہ کے ساتھی کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کے لیے افغانستان واپس آئے۔

امریکہ نے افغانستان میں کسی سیاسی تصفیے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے 2020 میں افغانستان کی امداد میں ایک ارب ڈالر کی کمی کر دی تھی اور کہا تھا کہ اگر دونوں فریق کوئی سمجھوتہ نہ کر سکے تو امداد میں مزید ایک ارب ڈالر کی کمی کر دی جائے گی۔  دونوں سیاسی حریفوں کے درمیان اس معاہدے پر ماہرین اور تجزیہ کاروں کا وہاں مستقبل میں قیامِ امن کے حوالے سے ردِ عمل مختلف ہے۔

جرمنی میں مقیم ممتاز افغان صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر حسین یاسا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس لحاظ سے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ اب افغان حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر ایک مضبوط پوزیشن میں جائے گی۔ اور طالبان افغان حکومت کے درمیان اس خلفشار سے، جو معاہدے سے پہلے تھا، فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان کا رویہ جارحانہ نظر آتا ہے۔ انہیں ملک میں قیامِ امن کے لیے اپنے رویے کو تبدیل کرنا ہو گا کیونکہ اگر ملک میں تشدد کا گراف نیچے نہ آیا تو پھر امریکہ کے ساتھ ان کے معاہدے یا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا کیا فائدہ ہو گا۔

برطانیہ میں مقیم ایک اور افغان صحافی اور تجزیہ کار میرویس افغان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے حالات مزید الجھ سکتے ہیں اور اقتدار میں ایک نئی رسہ کشی شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طالبان عقل سے کام لیں اور اس جمہوریت کو قبول کر کے تشدد کی راہ ترک کر دیں تو انہیں عام لوگوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی جو تشدد اور حکومت کے اندر رسہ کشی سے عاجز آ چکے ہیں۔ اور یوں ملک میں حقیقی امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے دو بڑے سیاسی حریفوں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان طے پانے والے شرکت اقتدار کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کابل میں افغان سیاسی رہنماؤں کے درمیان جامع حکومت اور قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط کا خیر مقدم کرتا ہے۔