سپریم کورٹ نے ملک بھر میں دکانیں اور شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دے دیا

  • سوموار 18 / مئ / 2020
  • 4220

 سپریم کورٹ میں کورونا ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے انتظامیہ کو دکانیں اور مارکیٹیں سیل کرنے سے روک دیا ہے۔  چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عید کے موقع پر ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کی جائیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا کورونا نے بتایا ہے کہ وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آتا؟ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بذریعہ وڈیو لنک کراچی سے دلائل دیے۔

حکومت اور تاجروں کے درمیان موجود تنازع پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ دکانیں سیل کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل درآمد کرائیں۔ جو دکانیں سیل کی گئی ہیں انہیں بھی کھول دیں۔ تاجروں سے بدتمیزی کرنی ہے نہ رشوت لینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجر کورونا کے بجائے بھوک سے ہی نہ مر جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن چھوٹی مارکیٹوں کو کھولا گیا وہ کونسی ہیں؟ کیا کراچی کی زینب مارکیٹ اور راولپنڈی کا راجہ بازار چھوٹی مارکیٹیں ہیں؟ کیا طارق روڈ اور صدر کا شمار بھی چھوٹی مارکیٹوں میں ہوتا؟ اس پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ شاپنگ مالز کے علاوہ تمام مارکیٹیں کھلی ہیں۔ اس موقع پر کمشنر کراچی نے کہا کہ مالز میں 70 فی صد لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سندھ کو فوری طور پر طلب کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ عید کے موقع پر ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کی جائیں۔ عدالت نے سندھ میں شاپنگ مالز کھولنے سے متعلق ہدایات فوری طلب کر لیں۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت آج سے شاپنگ مالز کھولنے پر غور کر رہی ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ باقی مارکیٹیں کھلی ہوں گی تو شاپنگ مالز بند کرنے کا کیا جواز ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عید پر رش بڑھ جاتا ہے۔ ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں۔ آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں۔ بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوورونا وائرس ہفتے اور اتوار کو کہیں چلا نہیں جاتا۔ کیا کرونا نے بتایا ہے کہ وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آتا؟ کیا ہفتے اور اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے۔ ہفتے اتوار کو مارکیٹیں بند کرنے کا کیا جواز ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ پشاور میں کوئی شاپنگ مال نہیں۔ پشاور میں تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں۔ اسی طرح ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں کوئی بھی شاپنگ مال نہیں ہے البتہ باقی مارکیٹس کھلی ہیں۔ چیف جسٹس نے ملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے اور اتوار کو بھی مالز اور مارکیٹیں بند نہیں ہوں گی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بھی شاپنگ مالز کھولنے کی یقین دہانی کرائی۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی تعمیل کرتی ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد میں مالز کھولنا قومی رابطہ کمیٹی فیصلوں کے برعکس ہوگا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کرونا وائرس کے دوران کتنا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ جس پر نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ممبر نے بتایا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ پرپانچ کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا قرنطینہ مراکز کے لیے نئی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں؟ قرنطینہ مراکز پر اتنا پیسہ کیسے لگ گیا؟

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کورونا کے ایک مریض پر اوسط کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟ کورونا پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں؟ اب تک تقریباً 200 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر آدمی پر 25 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ صرف این ڈی ایم اے کا بجٹ ہے باقی صوبوں اور اداروں کو ملا کر 500 ارب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے ملک میں 500 سے 800 لوگ مر رہے ہیں تو ہم کیا کر رہے ہیں۔ یہ پیسہ ایسی جگہ چلا گیا ہے جہاں سے ضرورت مندوں کو نہیں مل سکتا۔ ایک مریض پر لاکھوں روپے خرچ ہونے کا کیا جواز ہے؟

ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ میڈیکل آلات، کٹس اور قرنطینہ مراکز پر پیسے خرچ ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا اس لیے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے۔ اربوں روپے ٹین کی چارپائیوں پر خرچ ہو رہے۔ مجھے نہیں لگتا کورونا پر پیسہ سوچ سمجھ کر خرچ کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عوام حکومت کے غلام نہیں ہیں۔ عوام پر حکومت نے آئین کے مطابق کرنی ہوتی ہے۔ پاکستان میں غربت بہت ہے لوگ روزانہ کما کر ہی کھانا کھا سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کراچی پورٹ پر اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو باہر نہیں آ رہا۔ لگتا ہے کراچی پورٹ پر پڑا سامان سمندر میں پھینکنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیا کسی کو معلوم ہے دو ماہ بعد کتنی بے روزگاری ہوگی؟ بند ہونے والی صنعتیں دوبارہ نہیں چل سکیں گی۔ سارا الزام این ڈی ایم اے پر آئے گا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ محکمہ صحت میں کالی بھیڑیں موجود ہیں اور محکمہ صحت تمام کالی بھیڑوں کو جانتا ہے۔ سب سے تھرڈ کلاس ادویات سرکاری اسپتالوں میں ہوتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ او پی ڈی میں 100 مریض کھڑے ہوتے اور ڈاکٹر چائے پی رہے ہوتے ہیں۔ کیا کیمرے لگا کر سرکاری اسپتالوں کی نگرانی نہیں ہو سکتی؟

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تمام سرکاری اسپتالوں کے ہر کمرے میں کیمرے لگائیں۔ جس پر سیکریٹری صحت نے یقین دہانی کروائی کہ جہاں جہاں ممکن ہوگا کیمرے نصب کریں گے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ تمام وسائل صرف کورونا پر خرچ نہ کیے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں وسائل خرچ کرنے سے متعلق اپنا موقف دیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا اتنا سنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جا رہی۔ کورونا سے زائد سالانہ اموات دیگر امراض سے ہوتی ہیں۔ این ڈی ایم اے اربوں روپے کورونا سے متعلق خریداری پر خرچ کر رہا۔ عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے این ڈی ایم اے حکام کو نئی ہدایات لے کر آگاہ کرنے کا حکم دیا۔