خطے کے چار ممالک کا افغانستان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
- منگل 19 / مئ / 2020
- 4250
پاکستان، روس، چین اور ایران نے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو تیز کرنے اور بین الافغان مذاکرات جلد از جلد شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چاروں ملکوں کے افغانستان سے متعلق خصوصی نمائندوں نے پیر کو ویڈیو کانفرنس پر منعقدہ اجلاس میں افغانستان میں جامع جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ کانفرنس روس کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کبولوف کی میزبانی میں ہوئی۔ کانفرنس میں افغانستان کے لیے چین کے خصوصی ایلچی لیو جان، پاکستان کے سفیر صفدر حیات اور افغانستان کے لیے ایران کے خصوصی مندوب محمد ابراهیم طاهریان فرد نے نمائندگی کی۔
چاروں ملکوں کا یہ مشترکہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں افغانستان کے حریف سیاسی رہنماؤں افغان صدر اشرف غنی اور عبدللہ عبداللہ کے درمیان شرکت اقتدار کا ایک معاہدے طے پا گیا ہے۔ روس، چین، پاکستان اور ایران نے صدر غنی اور عبداللہ عبدللہ کے درمیان طے پانے والے شراکت اقتدار کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اس اہم پیش رفت سے بین الافغان مذاکرات جلد شروع کرنے میں مدد ملے گی۔
چار ملکوں کے سفارت کاروں نے افغان قیادت اور سرپرستی میں امن و مصالحت کے عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن کا حصول جامع بین الافغان مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ خطے کے اہم ممالک نے افغان تنازع کے تمام فریقوں بشمول طالبان پر زور دیا کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھا کر بین الافغان امن مذکرات کے جلد شروع کرنے کا ماحول بنائیں۔
مشترکہ بیان میں افغٖان حکومت اور طالبان کی طرف سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی کے عمل کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے۔ یادر ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے تحت افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا ٹائم ٹیبل طے ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدون کے تبادلے کے بعد 10 مارچ سے بین الافغان مذاکرات کا بھی آغاز ہونا تھا۔ لیکن قیدیوں کے تبادلے میں سست روی اور افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافے کی وجہ سے یہ عمل تاحال شروع نہیں ہو سکا۔
روس، چین، پاکستان اور ایران کے سفارت کاروں نے افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے منظم اور ذمہ دارانہ انخلا کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ مندوبین نے افغان فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ القاعدہ، داعش اورخطے کے ممالک کے خلاف کام کرنے والی دیگر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سنجیدہ اقدام اٹھائیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ ملک میں منشیات کی تیاری اور منشیات فروشی کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔