اتفاق رائے کی سیاست کا فقدان
- تحریر سلمان عابد
- منگل 19 / مئ / 2020
- 4930
جمہوری سیاست میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان قومی سنگین مسائل پر اتفاق رائے کی سیاست کی بہت زیاد ہ اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ مسائل کا حل ٹکراؤکے مقابلے میں اتفاق رائے سے جڑا ہوتا ہے او ریہ عمل ایک ذمہ دارسیاست کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستان جیسے معاشرو ں میں جہاں سیاست، جمہوریت اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے، وہاں ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے اور ایک دوسرے کی ٹانگین کھینچنے کی سیاست کو فوقیت دینے سے ہم مجموعی طور پر بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔اس طرز کی سیاست کا عملی نتیجہ محاز آرائی اور لعن طعن کی صورت میں نکلتا ہے جو جمہوریت میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔اتفاق رائے کے لئے اہل سیاست شعوری طور پر ذمہ دارطرز کی سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں قوم کرونا کے بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی تناظر میں حزب اختلاف کی درخواست پر قومی، صوبائی اسمبلی، سینٹ کے اجلاس تمام حفاظتی اقدامات کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ یہ اجلاس خاص طور پر کرونا بحران سے نمٹنے کی حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کو سمجھ کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کے تناظر میں حکومت اور حزب اختلاف کی مشترکہ حکمت عملی کو سامنے لانا تھا۔ لیکن نتائج نے ایک بار پھر یہ ہی ثابت کیا کہ ہماری قومی سیاست بدستور سیاسی ناپختگی کا شکار ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس اہم کرونا تناظر میں ہونے والے اجلاس میں ہمیں الزام تراشیوں، لعن طعن، سیاسی شعبدہ بازی، طنزیہ جملوں،مخالفین کے خلاف سخت زبان، بلاوجہ کا سیاسی ماتم، سیاسی شخصیتوں پرکیچڑ اچھالنا اور ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے سے انکار کے گرد گھومتا رہا۔ اگرچہ بلاول بھٹو نے حکومت کو اپنے تعاون کی پیش کش کی، مگر مجموعی طور پر حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے خلاف دست وگریبان ہی نظر آئے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب حکومت ہو یا حزب اختلاف ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو ہی ماننے سے انکار کردیں تو وہاں مفاہمت کی سیاست کیسے اپنی حیثیت منوائے گی۔ حزب اختلاف کے بقول یہ حکومت سلیکٹیڈ یا اسٹیبلیشمنٹ کی حکومت ہے اوراسے کوئی عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں، یہ جعلی حکومت ہے۔ جبکہ حکومت کے بقول حزب اختلاف کی قیادت کرپٹ اور بدعنوان ہے او ران کے ساتھ کسی بھی سطح کی مفاہمت کرپشن کی سیاست سے سمجھوتہ کرنا ہوگا۔یہ ہے وہ بیانیہ ہے جہاں حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں او رایسے میں ہم جیسے لوگوں کی یہ توقع کہ یہ مل کر کچھ کرسکیں گے زمینی حقایق کے برعکس ہے۔کیونکہ حزب اختلاف کا مقصد کرونا بحران سے نمٹنے کی بجائے حکومت پر ایک دباؤ ڈال کر اس بیانیہ کو طاقت دینی ہے کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ کیونکہ حکومت کی ناکامی ہی ان کے سیاسی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے پیش نظر حکومت کی کامیابی کم ناکامی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
حکومت سمجھتی ہے کہ ہم نے اگر حزب اختلاف کو ساتھ ملایا تو جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں وہ ممکن نہیں ہوگا اور حکومت کی کوشش ہے کہ وہ لوگوں کو باور کرواسکے کہ بحران اسی حزب اختلاف کا پیدا کردہ ہے۔حزب اختلاف کے راہنماؤں بلاول بھٹوزرداری، خواجہ آصف، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، شیریں رحمان سب کا پارلیمانی تقریروں میں بنیادی نکتہ یہ ہی تھا کہ حکومت کے پاس کرونا سے نمٹنے کے حوالے سے ایسا کوئی مسودہ یا حکمت عملی نہیں جو ان کی حکومتی پالیسی کی واضح عکاسی کرسکے۔حکومت پر تنقید بجا مگر خود حزب اختلاف پارلیمنٹ میں کیا متبادل خاکہ پیش کرسکی اس کا بھی فقدان دیکھنے کو ملا۔کوئی ٹھوس دستاویز یا تجاویزحزب اختلاف کی جانب سے بھی پیش نہیں کی جاسکیں۔ یہ بات بجا کہ مفاہمت کی سیاست میں حکومت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے اور اسی کو اسی مفاہمت کے ایجنڈے کی قیادت کرنا ہوتی ہے۔ مگر خود حکومت میں ماشااللہ ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مفاہمت کی بجائے مزاحمت پیدا کرکے اتفاق رائے کی سیاست کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے مجموعی طور پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں کا رویہ مایوس کن تھا۔اور لوگوں میں یہ ہی سوچ اور فکر پیدا ہوئی کہ پارلیمنٹ کے یہ اجلاس وقت اور وسائل کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ قائد ایوان سمیت قائد حزب اختلاف کی عدم موجودگی نے بھی یہ ہی ظاہر کیا کہ پارلیمانی سیاست کی کیا اہمیت ہے۔
سیاست میں بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہی ہوتی ہے کہ اہل سیاست مسائل کے حل میں آگے بڑھتے ہیں یا پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اہل سیاست مسائل کو اور زیادہ بگاڑ دینے کی سیاست کرتے ہیں او ریہ ہی وجہ ہے کہ قومی نوعیت کے مسائل پر بھی ہم ایک دوسرے کے خلاف سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔حالانکہ جب تسلیم کیا جارہا ہے کہ ہماری کرونا سے جڑی پالیسی میں ابہام ہے او ریہ فریقین کو تقسیم کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہماری پارلیمانی سیاست سے جڑے تمام فریقین ایک مشترکہ پالیسی کی حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔اگر ان سارے معاملات کوپارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لانا او رکوئی مشترکہ حکمت عملی نہیں اختیار کرنا تو پارلیمانی سیاست کا مستقبل کیا ہوگا؟
بدقسمتی سے جہاں ہماری سیاست او رجمہوری روایات کمزور ہیں وہیں ہماری پارلیمانی سیاست کا طرز عمل بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس میں عملی طور پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں ذمہ دار ہیں او ران کی سیاست نے پارلیمانی سیاست کی اہمیت کو کمز و ر کیا ہے۔ جب وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف سمیت وزرا اور اہم ارکان پارلیمنٹ میں آکر جوابدہ ہونے کے لیے تیار نہیں وہاں پارلیمانی سیاست کے مستقبل پر عملًا سوالات ہی اٹھیں گے۔جن معاشرو ں میں سیاست ایشوز کی بجائے شخصیات اور غیر اہم ایشوز کی بنیاد پر ہوگی وہاں سنجیدہ طرز کی سیاست اور اس سے جڑے مسائل قومی سیاست میں بالادست نہیں ہوتے۔وزیر اعظم حزب اختلاف کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں اور حزب اختلاف ان کو بطور وزیر اعظم قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو ان کا بیٹھنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔
وفاق اور سندھ کے درمیان ٹکراؤ، مفاہمت او رمعاونت کی بجائے الزام تراشیوں کی سیاست ہے۔ اس سے صورتحال خراب ہورہی ہے۔ وفاق اور سندھ کی قیادت تلخیوں کو کم کرنے کی بجائے اس میں اور زیادہ شدت پیدا کرتی نظر آرہی ہے۔ اس بحران میں بلاوجہ صوبائی خود مختاری کا کارڈ بھی کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تمام صوبائی وزرائے اعلی کا وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنا او رپھر اس پر سیاست کرنا المیہ ہے۔سیاست دونوں اطراف سے ہورہی ہے اور سیاست کرنا برا نہیں اگر یہ مثبت سوچ کے ساتھ ہو، لیکن اگر اس میں سو چ منفی ہوگی تو نتائج بھی منفی ہی ہوں گے۔لیکن کیا اہل سیاست کو اس بات کا ادرا ک ہے کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ ان کی اپنی سیاست کو تو فائدہ دے سکتاہے، مگر ان کا رویہ قومی مفادات کے برعکس ہے اور اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔
حزب اختلاف کی جانب سے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حکومت نے لاک ڈاؤن نہیں کیا او راس میں نرمی دکھا کر بحران کو پیدا کیا۔ اصولی طور پر ہم لاک ڈاؤن اور کرفیو کے درمیان فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن نہیں ہواان کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔کیونکہ تمام سرکاری، غیر سرکاری اداروں کی بندش، تعلیمی اداروں کی بندش، مقامی اور دوسرے شہروں میں جانے والی سرکاری و نجی طور پر چلنے والی ٹرانسپورٹ کی بندش، تمام بڑے چھوٹے کاروبار کی بندش، ریسٹورنٹ، جم، باربر شاپس، شاپنگ مالز،کھیلوں کے میدان، پبلک پارکس،بیوٹی پالرسمیت سب کچھ بند تھا، ماسوائے میڈکل اسٹورز او روزمرہ کے کھانے پینے والی دوکانوں کو اجازت تھی۔اگر مسئلہ لوگوں کے باہر نکلنے کا تھا تو پھر واضح مطالبہ کیا جائے کہ لاک ڈاؤن سمیت کرفیو نافذ کیا جائے۔ اس مسئلہ پر بھی ہم حکومت او رحزب اختلاف کو ایک دوسرے کے خلاف سیاست کرتے ہوتے دیکھ رہے ہیں۔اس لیے تمام تر خواہشات کے باوجود ہمیں حکومت او رحزب اختلاف میں اتفاق رائے کی سیاست کے امکانات بہت زیادہ محدود نظر آتے ہیں اور بظاہر لگتا ہے کہ محاز آرائی بھی بڑھے گی اور سیاسی تقسیم بھی۔یہ ہی ہماری قومی سیاست کا المیہ بھی ہے اور بحران بھی۔