کرنل کی بیوی کا کھڑاک

  • جمعرات 21 / مئ / 2020
  • 5880

پاکستان میں بدھ سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے چرچے ہیں۔ اس ویڈیو میں خیبرپختونخوا کی مصروف شاہراہ پر مبینہ طور پر ایک فوجی افسر کی بیوی کو پولیس اہلکار کے ساتھ بدکلامی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ہزارہ موٹر وے پر راستہ بند ہے اور گاڑیوں کی لائن لگی ہے۔ ایک خاتون راستہ کھولنے پر اصرار کر رہی ہے۔ لیکن پولیس اہلکار اُنہیں جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ خاتون اس پر سیخ پا ہو جاتی ہیں اور پولیس اہلکار کو کہتی ہیں کہ وہ کرنل کی اہلیہ ہیں، لہذٰا اُنہیں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار اُنہیں بتاتا ہے کہ آپ نائب صوبیدار سے بات کریں، جس پر خاتون غصے میں کہتی ہیں کہ نائب صوبیدار کی کیا اوقات ہے۔

خاتون گاڑی سے اُتر کر خود بیریئر ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں جس کی پولیس اہلکار مزاحمت کرتا ہے۔ خاتون ڈرائیونگ سیٹ پر موجود نوجوان کی جگہ خود ڈرائیونگ سنبھال لیتی ہیں اور پولیس اہلکار کو آگے سے ہٹنے اور کچلنے کی دھمکی دیتی ہیں۔ بعدازاں خاتون وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

ٹوئٹر پر اب تک ہزاروں لوگ اس ویڈیو کو شیئر کر چکے ہیں جب کہ اس معاملے پر تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کچھ صارفین اسے پاکستان میں طاقت ور طبقات کی اجارہ داری کی ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔ وہیں خاتون کے سامنے ڈٹ جانے والے پولیس اہلکار کی بھی تعریف کی جا رہی ہے۔

صحافی اجمل جامی نے ٹوئٹ کی ہے کہ اطلاعات کے مطابق ڈسپلنری ایکشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو صرف فوج کے ساتھ منسوب کرنا درست نہیں۔ اُن کے بقول پاکستان میں جس طاقت ور کو بھی موقع ملتا ہے وہ قانون توڑنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

ڈاکٹر عسکری کے بقول یہ رویے بڑائی اور برتری کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم عام لوگوں سے بڑھ کر ہیں، لہذٰا ہم پر قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ سیاست دان، بیورو کریٹ، پولیس افسر یہ سب معاشرے میں اپنی برتری دکھاتے ہیں۔ لہذٰا صرف فوج کو مورد الزام ٹھیرانا درست نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ریاست قانون کے احترام کی اہمیت اُجاگر نہیں کرے گے، ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔

بعض صحافیوں نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف نے واقعے کا نوٹس لے کر مذکورہ لیفٹننٹ کرنل کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ لیکن پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے تاحال ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی۔ فوج نے اس واقعے پر بھی تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

پاکستان میں ماضی میں بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر شاہراہوں پر طاقت ور افراد اپنا تعارف کروا کر رعایت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔