پاکستان میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی
- جمعرات 21 / مئ / 2020
- 4180
پاکستان میں کورونا وبا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 48 ہزار 694 جبکہ اموات 1044 ہوگئی ہیں۔ دنیا بھر میں متاچرین کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 3 لاکھ 28 ہزار افراد جان سے جاچکے ہیں۔
وبا کا آغاز گزشتہ برس دسمبر میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے ہوا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری دنیا میں پھیل گئی اور اب تک دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد لوگوں کو متاثر کرنے اور سوا 3 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بن چکی ہے۔
یہ وائرس پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت دیر سے آیا اور 26 فروری 2020 کو پاکستان کے تجارتی حب کراچی میں اس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی۔ پہلے کیس کے سامنے آتے ہی سندھ میں مختلف سطح کی پابندیاں اور بعد ازاں لاک ڈاؤن سامنے آیا جبکہ دیگر صوبوں نے بھی جزوی لاک ڈاؤن کے طریقہ کار کو ہی اپنایا اور پھر وفاق کی طرف سے بھی اس کا فیصلہ کیا گیا۔ صرف مئی کے مہینے میں سامنے آنے والے کیسز مارچ اور اپریل کے 2 ماہ میں سامنے آنے والے مجموعی کیسز سے تقریباً دوگنا ہیں جبکہ اموات کی شرح بھی اچانک بڑھ گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ اس عید کو فرنٹ لائن ورکرز کے نام کریں اور سادگی کے ساتھ منائیں اس کے علاوہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ ملک میں قومی سطح پر عید سادگی سے منانے کا اعلان کریں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پورے پاکستان میں اب تک ایک ہزار 415 ڈاکٹرز اور طبی عملے کے اراکین متاثر ہوئے ہیں جو مجموعی کیسز کا 3 فیصد ہے۔ پولیس کے 274 اہلکار کورونا سے متاثر ہوئے جس میں سے 59 صحتیاب ہوگئے جبکہ 210 زیر علاج ہیں اور 5 جاں بحق ہوگئے۔ رینجرز کے بھی 20 جوان اس وائرس سے متاثر ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے اوپر الزام ہے کہ میں سیاست کرتا ہوں لیکن میں لوگوں کی جان بچانے کی سیاست کرتا ہوں۔ پہلے دن سے میں حقیقت پیش کررہا ہوں۔ ہم نے کوشش کی ہے جس میں خاصے مسائل بھی سامنے آئے ہیں کیوں کہ اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھی۔ لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ صوبہ سندھ کے لوگوں سے پاکستان کو راستہ دکھایا ہے۔
انہوں نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد کم ہے لیکن اس میں صوبہ سندھ کے عوام کی قربانی شامل ہے جن پر لاک ڈاؤن لگا کر وائرس کا پھیلاؤ کو روکا گیا۔ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے لاک ڈاؤن لگانے میں جلد بازی سے کام لیا لیکن اگلی ہی سانس میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے بروقت اقدامات کیے اس لیے پاکستان میں یہ وبا قابو میں رہی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میری پریس کانفرنس کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس عید کو فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں، طبی عملے کے اراکین کے علاوہ، پولیس، رینجرز، ریونیو اور دیگر اہم اداروں کے ورکرز کے نام کردیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ یہ عید الفطر سادگی سے منائی جائے۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے حیرت ہوئی جب کہا گیا کہ آپ نے نئے کپڑے نہیں سلوانے لیکن اوروں کو تو سلوانے ہیں کیوں کہ میرے خیال میں اس ماحول میں نئے کپڑوں کی بات کرنا مناسب نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ کورونا کی وجہ سے معیشت کے بڑے نقصانات ہوئے ہیں، غربت بڑھ گئی ہے میں موقع آنے پر اس پر بات کروں گا۔
انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ گھروں سے نہ نکلیں۔ خاص کر اپنے گاؤں دیہاتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اگر وہاں یہ وبا پھیل گئی تو کیا حال ہوگا جبکہ وہاں سہولیات شہروں کے مقابلے ناکافی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے بازار کھول دیے گئے ہیں جس سے کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی رولنگ وزیراعظم عمران خان کے بیانات کا تسلسل ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ یا تو بھوک سے مرجائیں یا پھر وائرس سے۔
ہیومن رائٹس واچ کےڈائریکٹر ایشیا براڈ ایڈمز نے ویب سائٹ پر ایک مضمون لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی رمضان کے مہینے کے اختتام کے قریب اور عید کے قریب ایسے وقت میں کی گئی جب کیسز کی تعداد 43 ہزار 966 ہوچکی ہے۔ مارچ سے اب تک 900 سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ 500 سے زائد ہیلتھ ورکرز اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ایسے میں ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہورہا ہے۔
ایچ آر ڈبلیو کے مطابق پاکستان میں ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ تمام ہیلتھ ورکرز گھبرائے ہوئے ہیں اور تھک چکے ہیں۔