وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے اتوار کو عید کا اعلان کر دیا

  • ہفتہ 23 / مئ / 2020
  • 6320

پاکستان میں عید اور رمضان کے مواقع پر پشاور کے علما اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا تنازع تو ہوتا ہی تھا۔ اب رویت ہلال کمیٹی کے مقابلے پر وفاقی وزیر برائےسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی سامنے آ گئے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق پاکستان میں عید اتوار کو  ہوگی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز چاند پیدا ہو چکا ہے آج غروب آفتاب کے وقت اس کی عمر 20 گھنٹے ہوگی۔ سندھ کے علاقوں بدین، سانگھڑ اور ٹھٹھہ میں چاند دیکھا جا سکے گا۔ چاند دیکھنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چاند 7 بج کر 36 منٹ سے لے کر 8 بج کر 15 منٹ کے درمیان نظر آئے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ چاند کو زمین کے گرد چکر مکمل کرنے میں 29 دن سے کچھ زیادہ وقت لگتا ہے۔ محکمہ موسمیات اگر یہ کہتا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے چاند نہیں دیکھا جا سکتا تو یہ ایک غیر ضروری بات ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 24 مئی کو دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں عید منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق پاکستان میں 24 مئی کو عید ہوگی۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ سعودی عرب میں عمومی طور پر رویت کے ساتھ عید منانے کا اعلان کیا جاتا ہے تاہم رواں برس کورونا وائرس کی وجہ سے وہاں بھی کلینڈر پر عید منائی جا رہی ہے اور رویت کی روایت کو ختم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں سورج کے ایک منٹ بعد بھی چاند کے غروب ہونے پر نیا ماہ مان لیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں 38 منٹ بعد چاند غروب ہونے کو نیا چاند مانا جاتا ہے۔ اسی 37 منٹ کے فرق کی وجہ سے عید کا فرق آتا ہے۔ سعودی عرب نے اس بات اپنا معیار تبدیل کیا ہے تاہم ہم نے اپنا معیار برقرار رکھا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پشاور میں مفتی پوپلزئی نے عید کا اعلان کیا ہے۔ یہ بہت واضح ہے کہ پشاور میں آج بھی چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے مطابق مذہبی تہوار کے موقع پر ہمیشہ چاند کا تنازع رہتا ہے تاہم اب سائنسی ترقی سے چاند دیکھنے کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ مذہبی تہواروں کو تنازع کے بجائے یکجہتی کا باعث ہونا چاہیے۔

چاند دیکھنے کے لیے قائم کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1974 میں رویت ہلال کمیٹی بنی تھی۔ امید تھی مسئلہ حل ہوگا مگر رویت ہلال کمیٹی ہمیشہ تنازعات کا شکار رہی۔ پشاور میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی زیر صدارت مسجد قاسم علی خان میں کل غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں چاند نظر نہ آنے اور اتوار کو عید منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے اپنی تجاویز وزیرِ اعظم آفس کو ارسال کر دی ہیں۔ وزارت مذہبی امور اور رویت ہلال کمیٹی کا اپنا اپنا موقف ہے۔ اس لیے وزیرِ اعظم آفس جس طرح فیصلہ کرے گا اسی پر عمل ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں عید کا اعلان عمومی طور پر رویت ہلال کمیٹی کرتی ہے۔ جس کا اجلاس آج یعنی 23 مئی کو کراچی میں ہوگا۔ رویت ہلال کمیٹی کے ممبر علامہ اجلال حیدر نے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم فواد چوہدری کے اعلان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ معلوم نہیں وہ کس کو خوش کر رہے ہیں۔ سائنس اسلام کے تابع ہے۔ اسلام سائنس کے تابع نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق جب تک عید کا چاند سامنے نہیں ہوتا اس وقت تک گواہان کے دیکھے بغیر عید کا اعلان نہیں ہو سکتا۔ ابھی دن کا وقت ہے اور چاند کا وجود نہیں ہے۔ نماز مغرب کے بعد اس بارے میں کچھ سامنے آئے گا لیکن فواد چوہدری نامعلوم کیوں ابھی سے اعلان کررہے ہیں۔

سائنسی حوالے پر اجلال حیدر کا کہنا تھا کہ سائنس کسی بھی وقت جھوٹ بول سکتی ہے۔ کل بھی سائنس کے اعتبار سے اڑنے والا جہاز ٹھیک تھا لیکن کسی چھوٹے سے تکنیکی مسئلے سے جہاز گر کر تباہ ہوگیا۔ اب اگر ان کی سائنس میں غلطی ہو گئی اور انہوں نے 29 روزوں کے بعد اعلان کر دیا کہ عید ہوگی اور عید نہ ہوئی تو 22 کروڑ عوام کے روزے کا کفارہ فواد چوہدری ادا کریں گے؟

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عید کا شرعی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی آج 23 مئی کو کراچی میں کرے گی۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا تھا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق پاکستان کے عوام اور حکومت عید منائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شریعت اور دین چاند کی رویت اور شہادت پر اعتماد کرتی ہے۔ شہادت اور رویت کے لیے سائنس اور جدید آلات کی معاونت لی جا سکتی ہے۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نمائندہ بھی اس بار مرکزی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری میرے اچھے دوست ہیں لیکن آج کل وہ چاند چاند کھیل رہے ہیں۔ عید کا فیصلہ علما ہی کریں گے۔