وہ فرانزک رپورٹ کے پیچھے نہ چُھپ جائے!
- تحریر
- ہفتہ 23 / مئ / 2020
- 5500
ذکر تو چِھڑا تھا چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا مگر بات پہنچی شوگر انڈاسٹری میں قیامت کی وارداتوں تک۔ اب جو یہ فرانزک رپورٹ سامنے آئی ہے اور جس دلسوزی کے ساتھ شہزاد اکبر نے اس کے مندرجات اور ملز کے طریقہ کار کی تصویر کھینچی ہے، اس سے یہی ظاہر ہوا کہ ملک کی ایک بہت بڑی انڈسٹری کے ذریعے مال بنانا کس قدر آسان ہے۔
ہم ایسے کئی بدھو یونی ورسٹیوں، مینیجمنٹ کورسز اور کتابوں میں سر کھپاتے رہے لیکن مال بنانے کا آسان طریقہ معلوم نہ ہوسکا۔ رپورٹ کے مندرجات اور شہزاد اکبر کے حسنِ بیان پر جائیں تو اس انڈسٹری میں مال بنانا کاغذ کی کشتی بنانے کی طرح آسان ہے۔ کاغذ کی کشتی بنانے کی جو ترکیب بچپن میں سنی، وہ کچھ یوں تھی۔ مستطیل سائز کا ایک کاغذ لیں۔ اسے لمبائی کے رخ پر تہہ کریں پھر دوسری بار الٹی جانب تہہ کریں، پھر اوپر والے فولڈ کو اپنی جانب کھینچ کر علیحدہ کردیں۔ یہی عمل مخالف جانب والے فولڈ کے ساتھ کریں۔ اب درمیان والے فولڈکو اوپر کی جانب ایسے کھینچیں کہ اونٹ کی طرح عین درمیان میں کوہان سی بن جائے، لیجئے کاغذ کی کشتی تیار ہے۔ بارش یا ندی نالہ دستیاب نہ ہو تو گھر میں پانی کا ٹب یا بڑی بالٹی پانی کی بھر لیں اور اس کی سطح پر اس کشتی کو آہستگی سے رکھ دیں اور پانی پر کاغذ کی کشتی کو تیرتا دیکھ کر انجوائے کریں۔
فرانزک رپورٹ سے شوگر انڈسٹری سے مال بنانے کی جو ترکیب سمجھ آئی وہ بھی اسی طرح سادہ اور آسان ہے۔ اول یہ کہ آپ کو کسی بااثر سیاسی خاندان میں پیدا ہونا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ کو اپنے علاقے میں ایک عدد شوگر ملز لگانے کا کچھ کشٹ اٹھانا ہے، اس کے بعد سب بہت آسان ہے۔ گنے کا ایک بڑا حصہ ایجنٹ کے ذریعے امدادی قیمت سے پندرہ بیس فیصد کم پر خریدنا ہے لیکن اس کی قیمت کھاتوں میں زیادہ ظاہر کرنی ہے، ملز کی پیداواری گنجائش کو خاموشی سے ڈیڑھ گنا یا دوگنا کرلیں مگر خیال رہے حکومتی اداروں کو کانوں کان خبر نہ ہو، یوں ٹیکس کی مد میں خود ہی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ چینی بیچتے وقت دو کھاتے رکھنے ہیں، ایک کچا اور پکا، کچے پر جو بیچنا ہے اس کے چیک بے نامی اکاؤنٹس کے ہونے ضروری ہیں، اسٹاک ذخیرہ رکھنا ہے تو رکھ لیں ورنہ سٹے بازوں کے ساتھ صلاح مشورے کے مطابق بیچتے جائیں۔اس کے باوجوود بھی اگر انکم ٹیکس واجب الادا بن جائے تو اس کے ریفنڈکے لئے درخواست داغ دیں، ادا شدہ انکم ٹیکس تقریباٌ نصف ریفنڈ مل جائے گا۔
ہر دو تین سال بعد مقامی پیداوار زیادہ ہوجائے تو گھبرانا نہیں۔ چینی برآمد کی اجازت مع بھاری بھر کم ریبیٹ حاصل کریں اور اگلے سیزن کی تیاری کریں۔ باقی تمام مراحل اسی ترتیب سے دہراتے جائیں۔ ہر چند سال بعد ملز کی تعدا د اور پیداواری گنجائش تیزی سے بڑھے گی۔ اللہ خیر صلا۔ بس ایک خیال رکھنا ہے کہ خاندان میں سے ایک آدھ فرد کسی بڑی سیاسی پارٹی میں ہو اور ایم پی اے یا ایم این اے ہو۔ وزارت کا جھولا اگر کبھی مل جائے تو حکومتی اداروں میں دھاک بیٹھی رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق کین کمشنر، شوگر ایڈوائزری بورڈ، ای سی سی، صوبائی و وفاقی کابینہ، مسابقی کمیشن، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بنک اور ایف بی آر مونہہ تکتے رہ گئے مگر چینی برآمد کی اجاز ت بھی ٹھکا ٹھک مل گئی اور سبسڈی کی رقم بھی۔ اگر سیاسی مقابلے بازی کی وجہ سے جوتوں میں دال نہ بٹتی اور سیاسی انتقام کی ہنڈیا بیچ چوراہے یوں نہ ٹوٹتی تو کسی کو کب معلوم ہونا تھا کہ صارفین کو سال ہا سال چینی کی اصل قیمت سے پانچ سے پندرہ روپے فی کلو تک زیادہ ادا کرنے پڑے۔ بقول رپورٹ کے اس حساب سے سالانہ ایک سو سے ڈیڑھ سو ارب روپے تک صارفین کی جیب سے یوں نکلے کہ انہیں اپنی جیب ہلکی محسوس بھی نہ ہوئی۔
جنہیں اس رپورٹ کے انکشافات نے چونکایا ہے، ان کی سادگی کو سلام ہے ورنہ شوگر اندسٹری گزشتہ پینتیس چالیس سالوں سے اسی انداز سے پھلی پھولی، اس میں سیاسی خاندانوں کی دلچسپی اس قدر بڑھی کہ یہ حلقے کی سیاست کا ایک اہم جزو بن گئی۔ انڈسٹری میں کارٹل کا طریقہ کار رہا۔ کرشنگ سیزن تاخیر سے شروع کرنے کی چالاکیوں سے لے کر ملز کے باہر میلوں لمبی لائنوں اور کٹوتیوں کے باوجود کیش ادائیگی مکمل نہیں ہوتی رہی، عموماٌ اگلے سیزن کے آغاز تک پچھلے سیزن کے واجبات لٹکانے کا معمول رہا۔ ملز کے علاقے میں ایجنٹس کے میزان پر پندرہ بیس فی صد کم ریٹ اور کٹوتی کے ساتھ وہی گنا ملز کو سپلائی ہوتا رہا۔ جن سالوں میں گنے کی کاشت زیادہ ہوتی، یہ معمول جاری رہا۔
گنے کی قیمت تو حکومت متعین کرتی ہے مگر چینی کی قیمت ٌ مارکیٹ فورسز ٌ طے کرتی ہیں جن میں کئی ذخیرہ اندوز اور سٹّے باز فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ زیادہ تر سیلز کچے کھاتوں میں ہوتی ہے، یوں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس واجبات کا پتہ بھی صاف ہو جاتا ہے اور سرمایہ محفوظ طریقے سے گردش میں رہتا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر شاذ ہی کسی شوگر ملز کی بیلنس شیٹ مالیاتی اعتبار سے خوش کن ہو مگر اس کے باوجود کوئی سرمایہ کار اس شعبے کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔
شوگر اندسٹری کے کاروباری طور طریقے ایک کارٹل کی مانند ہیں، پالیسی سازوں کو بھی معلوم تھا، نگران یعنی ریگولیٹر اداروں کو بھی معلوم تھا کہ یہاں کاروبار کس طرح ہوتا ہے۔ مگر جب وہی منصف ہوں جن سے شکایت ہو تو کیا کیجئے۔ کین کمشنر کی تعیناتی ہو یا شوگر ایڈوائزری بورڈ کی تشکیل، مسابقتی کمیشن کے ممبران کی تعیناتی ہو یا ایس ای سی پی کے کمشنز کی منظوری، ای سی سی میں ایجنڈے میں شوگر ایکسپورٹ کی شمولیت ہو یا صوبائی کابینہ میں بائی سرکولیشن سبسڈی کی سمری کی منظوری۔ فصل کی کاشت، طلب اور رسد کے اعدادوشمار اور ان کی بنیاد پر فیصلے۔۔۔ یہ سب ایک پراسرار طاقت کا پتہ دیتے ہیں۔
یہ پراسرار طاقت وہ پولیٹیکل اکونومی ہے جو سیاست اور حکومت، پالیسی بنانے اور عمل کرنے کے عمل میں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔تسلیم کہ کابینہ میں مفاادات کے ٹکراؤ کا قانون بنانے کی سفارش کی گئی ہے لیکن نرے قانون بنانے سے کبھی مفادات کا جال ٹوٹا ہے جو اب ٹوٹے گا۔ رپورٹ جس طرح چند سیاسی مخالفین کے گرد گھوم رہی ہے، اندیشہ ہے کہ شوگر انڈسٹری کی پولیٹیکل اکونومی اور مفادات کے ٹکراؤ کا دیرینہ بندوبست پھر آسانی سے سیاسی دشنام طرازی کی آڑ میں چھپ جائے گا۔