کرنل کی بیوی کا خط – بھائی جان کے نام
- تحریر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
- ہفتہ 23 / مئ / 2020
- 7350
محترم بھائی صاحب!
آپ کا تسلی وتشفی سے بھرپور خط ملا۔ پڑھ کے دل کو گونہ تسلی ہوئی کہ آپ لوگوں نے سویلینز کی اس یلغار میں مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔ میری ہمت بندھانے کا بہت شکریہ۔ یہی تو ہماری میراث ہے کہ ہم ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔
آپ کے خط سے ایسا تاثر ملا کہ میں انتہائی دل گرفتہ اور پریشان حال ہوں اور سوشل میڈیا پہ جو کچھ چلا، اس کے بعد شاید میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ ارے بھائی صاحب، منہ چھپاتی ہے میری جوتی! بھلا آزردہ بھی میں کیوں ہوں؟ اللہ رکھے جس بہن کی پشت پہ آپ جیسے بھائی موجود ہوں، جو اپنی بہنوں کی آنکھ میں آنسو نہ دیکھ سکیں، جو اپنی بہن کی ہر غلطی کی توجیہ تلاش کر سکیں، انہیں آخر کیا غم ؟
سچ پوچھیے، اب آپ سے کیا چھپانا۔میں تو میں اسے اپنی غلطی مانتی ہی نہیں۔ اس نالائق پولیس والے کی ہمت کیسے ہوئی کہ میرا رستہ روکے۔ یہ میری عزت کا نہیں بلکہ کرنل صاحب کی عزت کا سوال تھا بلکہ آ پ سب بھائیوں کی عزت کا بھی۔ بھائی صاحب ! دیکھیے قصور میرا بھی اس قدر نہیں۔ معاف کیجیے گا، میری عادات تو آپ سب ہی نے بگاڑی ہیں۔ نوعمری کی شادی تھی، دنیا دیکھی نہیں تھی۔ بیاہ کے آئی تو آغاز میں ہی صاحب نے سمجھا دیا کہ میں اس سلطنت کی بلا شرکت غیرے مالک ہوں۔ گھر میں چوبیس گھنٹے بیٹ مین خدمت کے لئے حاضر تھا جسے میں جتنا چاہے پھٹکارتی، اس کی یہ ہمت نہ تھی کہ سر اٹھاتا۔ سچ پوچھیے تو وہ الہ دین کے چراغ والا جن تھا، ادھر رگڑو، ادھر حاضر۔
صبح اٹھتی تو ناشتہ میز پہ حاضر ہو جاتا۔ ناشتے سے فارغ ہوتی تو ہمسائی سے جب تک گپ شپ کرتی، سرکاری خاکروب گھر چمکاتا رہتا۔ کبھی جو ضرورت پڑتی تو خاکروب کی بیوی بھی لائن حاضر ہو جاتی، سارا دن فارغ ہی تو ہوتی تھی اپنے کوارٹر میں۔پھر میں مالی کی خبر لینے باہر نکل آتی۔ پھول پودے سامنے کے لان میں اور سبزیاں بیک یارڈ میں لگوانے کے لئے پہروں سر کھپانا پڑتا۔ جو کہتی وہ سر نہوڑائے کیے جاتا، سرتابی کی مجال نہ تھی۔ وہاں سے فراغت کے بعد میں یونٹ کے درزی سے سر کھپائی کرتی جو سلائی کئے جانے والے کپڑے لینے گھر آ جاتا۔
شام کو میس جاتی تو بیرا دوڑ دوڑ کے لان میں کرسیاں سجاتا۔ جو آرڈر کرتی وہ آنکھ جھپکنے میں حاضر ہو جاتا۔ گھر میں پارٹی ہوتی تو یونٹ کا خانساماں آ جاتا، مجھے تو صرف مینیو بتانا ہوتا تھا۔ پوسٹنگ ہوتی تو آٹھ دس سپاہی سامان باندھنے آ جاتے۔ جس کو جو چاہتی کہتی، کسی کی مجال کہ آنکھ بھی اٹھا جائے یا ایک لفظ بھی بول سکے۔
کہیں جانا ہوتا تو گاڑی مع باوردی ڈرائیور کے حاضر ہو جاتی۔ معمولی طبعیت خراب ہوتی تو سی ایم ایچ میں دس ٹیسٹ مفت میں کروا کے آتی۔ بچوں کے داخلوں کا کبھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ سستی شاپنگ کے لئے سی ایس ڈی کے دروازے کھلے ہوتے۔ لیڈیز کلب کی رونقیں تو بتانا ہی بھول گئی، ارے ہاں ساتھ میں پولو گراؤنڈ کی واک اور سومنگ پول میں تیراکی کے بعد بیکری کے تازہ پیٹیز اور لیمن ٹارٹس۔ توبہ رمضان میں کیا یاد کیا کہ منہ میں پانی بھر آیا!
کسی زمانے میں کہا کرتے تھے نا کہ بادشاہوں والی زندگی گزارنی ہو تو ائر لائن کی نوکری ہونی چاہیے، میرے خیال میں تو ائیر لائن کی جگہ آپ کا اور آپ کے بھائی جان کا نام ہونا چاہئے۔ بھائی صاحب، اب آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ ایسی عادات کے بعد میں کیسے برداشت کرتی کہ وہ دو ٹکے کا پولیس والا میری حکم عدولی کرتا۔
آپ نے سب شہید کرنل بھائیوں کے نام لکھ کے بہت خوب کیا۔ میں بھی اپنی سویلین سہلیوں کو انہی کا نام لے کے رعب ڈالتی ہوں۔ ان میں سے ایک ذرا بدذات ہے، ٹھٹھا لگا کے کہتی ہے، کیا ڈاکٹر ایڈز، کانگو وائرس، ایبولا اور کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اپنی جان نہیں دیتے؟ کیا سڑکیں، پل اور ڈیم بنانے والے سب محفوظ رہتے ہیں، مرتے نہیں کیا؟ کیا فصلیں اگانے والوں کی سخت گرمی میں لو لگنے اور سانپ بچھو کے کاٹ لینے سے ہلاکت نہیں ہوتی؟ کیا یہ سب اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے موت کو گلے نہیں لگاتے؟ کیا شہادت صرف تمہارے بھائیوں کے لئے مختص کر دی گئی ہے جو زندہ رہتے ہوئے لاکھ کے تو ہوتے ہی ہیں، مرنے کے بعد تمغے اور پلاٹ پا کے سوا لاکھ کے ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی بتانا ذرا کہ وہ کس کا بویا کاٹ رہے ہیں؟ طالبان نامی دہشت گردی کی آبیاری کس نے کی؟ بھائی صاحب! ذرا مجھے اس کا جواب سمجھا دیں تاکہ اگلی دفعہ اپنی سہیلی کا منہ توڑ سکوں۔
آپ نے بالکل ٹھیک کہا کہ ہم بیگمات ہی تو آپ سب کی طاقت اور حوصلہ ہیں۔ یقین جانیے ہم بیگمات آپس میں بھی ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ دیکھیے نا بڑے صاحب کی بیگم جنہیں میں آپا جان کہتی ہوں کو جیسے ہی پتہ چلا کہ ہمارے صاحب کی ترقی رک گئی ہے، نے فوراً فون کر کے اپنے میاں صاحب سے کہا کہ میں اس کی (یعنی میری) آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتی۔ بنائیے اس کے شوہر کو کرنل، تبھی تو میں اس قابل ہوئی کہ اعلان کر سکوں میں کرنل کی بیوی ہوں۔
اللہ جنت نصیب کرے بڑی آپا جان مسز امیر المومنین کو، ایسے بہت سے مسائل حل کرنے میں مرحومہ کو ید طولی حاصل تھا۔یہ تو آپ کو کسی نے بالکل ٹھیک بتایا کہ ذہنی امراض میں مبتلا لوگ سوشل میڈیا پہ قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ جلتے ہیں سب ہماری عزت و مرتبے سے۔ چلیے چھوڑیے ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ چاند پہ تھوکا اپنے منہ پہ ہی آن گرتا ہے۔
آپ اپنا خیال رکھیے گا، میرا مورال ہائی ہے۔
آپ کی مجاہدہ بہن۔ کرنل کی بیوی!
(بشکریہ: ہم سب لاہور)