پردیس میں عیدِ اذیّت
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 25 / مئ / 2020
- 16940
جس جنّت کو ترک کر کے ہم پاکستانی اجنبی زمینوں میں اُترے ، وہ ایک زمانے سے کرپشن اور لاقانونیت میں مبتلا رہی ہے ۔ کرپشن اور لا قانونیت وہ زہریلی بیماریاں ہیں جو کسی معاشرت کو گھُن کی طرح کھا جاتی ہیں ۔اور ایسی ہی ایک کرم خوردہ معاشرت ہمارا آبائی اثاثہ ہے لیکن ہم اسے تسلیم کرنے اور اس کا تدارک تلاش کرنے کے بجائے دو طرفہ الزامات میں پناہ لیتے ہیں ۔
ایک ادارہ دوسرے پر اپنا ملبہ ڈالتا ہے ، ایک ادارہ دوسرے کو مجرم قرار دیتا ہے اور ہر مشکل کا حل قانون سازی میں ڈھوندتا ہے کہ ملک میں ایسا قانون ہونا چاہیے جو مشکل کشا ہو لیکن قوانین مشکل کشا نہیں ہوتے ، قوانین تو تجاویز ہوتی ہیں جو کاغذ پر لکھ لی جاتی ہیں اور وہ اُس وقت کار آمد ہوتی ہیں جب ہم اُن پر عمل پیرا ہو سکیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے عمل کے ہاتھ پاؤں ٹُوٹے ہوئے ہیں جن کو جوڑنا ہمارے بس کا روگ ہی نہیں۔ ہم دراصل اپنی عادتوں کے بد ترین غُلام ہیں اور ہمیں یہ غُلامی اس قدر راس ہے کہ ہم اسے کسی قیمت پر تیاگنا نہیں چاہتے ۔ عادت ایک مشینی کارگذاری ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے ہمیں یہ تعلیم دی تھی کہ ترکِ عادت فضلیت ہے ۔ لیکن بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو ، مولا علی ؑ کی ہو یا آسمانی کتاب کا حُکم ہو ، ہم اُسے سُن کر عقیدت سے سر دھننے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور پھر اپنے نفس کی غلامی میں آرام سے سو جاتے ہیں ۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کو خود اپنی خبر نہیں ہوتی کہ ہم کون ہیں اور کیا ہیں۔ اور جسے یہ معلوم نہ ہو وہ کون ہے اور کیا کر رہا ہے ، اُس کے کسی عمل کی قیمت کیا ہوتی ہے ۔ اور ہم جو پاکستانی شہری سب سے پہلے ہیں اور ایک آئین اور ملک کے مروجہ قانون کے پابند ہیں ، یہ بات بھول چکے ہیں ۔ ہمیں بالکل بھی یاد نہیں کہ ہم پاکستانی ہیں ۔ ہم ایک ایسے طرزِ عمل میں مبتلا جس میں قانون کی پابندی مر جاتی ہے جس کا مظاہرہ کرونا وبا پھوٹ پڑنے پر ہمارے شہروں میں لوگوں کے طرزِ عمل میں دیکھنے میں آیا کہ ہمارا قومی مزاج قانون شکنی کا پروردہ ہے اور عام ان پڑھ آدمی تو درکنار ہمارے پڑھے لکھے سماجی مرتبے کے حامل قانون شکنی کے سب سے بڑے مجرم ہیں اور پھر اپنی بیوقوفی کی بنا پر سوشل میڈیا کا تماشہ بن جاتے ہیں ۔
ان میں سے ایک واقعہ اب کرنل کی بیوی کے عنوان تلے ٹک ٹاک سے لے کر کارٹونوں کا موضوع بنا ہوا ہے جبکہ دوسری خاتون جس کے طرزِ عمل پر مجھے حیرت ہوئی وہ شیریں مزاری تھیں جنہوں نے اگرچہ کرنل کی بیوی کی طرح ماں کی آنکھ کی زبان میں بات نہیں کی مگر ہاتھوں سے قانون کی پشت پر مشقِ ستم کرتی نظر آئیں جسے سوشل میڈیا پر چاردانگِ عالم میں دیکھا گیا ۔ لیکن ہم قانون شکنی کی وہ خود کار مشینیں بن چکے ہیں جن میں احساسِ زیاں تک باقی نہیں رہا ۔ یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں اور میں دانستہ ان کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا لیکن اُس واقعے کی یاد میرے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے جس میں لاہور کے نواب پور ٹاؤن کے ایک نوجوان نے بد فعلی کے بعد ایک دس سالہ بچے کو قتل کیا اور گرفتاری پر پولیس کو بتایا کہ اس نے جنسی دہشت گردی اپنے والد سے سیکھی ہے ، جو عادی طفل تراش ہیں ۔
یہ واقعات رمضان کے اُس مقدس مہینے میں ہوئے ، جس کے بارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ شیطان قید کردیا جاتا ہے ۔ یہ صبر سکھانے والا مہینہ ہے جس کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جہان صبر نہ ہو وہاں رب کی عملداری نہیں ہوتی بلکہ الحاد کا پہرا ہوتا ہے ۔طفل تراشی ، بچوں سے جنسی زیادتی اور اخلاقی بے راہروی کے ڈانڈے جرائم کے اڈوں سے لے کر دینی مدرسوں تک پھیلے ہوئے ہیں اور پاکستان کے دینی ادارے جن میں اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور مذہبی تنطمیمیں اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں ، اس قبیح فعل کی سرکوبی کے لیے کبھی سر گرمِ عمل نظر نہیں آئے گویا یہ طفل بازی معمول کی بات ہو ۔ مسجد جو مسلمان کی اخلاقی تربیت کا ادارہ ہے ، ایسے افعال کی پردہ پوشی میں ملوث ہو تو وہ فارسی یاد آتی ہے جس میں کہا گیا ہے :
چوں کفر از کعبہ بر خیزد کُجا ماند مسلمانی
یہ ایسا موضوع ہے جو مذہبی کارکنوں کو شدید ردِ عمل میں مبتلا کرسکتا ہے اس لیے اتنی بات پر اکتفا کرنا مناسب ہو گا اور اب اُن ریوڑوں کی بات کرنی ہوگی جو کرونا کی پابندیوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے ، جسمانی اور سماجی فاصلے کے قانون کو ٹھوکر پر مارتے ہیں اور وحشی جانوروں کے انداز میں بھیڑ چال چلتے ہیں ۔ ٹریفک کے قوانین کی عدم پابندی ایک زمانے سے پاکستانی مزاج کا خاصہ رہی ہے ۔ لوگ ہیلمٹ استعمال نہیں کرتے ۔ ڈبل سواری پر پابندی کا احترام نہیں کرتے مگر اب دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اُن کے لیے اپنی زندگی کی بھی کوئی قدر و قیمت نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشِ نفس کی غلامی میں اتنے پختہ ہیں کہ قانون کی پابندی اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ یہ بات منظم معاشروں کی جڑوں کو کھوکھلا کے کے رکھ دیتی ہے اور جیسا کہ قرآن نے واضح کیا ہے ، قانون شکنی وہ جرم ہے جو انسان کو انسانی سطح سے گرا کر شرفِ انسانیت سے محروم کر دیتی ہے ۔
اللہ نے انسان کو سوشل اینیمل ( سماجی جانور) نہیں قانون کی پابندی کرنے والی مخلوق بنایا ہے اور جیسا کہ سبت والوں کے قصّے میں کہا گیا ہے کہ قانون شکنی انسان کو انسان نہیں رہنے دیتی بلکہ جانور بنا دیتی ہے ۔ قانون کی تین سطحیں اور پرتیں ہیں :
۱۔ اللہ کا قانون ۲ ۔ شریعت کا قانون ۳ ۔ ملکی قانون
اور ان تینوں کے درمیان باہمی ربط یا کوارڈی نیشن قانون کی بنیاد ہے لیکن نہ ہم اللہ کا قانون عملاً مانتے ہیں ، نہ شریعت کے پابند ہیں اور نہ ہی ملکی قانون کی پابندی کرتے ہیں ۔ اور جب جی چاہے قانون کے پرزے اُڑا کر نظریہ پاکستان کے گلے میں ڈال دیتے ہیں ۔ یہ ہے وہ اذیت جو اس پردیس میں جہاں قانون کی حکمرانی ہے ، پاکستان سے محبت کرنے والوں کے جی کا زیاں بنی رہتی ہے ۔