پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات: ایئر بس کی ٹیم کراچی پہنچ گئی
- منگل 26 / مئ / 2020
- 5710
جمعتہ الوداع کو کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی پرواز پی کے 8303 کے حادثے کے بعد تحقیقات مین معاونت کے لئے طایر ساز کمپنی ائیر بس کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے۔
طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے فرانسیسی ماہرین کی ٹیم منگل کی صبح پاکستان پہنچی۔ ایئر بس بنانے والی کمپنی کے ماہرین کی 11 رکنی ٹیم خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچی۔ ٹیم کے ماہرین حادثے کی جگہ کا دورہ اور پاکستان میں حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو تیکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔
فرانسیسی ماہرین طیارہ حادثے کی جگہ جناح گارڈن کے دورے کے علاوہ رن وے کا بھی معائنہ کریں گے، جہاں طیارے نے لینڈنگ کی پہلی کوشش کی تھی۔ ماہرین کی ٹیم اپنے ساتھ جہاز کا بلیک باکس بھی فرانس لے کر جائے گی کیوں کہ پاکستان کے پاس بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے۔
فرانس کے شہر تولوز میں قائم ایئر بیس کی لیبارٹری میں بلیک باکس ڈی کوڈ کرنے کے بعد مکمل ڈیٹا اور تمام تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ جو پاکستان کی تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کی جائیں گی۔ خیال رہے کہ لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رن وے سے ملحقہ آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے میں 97 افراد جاں بحق جب کہ دو مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔
حادثے کی تحقیقات میں ایئر سیفٹی انوسٹی گیشن کے قواعد کے مطابق تحقیقات کا عمل جاری ہے جس میں حادثے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔ طیارہ حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے ایئر کموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے جو حادثے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔ ناقدین ٹیم میں پاکستان ایئر فورس کے تمام افسران کو شامل کرنے پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔
پاکستان میں پائلٹس کی تنظیم پالپا نے بھی ٹیم کی تشکیل پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے تحقیقات میں پالپا کا نمائندہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پالپا کا کہنا ہے کہ تیکنیکی مشاورت کے لیے کمرشل ایئر لائن پائلٹ کو ٹیم میں شامل کیا جائے۔ کیوں کہ جب تک یہی جہاز اڑانے والا پائلٹ اس ٹیم میں شامل نہیں ہوگا، اس وقت تک جہاز کے اندر پیش آنے والے مختلف واقعات، ڈیٹا اور پائلٹ ردعمل کو مکمل طور نہیں جانچا جا سکتا۔
حادثے کے بعد پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں رن وے کی تصاویر دکھائی گئیں جن میں رن وے پر مبینہ طور پر جہاز کے انجنز کے نشانات دکھائے گئے۔ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انوسٹی گیشن بورڈ نے رن وے کا جائزہ لیا تو اس دوران معلوم ہوا کہ ایل 25 رن وے پرطیارے کے انجن کی رگڑ کے نشانات موجود ہیں۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق چار مختلف مقامات پر رن وے کا کچھ حصہ متاثر بھی ہوا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے رن وے پر لگے کیمرے کی مدد سے طیارے کی لینڈنگ کے مناظر بھی دیکھے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے دونوں کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دی ہے۔ بعض ایوی ایشن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فوٹیجز میں دیکھا گیا ہے کہ لینڈنگ کے وقت جہاز کے لینڈنگ گیئر ڈاؤن نہیں تھے۔ یہ لینڈنگ گیئر ڈاؤن نہ ہونا تیکنیکی خرابی تھی یا انسانی غلطی اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے دوران طیارے کے پہلے بائیں انجن کو رن وے 4500 فٹ کے مقام پررگڑ لگی اس کے بعد دائیں انجن کو 5500 فٹ کے مقام پر رگڑ لگی جس کے بعد دونوں انجنز ایک ساتھ زمین پر لگے اور اسی دوران طیارہ اوپر کی جانب بلند ہوا۔
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ رن وے پر جہاں جہاں رگڑ لگی ان کی پیمائش کر لی گئی ہے۔ اس بات کا بھی تعین کیا جا رہا ہے کہ رن وے پر انجنز لگنے سے انہیں کتنا نقصان پہنچا۔
اس حادثے کے کچھ ہی دیر بعد ملک بھر میں الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر آڈیو ٹیپس گردش کرنے لگیں جن میں جہاز کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سنائی جا رہی تھی۔ اس گفتگو کے مطابق پائلٹ نے حادثے سے 13 منٹ قبل رن وے کو ٹچ کیا تھا جس کے بعد پائلٹ نے 'گو آراؤنڈ' یعنی ایک اور چکر لگانے کا فیصلہ کیا۔ گو آراؤنڈ کو ایوی ایشن زبان میں ایسی صورتِ حال کو کہا جاتا ہے جس میں پائلٹ کسی بھی معمولی تیکنیکی مسئلے یا دشواری کے پیشِ نظر لینڈنگ کا ارادہ ترک کر کے ایک اور چکر لگا کر دوبارہ لینڈنگ کرتا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کر رہے ہیں کہ کنٹرول ٹاور اور کاک پٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کہیں بھی لینڈنگ گیئرز کا تذکرہ نہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس گفتگو سے پہلے لینڈنگ گیئرز سے متعلق گفتگو ہوئی ہو لہذٰا بلیک باکس کھلنے کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔
حادثے سے کچھ دیر قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر کی طرف سے پائلٹ کو بتایا گیا کہ دونوں رن وے خالی ہیں۔ لیکن پائلٹ کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ دونوں انجنز خراب ہیں۔ اس کے بعد پائلٹ نے مے ڈے، مے ڈے، مے ڈے کی کال دے دی اور طیارہ آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے جائے حادثہ سے جہاز کے مختلف آلات اکٹھے کر لیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تحقیقات کے دوران جہاز کا ہر پرزہ بے شک جس بھی حال میں ہو وہ تحقیقات میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان میں تباہ حال انجنز کے پروں تک کی پوزیشن بھی جہاز کی تباہی کی وجوہات بتا سکتی ہے۔ کاک پٹ کے مختلف آلات اور مختلف نابز کی پوزیشن بھی تحقیقات میں مدد دے سکتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف آلات، پرزوں اور گرنے کے مقامات کی تصاویر اور فوٹیجز حاصل کر لی ہیں۔ حادثے کے بعد تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ لیکن ملک بھر میں حادثے کے بعد آڈیو ریکارڈنگز اور مختلف دستاویزات گردش کر رہی ہیں۔
حادثے کے بعد لیک ہونے والی آڈیو اور فوٹیجز کے معاملے پر پی آئی اے انتظامیہ اور پائلٹس کی تنظیم پالپا کے درمیان کشیدگی بھی سامنے آئی ہے۔ خیال رہے کہ لازمی خدمات ایکٹ میں پی آئی اے کو شامل کرنے کے بعد پائلٹس کی تنظیم پالپا کو تحفظات بھی رہے ہیں۔ پائلٹ کو ذمہ دار قرار دینے کی خبروں پر طیارے کے پائلٹ سجاد گل کے والد گل محمد بھٹی بھی نالاں ہیں۔ انہوں نے پی آئی اے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے بھی اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور ایک پائلٹ جس نے 17ہزار گھنٹے فلائٹس کیں، اسے حادثے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے دستاویزات اور آڈیوز لیک کی جا رہی ہیں۔