بھارتیوں سے سوشل میڈیا پہ ایک مکالمہ
- تحریر اطہر مسعود وانی
- منگل 26 / مئ / 2020
- 7000
کسی بھی عالمی ادارے یا کسی اہم ملک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پہ کشمیر کانام لیا جائے تو انڈیا کے شہری فوری طور پر اپنا ردعمل دیتے نظر آتے ہیں۔امریکی حکومت کی عالمی سطح پہ مذہبی آزادی سے متعلق کونسل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پہ عیدکی مبارکباد کا بیان جاری کیا۔اس پہ یہ تبصرہ کرنا پڑاکہ انڈیا کی طرف سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی صورتحال میں کشمیر کے لوگ کیسے عید منا سکتے ہیں۔
اس پر انڈیا کے مختلف افراد کی کی طرف سے مخالفانہ تبصرے شروع ہو گئے۔اہم ملکوں،اداروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پہ کشمیر کا ذکر کیا جائے تو بھارتی افراد کے کمنٹس میں ان کی پریشانی قابل دید ہوتی ہے اور وہ زور و شور سے کشمیر سے متعلق بھارتی حکومت کا بیان دہرانے لگتے ہیں۔ان تبصروں کابیانیہ وہی تھا جوبھارتی حکومت کی طرف سے پروپیگنڈے کے انداز میں کیا جاتا ہے کہ کشمیریوں کو اسی وقت عید منانے کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ جب وہ مسلح لڑائی کا اپنا مائینڈ سیٹ تبدیل کر دیں اور بھارتی حکومت کا ساتھ دیں۔ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ کشمیر کا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر کے عسکریت پسندوں کی مدد و حمایت ختم کر دے۔ ایران،شام اور افغانستان کی مثالوں کی طرح بھارت کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے لئے پاکستان غزوہ ہند کی کوششیں کر رہا ہے۔
عالمی تنظیموں کے پاس فکر کرنے کی دوسری چیزیں ہیں، روہنگیا اور شامی مہاجرین وغیرہ ہندوستان اپنے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنڈتوں کو1990میں کشمیر سے نکالا گیا، کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ عالمی برادری کو افغانستان کے مسئلے پر توجہ دینی چاہئے۔ کشمیری انڈیا کے خلاف مزاحمت ختم کر دیں تو انہیں کام پر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔اس کے علاوہ تبصرے کرنے والے بھارتی افراد نے ’بھارت ماتا کی جے‘ اور’کشمیر بھارت کا حصہ ہے‘ کی طرح کے جملوں کا بھرپور استعمال کیا۔
بھارتی افراد سے مکالمے میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور ہندوستان کے قیام سے پہلے کا ہے۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ عالمی عہد اور انسانی بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر اپنی ہٹ دھرمی اورفوجی طاقت کے ظالمانہ استعمال سے حل کرنا چاہتا ہے۔کشمیر کے بارے میں انڈیا کے اسی روئیے کو دھونس اور ہٹ دھرمی کہتے ہیں۔یہ انڈیا کا عالمی برادری اور کشمیریوں سے عہد ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ پرامن طور پر حل کیا جائے گا لیکن انڈیا اس میں ناکام ہے۔ دنیا کشمیریوں کی آزاد ی کی مزاحمت اور انڈیا کے بھیانک مظالم دیکھ رہی ہے۔ اس طریقہ کار کو ظالمانہ قرار دیا جاتا ہے،اس کی مذمت کی جاتی ہے۔
پنڈتوں کو بھارتی گورنر نے کشمیر سے نکالا تھا کہ انڈیا نے کشمیر میں فوجی آپریشن کرنا ہے،اس کے بعد واپس آ جانا، انڈیا حقائق کو تسلیم کرے۔
کشمیریوں کو ان کی سرزمین میں مکمل حاکمیت کے اختیار کے ساتھ آزادی سے رہنے کے حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔پنڈت اور لاکھوں دیگر کشمیری انڈیا کے ظلم کی وجہ سے اپنے وطن کشمیر سے بے گھر ہیں۔یہ صرف کشمیریوں کی ایک نسل کی بات نہیں، کشمیریوں کی تیسری چوتھی نسل مصائب اور انڈیا کے ظالمانہ سلوک کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔یہ انڈیا ہے جو کشمیرکے سیاسی مطالبات کو بندوق کی طاقت سے دباتے ہوئے کشمیریوں پر بہیمانہ مظالم ڈھاتا ہے،انڈیا خود پرامن کشمیریوں کو’مارشل ریس‘بنا رہا ہے۔
اب کشمیر کا چھوٹا بچہ بھی انڈیا کی فوجی طاقت کے سامنے بے خوف ہے۔ کشمیریوں کی نسل در نسل مزاحمت کا مسلسل جاری رہنا ہی کشمیریوں کی کامیابی ہے۔اس مکالمے سے یہ بات سامنے آئی کہ کشمیر سے متعلق سفارتی اور سیاسی کوششوں کو کشمیریوں کی مشاورت سے بہتر اور موثربنانے کی ضرورت اشد طور پر درپیش ہے۔