ٹرمپ کا ٹوئٹر سے تنازعہ، اقدام کرنے کی دھمکی
- بدھ 27 / مئ / 2020
- 5190
ٹوئٹر نے منگل کو پہلی بار اپنے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹس میں کہی گئی باتوں پر یقین کرنے سے پہلے معلومات کی درستگی کی تصدیق کر لیں۔
سماجی رابطوں کی مشہور ویب سائٹ نے صدر ٹرمپ کے ایک ٹوئٹ پر 'فیکٹ چیکنگ' کا لیبل بھی لگا دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹوئٹ میں دی گئی معلومات غلط بھی ہو سکتی ہیں۔ ٹوئٹر نے اپنے صارفین کو یہ پیغام دیتے ہوئے صارفین کو اس خبر اور معلومات کا لنک بھی فراہم کیا جہاں سے ٹوئٹر نے معلومات کی تصدیق کی تھی۔ ٹوئٹر کا لنک صارف کو جس پیج پر لے جاتا ہے اس پر شہ سرخی میں درج ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ میل اِن بیلٹس کا طریقہ کار ووٹرز کو فراڈ کی طرف لے جاتا ہے، ایک کمزور دعویٰ ہے۔
واضح رہے کہ میل اِن بیلٹس ووٹنگ کا ایسا طریقہ ہے جس میں ووٹر کو گھر پر ہی بیلٹ پیپر فراہم کر دیا جاتا ہے جسے وہ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے بعد ڈاک کے ذریعے واپس پہنچا دیتا ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو 'مِس لیڈنگ' یعنی گمراہ کن معلومات قرار دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میل اِن بیلٹس کے طریقۂ کار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھوکہ دہی کے مترادف ہے جس کا نتیجہ دھاندلی زدہ الیکشن کی صورت میں نکلتا ہے۔
ٹوئٹر نے تصدیق کی ہے کہ پہلی بار صدر ٹرمپ کے کسی ٹوئٹ پر 'فیکٹ چیکنگ' کا لیبل لگایا گیا ہے جو ان کی گمراہ کن معلومات سے متعلق نئی پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ پالیسی کورونا وائرس سے متعلق گمراہ کن خبروں کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ اس پالیسی کا نفاذ کورونا وائرس کے علاوہ دیگر معلومات پر بھی کریں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر کے اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ٹوئٹر نے سی این این، ایمیزون اور واشنگٹن پوسٹ کی خبروں سے یہ معلومات اٹھا کر میرے دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔ ان اداروں کی خبریں جھوٹی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹوئٹر کا یہ عمل آزادیٔ اظہار پر قدغن ہے اور میں بطور صدر ایسا ہونے نہیں دوں گا۔