کراچی میں حادثہ کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس مل گیا

  • جمعرات 28 / مئ / 2020
  • 6860

کراچی میں گرنے والے مسافر طیارے کا بلیک باکس چھ روز بعد ملبے کے نیچے سے مل گیا ہے۔ پاکستان ایئر لائن کے ترجمان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم  کو ملبے کے نیچے دبا ہوا وائس ریکارڈر مل گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر تحقیقاتی عمل میں معاون ثابت ہو گا۔ پی آئی اے کی ٹیمیں اس اہم پرزے کی تلاش میں سرگرم تھیں۔  ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر ائیر کرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے منگل کو کراچی میں جائے حادثہ کا دورہ کیا اور تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے کا معائنہ کیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے طیارے کے انجنوں، لینڈنگ گیئر، ونگز اور فلائٹ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لیا۔ غیر ملکی ٹیم نے طیارہ گرنے سے تباہ ہونے والے گھروں کا بھی معائنہ کیا۔ طیارے کے ملبے اور متاثرہ عمارتوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فائر ڈپارٹمنٹ اور پی آئی اے کے فلائٹ سیفٹی اور انجینئرنگ کے افسران نے غیر ملکی ٹیم کو بریفنگ دی۔

اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔ ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کر رہے ہیں۔

ادھرکراچی میں طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی ہے۔ اقبال کاظمی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قومی ایئر لائن کے لیے مخدوش حالت میں طیاروں کا خریدنا اور اڑانا مسافروں اور عملے کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس سے 97 افراد جاں بحق ہوئے۔ طیارے میں عملے کے اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔

درخواست گزار کے مطابق پی آئی کے طیاروں پر سفر کرنے والے روزانہ 800 سے زائد مسافروں کی جان کو خطرہ ہے، لہٰذا پی آئی اے کے انسپکشن اور کلیئرنس کے بغیر مسافر بردار طیاروں کو روکا جائے۔