کامران ندیم کی ’مہا بھارت‘

پچھلے سال دسمبر کی 30تاریخ کو میرے انتہائی شفیق دوست ارشد رضوی میرے ہاں تشریف لائے۔ابتدائی حال احوال کے بعد انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں اعلان کیا کہ وہ میرے لئے ایک خاص کتاب لے کے آئے ہیں۔اس کا مختصر تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے مرحوم دوست کامران ندیم کی ’مہا بھارت‘ ہے ساتھ ہی انہوں نے یہ کتاب انتہائی پُر تپاک انداز میں مجھے باقاعدہ طور پر پیش کی اور اس عمل کی تصویر بھی بنائی گئی۔

میں کامران صاحب سے کبھی نہیں ملا مگر رضوی صاحب کے توسط سے مجھے ان سے غائبانہ تعارف ضرور تھا۔ جب وہ بیمار تھے تو رضوی صاحب نے کئی مرتبہ اس کا تذکرہ کیا، جب ان کا انتقال ہوا تب بھی رضوی صاحب ہی کے ذریعے یہ افسوسناک اطلاع ملی۔بعد میں جب رضوی صاحب امریکہ تشریف لے گئے تو واپسی پر کامران کے بارے میں، ان کی شاعری، شخصیت اور اپنے تعلق بارے بہت تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ محترمہ فرح کامران کس طرح اپنے مرحوم شوہر کے علمی و ادبی کام کو اپنے انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں۔

میرے مطالعے میں اکثر و بیشتر ایک سے زائد کتب رہتی ہیں، مہا بھارت کے ہاتھ آتے وقت بھی کچھ یہ ہی حال تھا، اس لئے اس پر تاریخ لکھ کر دستخط کئے اورسامنے میز پر دیگر کتابوں کے ساتھ رکھ دی۔(تاریخ لکھنے اور دستخط کرنے کی عادت کئی سالوں سے ہے،کافی عرصہ پہلے مجھے دو نئی کتابیں کہیں سے ملی تھیں جنہیں میں اپنے سٹاف روم میں کچھ دوستوں کی موجودگی میں رکھ کے بھول گیا تھا اگلے دن وہ کتابیں اس جگہ پہ نہیں تھیں اور وہ کتابیں آج تک مجھے نہیں ملیں)۔

ایک آدھ مرتبہ مہا بھارت کے سر ورق نے پڑھنے کی طرف راغب کیا مگر چند صفحات سے آگے نہیں پڑھ سکا اس کی وجہ وہ کتابیں ہیں جو میں پڑھ رہا تھا، ایک "Sapiens"تھی جو Yuval Noah Harariکی مسحور کن تحریر ہے، یہ انسانی ارتقاء میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔دوسری Aldous Huxley کی Brave New Worldتھی جو 1932میں لکھی گئی تھی۔ یہ Dystopianادب کا شہکار ہے۔ میں نے یہ کتاب کافی عرصہ پہلے پڑھی تھی تب کچھ زیادہ سمجھ نہیں پایا تھا اب پڑھا ہے تو بہت لطف آیا ہے۔جن اصحاب نے یہ کتاب زمانہئ طالبِعلمی میں پڑھی تھی میرا ان کو مشورہ ہے کہ اب دوبارہ پڑھیں۔

ان کتابوں کو پڑھتے پڑھتے Covid-19کے زمانے میں آن پہنچا اور گویا ہر شے بدل گئی، لاک ڈاؤن ہو گیا اور میں بھی لاکھوں کروڑوں انسانوں کی طرح اپنے گھر میں نظر بند ہو گیا۔ لیکن اس جبری نظر بندی کا جو فائدہ مجھے ہوا شاید ہی کسی کو ہوا ہو۔یہ ادبی لحاظ سے میرے لئے نہایت مفید رہا اس کی تفصیل پھر کبھی تحریر کروں گا۔اسی جبری نظر بندی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مہا بھارت کو پڑھنے اور تفصیل سے جانچنے کا موقع ملا۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس کتاب کو شروع کرنا مشکل تھا مگر سچ پوچھئے تو ایک درجن صفحات پڑھنے کے بعد پھر اسے چھوڑنا مشکل ہو گیا یہاں تک کہ دو ہفتوں سے بھی کم مدت میں اس کتاب کو مکمل پڑھ لیابلکہ بہت ساری تفصیل گوگل اور دیگر انٹر نیٹ ذرائع سے حاصل کی جس کی وجہ سے کامران ندیم کی اس کاوش کو صحیح سیاق و سباق میں پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

مہا بھارت دراصل دنیا کی طویل ترین نظم ہے یہ رمائن کے ساتھ قدیم انڈیا میں سنسکرت میں لکھی دو نظموں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اس کا صحیح سنِ تحریر معلوم نہیں ہے مگر کہا جاتا ہے کہ یہ لگ بھگ چوتھی صدی قبل از مسیح میں تحریر کی گئی اور اس میں واقعات کا تعلق آٹھویں اور نویں صدی قبل از مسیح سے ہے۔ایک لاکھ اشعار پر مشتمل اس طویل نظم میں دو لاکھ مصرعے ہیں۔ اس کے خالق کا نام رشی ویاس  ہے جو خود  بھی اس کہانی کا ایک اہم کردار ہے۔ اس نظم اور اس میں بیان کردہ کہانی کو ویاس کے شاگر د  ویشم پائن نے مہا راجہ  جنمے  کے دربار میں پہلی دفعہ سنایا تھا۔ مہاراجہ پانڈوؤں کے خاندان سے تھا اور اس دن اس کے دربار میں سانپوں  کی قربانی دی جا رہی تھی۔

ویاس نے کہانی لکھنے کے لئے گھنیش کی خدمات حاصل کی تھیں، مگر گھنیش نے اس شرط پر یہ کہانی  لکھنے کی حامی بھری تھی کہ ویاس ساری کتھا ایک ہی نشت میں لکھوائے گا۔ ویاس نے یہ شرط مان لی مگر اپنی اس شرط پر کہ گھنیش ایک شعر لکھنے کے بعد دوسرا شعر اس وقت تک نہیں لکھے گا جب تک اس کو پہلا شعر اچھی طرح سمجھ میں نہ آ جائے۔ اس طرح دونوں نے اپنی اپنی شرائط کے ساتھ اس عظیم شہکار کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا۔

چونکہ اس کہانی کا سارا مضمون، سیاق و سباق، کردار اور استعارے ہندو متھا لوجی پر مبنی ہیں اس لئے اس کو اردو زبان میں پیش کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ میں کامران ندیم کی ہمت اور ذہانت کی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اتنے مشکل کام کا بیڑہ اُٹھایا اور آخری دم تک اسے مکمل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ ان کی یہ کاوش ادھوری رہی، اگر زندگی کچھ اور مہلت دیتی تو وہ ضرور اس شہکار کو مکمل کر لیتے۔  اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ کسی طرح سے کم ہے، انہوں نے تقریباً ساٹھ فیصد کام مکمل کر لیا اور کہانی کو اس موڑ پر لے آئے جہاں کوروؤں اور پانڈوؤں میں مہایُدھ ہونا ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ راوی نے اس کو اصل حالت میں من و عن پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے، دوسری خوبی یہ ہے کہ زبان کی چاشنی کو برقرار رکھا گیا ہے۔

اشعار کو نثر میں بیان کرنے سے اکثر زبان و بیان کا مزہ جاتا رہتا ہے مگر کامران ندیم نے اس امر کا خصوصی اہتمام کیا ہے کہ زبان کا مزہ قائم رہے۔اس لئے بعض اوقات یہ نثری شاعری معلوم ہوتی ہے۔یہاں میں نمونے کے طور پر دو اقتباس پیش کرتا ہوں: ’جب پورب کے باتری نے  انبر کی پگڈنڈی پر ایک نئے دن کی یاترا شروع کی تو پانڈوؤں نے بھی اُتر کی اُور جانے والی پگڈنڈی پر سفر کا آغاز کیا۔وہ بن بن، پربت پربت، وادی وادی گھومتے رہے۔ انہوں نے اپنا حلیہ رمتا جوگیوں کا سا بنا لیا، چیڑ کا گوند مَل کر   اپنے بالوں کی موٹی موٹی لٹیں بنا لیں اور جسموں کو پیڑوں کی چھال اور جانوروں کی کھال سے ڈھک لیا۔ انہوں نے دیس دیس نگر نگر کی سیر کی۔وہ ماتسی،  تر گرت، پنچال اور کیچک کے راجوں میں گھومے۔ انہوں نے اٹھکیلیاں کرتے جھرنوں کے کنارے سورج کو اُگتے دیکھا، مدھیہ لَے میں گنگناتی ندیوں کے کنارے سورج کو ڈوبتے دیکھا‘۔ (صفحہ 142)

اور یہ دیکھئے:

اگلی بھور جب اوشا کی دیوی نے سنسار میں اُجالا کیا، بنوں میں پنچھیوں نے اپنی آوازوں میں راگ شو مت بھیروں کا الاپ کیا، ایک چکرا نگری کے مندر میں گھنٹیاں بجیں اور پجاریوں نے راگ رام کلی میں رام بھگتی کے بھجن گائے۔اُدھر سورج مہاراج کا رتھ  پورب سے پچھم کی اُور چلا ادھر برہمن کے گھر سے بھینسوں کے چھکڑے میں بھیم نے پچھم سے پورب کی اُور یاترا شروع کی‘۔ (صفحہ 144)

کامران ندیم کی مہا بھارت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں علاقائی رنگ اور روح پوری طرح سمائی ہوئی ہے۔انہوں نے ما فوق     الفطرت کرداروں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری کو سمجھنے میں بالکل دقت پیش نہیں آتی۔ ا گرچہ یہ ایک دیو مالائی داستان ہے جو آج کے سائنسی اطوار اور نظریات سے کسی طور پر بھی میل نہیں کھاتی مگر قاری کو کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا۔راوی کی سب سے بڑی  کامیابی یہ ہے کہ  قاری ایک صفحہ ختم کرنے کے بعد رُکتا نہیں بلکہ آگے بڑھتا  چلا جاتا ہے اور آخری صفحے پر پہنچ کے ہی دم لیتا ہے اور اس بات کی خواہش بھی کرتا ہے کہ کاش یہ کہانی مکمل ہوتی۔

 تاہم اتنی زیادہ اور بھر پور خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل بھی ہیں جن کی نشاندہی کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں۔ مثلاً راوی نے ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات مطلب سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر شروع میں مشکل الفاظ کی فہرست   (Glossary)دی جاتی اور ان الفاظ کی تشریح کر دی جاتی۔ اب بھی اگر دوسرے ایڈیشن میں اس کمی  کو پورا کر دیا جائے تو یہ اردو کے قارئین کیلئے بہت اچھا ہوگا۔

دوسرے کہیں کہیں مجھے کتابت کی غلطیاں بھی نظر آئی ہیں جن کی درستی ضروری ہے۔مجھے قوی امید ہے نئے ایڈیشن میں اس کمی کو بھی دور کر دیا جائے گا۔ سب سے بڑی اور نمایاں کمی اس کتاب کا نا مکمل ہونا ہے۔ آخر میں یوں لگتا ہے کہ قاری کہیں جنگل میں کھو گیا ہے جس سے نکلنا مشکل ہے، وہ مزید پڑھنا چاہتا ہے مگر کیسے۔

میری گزارش ہے کہ محترمہ فرح کامران اور کامران ندیم کے قریبی احباب اگر مل کر اس ادھوری کہانی کو مکمل کرنے کی کوشش کریں تو یہ نہ صرف علمی لحاظ سے بہت بڑا کام ہو گا بلکہ کامران ندیم کی بے چین آتما کو بھی سکون مل جائے گا کیونکہ مہا بھارت لکھنا اور مکمل کرنا ان کا دیرینہ سپنا تھا۔