پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات اور متاثرین میں مسلسل اضافہ
- ہفتہ 30 / مئ / 2020
- 5090
پاکستان میں کورونا وائرس کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 68 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 81 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے۔
کورونا کی تبدیل ہوتی صورت حال میں اگلے ہفتے نیشنل کمانڈ اینڈ کنترول سنٹر کا اجلاس ہوگا جس میں لاک ڈاؤن سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر شہریار آفریدی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان میں وائرس سے طبی عملے کے متعدد اراکین بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس وقت دنیا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد ساٹھ لاکھ تک پہنچنے والی ہے جبکہ اموات کی تعداد تین لاکھ 65 ہزار ہوچکی ہے۔
افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع کرم میں ایک ہی روز میں کورونا کے مزید 45 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ایک ہی خاندان کے 19 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ضلع کرم میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے 87 افراد کے کورونا ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 54 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ ضلع کرم میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 148 ہو گئی ہے۔ کورونا وائرس کے ایک مریض کے خاندان اور رشتہ داروں کے ٹیسٹ لیے گئے تو خاندان کے 19 میں سے 14 افراد کے ٹیسٹ مثبت آ گئے۔
بھارت میں کورونا وائرس کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کورونا کے ریکارڈ 7964 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسپتالوں میں جگہ کم پڑنے کے باعث مختلف شہروں میں عارضی اسپتال قائم کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے ملک بھر میں کورونا کے باعث بند کی جانے والی مساجد کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتے کو سرکاری ٹی وی پر لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے صدر روحانی نے کہا کہ شاپنگ مالز بھی شام چھ بجے کے بعد تک کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ ایران میں سرکاری اہلکاروں نے بھی ہفتے سے دفاتر میں کام شروع کر دیا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ملک بھر کی مساجد کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھولے جا رہے ہیں۔ لیکن شہریوں کو احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے برقرار رکھنا ہوں گے۔ ایران میں اب بھی کئی علاقوں میں وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ دیکھا جارہا ہے۔ ملک بھر میں اب تک کورونا کے 146668 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ وائرس سے 7677 اموات ہو چکی ہیں۔
گزشتہ پانچ سال سے جنگ سے تباہ حال اور انسانی بحران سے دوچار یمن میں کورونا وائرس وسیع پیمانے پر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائیندے مارک لوکوک کے مطابق کہ تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری کے شکار لوگوں کو اسپتال میں داخل نہیں کیا جارہا، کیونکہ یا تو وہ پہلے ہی بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں اور گھر پر فوت ہورہے ہیں۔
مقامی حکام کا بھی یہی کہنا ہے کہ روزانہ درجنوں اموات ہورہی ہیں، جن کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا رہا۔ جنوبی مغربی صوبے تعز میں عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹر آدم الجیدی نے کہا کہ وبا بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے جہاں پہلے ہی خسرہ، ڈینگی اور چکن گونیا جیسی بیماریاں موجود ہیں۔ یمن کا نظام صحت پانچ سال کی جنگ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ صحت عامہ کے محض نصف مراکز کام کررہے ہیں اور ان میں سے بھی بیشتر کے پاس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے عملے، دواؤں اور آلات کی کمی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے صحت کے 38 مراکز کو امداد فراہم کی ہے۔ لیکن ان سے آدھے ہی بھرپور خدمات انجام دینے کے قابل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے قرنطینہ مراکز بھی قائم کیے ہیں، ٹیسٹ کے لیے ہزاروں کٹس منگوائی ہیں اور اسپتالوں کو آکسیجن کی کافی مقدار میں فراہمی کی کوشش کررہی ہے۔