سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے الزام میں سفید فام پولیس اہلکار گرفتار
- ہفتہ 30 / مئ / 2020
- 4420
امریکہ کے شہر منیاپولس میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے معاملے کو اقدام قتل قرار دے کر مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
واقعے میں پولیس افسر نے ایک افریقی امریکی شخص کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے ہتھ کڑیاں لگائیں۔ زیر حراست شخص بعدازاں دم توڑ گیا تھا۔ گرفتاری کے دوران وہ شخص سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کرتا رہا۔ پولیس اہلکار پر قتل اور اقدام قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ہنیپن کاؤنٹی کے اٹارنی، مائیک فریمین نے جمعے کے روز باضابطہ فرد جرم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس جرم ثابت کرنے کے لیے کافی شہادتیں موجود ہیں۔ فریمین نے فوری طور پر اس کی تفصیل بیان نہیں کی۔
اس سے قبل جمعے کی شام وائٹ ہاؤس کے سامنے ایک بڑا ہجوم جمع ہوا، جس نے جارج فلائیڈ کے حق میں نعرے لگائے اور انصاف طلب کیا۔ کینٹکی کے شہر لوئیزول کے علاوہ کئی شہروں میں احتجاج ہوا اور ہنگامہ آرائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں گزشتہ تین روز سے جاری احتجاجی مظاہرے جمعے کی صبح تک جاری رہے۔
ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ''میں امریکہ کے ایک عظیم شہر میناپولس میں یہ سب کچھ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ یا تو کمزور، بائیں بازو کے قدامت پسند میئر، جیکب فرے شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے اقدام کریں یا پھر میں صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے نیشنل گارڈ روانہ کروں گا''
مظاہرے ایک افریقی امریکی کے گرفتاری کے دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو جانے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ پولیس افسر نے زیرِ حراست جارج فلائیڈ کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا تھا اور اس کے بار بار یہ کہنے پر بھی دباؤ کم نہیں کیا تھا کہ اسے سانس نہیں آرہا۔ گرفتاری کے بعد جارج کو ایک قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ اس کارروائی کی وڈیو سامنے آتے ہی امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاج پھوٹ پڑے۔ سب سے پر تشدد احتجاج منیاپولس میں پولیس کے پریسینکٹ 3 میں ہوا۔ لوگوں نے وہاں پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی، کئی سٹورز بھی آگ سے متاثر ہوئے اور بعض جگہ لوٹ مار بھی کی گئی۔
جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے لوگوں سے کہا کہ وہ پر امن ہو جائیں تاکہ انصاف کیا جا سکے۔ رات بھر کے پر تشدد مظاہروں کے بعد اب علاقے میں خاموشی تھی۔
امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے خلاف تشدد کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں لیکن پولیس افسر قواعد کا حوالہ دے کر الزام سے بری ہوجاتے ہیں۔