بھارت امریکہ تعلقات میں دو رکاوٹیں:روس اور پاکستان

امریکی ماہر مچل پلز بری نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات آئندہ بیس سال میں بڑی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں۔ یہ انڈیا کے لئے موقع ہے کہ وہ وقتی فائدے کے بجائے چین کا مقابلہ کرنے کے لئے آئندہ بیس سال کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔  تاہم ابھی تک انڈیا ایسا کرتے نظر نہیں آ رہا۔

 بھارت کا امریکہ کی بجائے روس پہ  انحصار اور بھارت کاچین کے بجائے پاکستان پر ’فوکس‘ رکھنا،  امریکہ اور انڈیا کے درمیان تعلقات کے فروغ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ مچل پلز بری نے  انڈیا ٹو ڈے   کی ویڈیو رپورٹ میں چین اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چند سال سے چین یہ سمجھتا ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک اس کی حیثیت کو عزت نہیں دیتے۔وہ دیکھتے ہیں کہ چین ایک طرف  مختلف حوالوں سے عالمی طاقت  کے طور پر امریکہ کے قریب آ گیا ہے،  خاص طور پر جی ڈی پی کے حوالے سے۔  چین سمجھتا ہے کہ اس کے چند ہمسایہ ممالک اس کی اس حیثیت کا اعتراف، ادراک اور احترام نہیں کر رہے۔چین کے کئی سکالرز نے انڈیا اور چین کی طاقت کے بارے میں تخمینہ لگایا کہ معاشی و دیگر عوامل کے حوالے سے چین اور بھارت میں چار اور ایک کی نسبت ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں بھی چین بھارت سے کئی گنا بہتر ہے۔  چین نے اپنی پرانی پالیسی تبدیل کر لی ہے کہ پہلے وہ تجارت کے لئے اپنا سر جھکا لیتا تھا۔

مچل پلز بری نے کہا کہ امریکہ اور چین کے  تعلقات کی تبدیلی میں انڈیا کے لئے موقع ہے کہ وہ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کرے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنے نئی دہلی کے دورے میں  محسوس کیاکہ دہلی میں وہی بحث ہو رہی تھی جو واشنگٹن میں بھی ہو رہی ہے کہ چین اپنے اہداف سے متعلق اپنی شرائط، اور امیدوں کے مطابق پیش رفت کر رہا ہے۔انڈیا کی فوج کے بہت سے لوگ اب بھی امریکہ کے بجائے  روس سے محبت کرتے ہیں۔  انڈیا کا زیادہ فوکس پاکستان  پر ہے،  وہ چین کے بارے میں نہیں سوچتے۔  یہ بڑی رکاوٹ ہے اس تجویز کی راہ میں کہ یہ وقت انڈیا کے لئے ایک مفید موقع ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ دہلی میں جس طرح سوچا جا رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئندہ بیس سال کی صورتحال کے مطابق اپنے لئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ نہیں دے رہا۔چین اور انڈیا کی دیکھیں، ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر،  فائیو جی،  انڈیا کو چاہئے کہ وہ چینی منصوبے کے مطابق خود کو’سپر سٹرانگ‘ بنانے پر توجہ دے، ڈپلومیٹک فوائد میں محدود نہ رہے۔ 

مچل پلز بری کا کہنا ہے کہ  انڈیا کے سامنے یہ  موقع ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی  تجارت اورسرمایہ کاری سے اپنی اقتصادی ترقی پر توجہ دے۔ چین امریکہ تعلقات کا  راز یہ ہے کہ چین اور امریکہ نے چالیس سال قبل طے کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے، اکنامک پارٹنر بنیں گے۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہمارا بڑا اقتصادی پارٹنر چین ہو گا۔   امریکہ نے بھارت کی نسبت چین میں بیس گنا زیادہ  سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکہ کی چین کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر انڈیا کی نسبت بہت زیادہ ہے۔  صدر ٹرمپ نے بجا طور پر کئی بار کہا ہے کہ امریکہ انڈیا کو تعمیر کرے گا تاہم یہ فیصلہ بہت  پیچیدہ ہے۔ اس کا انحصار انڈیا پہ ہے کہ وہ آئندہ  بیس سال کے مطابق فیصلے کرے،  لیکن ابھی تک انڈیا ایسی راہ اختیار کرتا نظر نہیں آ رہا۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے چین اور انڈیا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کے حوالے سے  مچل پلز بری نے کہا کہ انڈیا کو یہ سہولت حاصل ہے کہ صدر ٹرمپ واقعی انڈیا سے محبت کرتے ہیں۔ صرف انڈیا کے وزیر اعظم سے نہیں بلکہ تمام ملک سے۔اسی لئے انہوں نے ثالثی کی پیشکش کی ہے جسے آپ ثالثی کہیں یا کچھ اورنام دیں۔  امریکہ انڈین آرمڈ فورسز کو دیکھتا ہے جو روسی ٹیکنالوجی پہ بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔اور خاص طور پہ انڈین فوج کی شمالی کمان،مغربی کمان کے ساتھ مشقیں کرتی ہے۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ تمام توجہ پاکستان پر مرکوز رکھی جار ہی ہے۔یعنی یہ ظاہر ہے کہ انڈیا کی فوج پاکستان کے لئے ہے۔ یہ مشقیں بھی یہی ظاہر کرتی ہیں۔ناردرن کمانڈ یتیم کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ چین کو انڈیا کے ساتھ سرحدی امو رپر طویل المدتی مسائل ہیں۔ انڈیا کے روس کے ساتھ تعلقات اور انڈیا کا پاکستان کے بارے میں رویہ انڈیا کی پالیسی پہ حاوی ہو جاتے ہیں اور اس سے چین کو فائدہ پہنچتا ہے۔