پاکستان میں کورونا وائرس کے 70 ہزار سے زائد مریض، اموات 1500 تک پہنچ گئیں

  • اتوار 31 / مئ / 2020
  • 4680

پاکستان میں کورونا وائرس دن بدن تیزی سے پھیل رہا ہے اور گزشتہ 2 روز سے کیسز اور اموات کی تعداد میں اچانک تیزی آئی ہے اور اب تک ملک میں مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد 70 ہزا 381 ہوگئی جبکہ اموات پندہ سو تک تک پہنچ گئیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آج ابھی تک مزید 2098 مریض آئے جبکہ 58 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق  دنیا میں مریضوں کی تعداد 61 لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی۔  جبکہ تین لاکھ ستر ہزار افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے تھے۔ امریکہ بدستور مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔ جہاں اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد 18 لاکھ سے زیادہ ہے۔ جب کہ ایک لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

برازیل اس فہرست میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جہاں مریضوں کی تعداد چار لاکھ 70 ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے 1068 ڈاکٹر متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرہ نرسز کی تعداد  302 ہے۔ ملک بھر میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 70ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں عید کے بعد کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 88 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔  پاکستان میں عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فیس ماسک نہ پہننے پر سزا دی جائے گی۔ بلوچستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ریحان کے بقول صوبے کے 45 ڈاکٹرز کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ پانچ ڈاکٹرز جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایم سی آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ڈاکٹر شاہ ولی کی گزشتہ شب موت ہوئی۔ دوسری طرف ایک روز قبل کورونا کے باعث زندگی کی بازی ہارنے والے ڈاکٹر زبیر کی اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد اُن کے شوہر کا مناسب علاج نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر زبیر، اُن کے دو بچوں اور اہلیہ کا 15 مئی کو ٹیسٹ کیا گیا جس میں ڈاکٹر زبیر کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی جبکہ بیٹی اور اہلیہ کا مثبت آیا لیکن دس روز تک مسلسل کھانسی، گلے اور سینے میں شدید تکلیف برداشت کرنے کے بعد ڈاکٹر زبیر کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا جس کا نتیجہ مثبت آیا جس کے بعد وہ گھر پر ہی قرنطینہ ہوئے۔ اُن کے بقول انتقال سے قبل ڈاکٹر زبیر کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی تھی جس پر ایمبولینس کو طلب کیا گیا۔ کئی گھنٹوں تک انتظار کے بعد بھی ابمبولینس نہیں آئی اور اس دوران وہ دم توڑ گئے۔ ان کی اہلیہ نے حکومت کی طرف سے فراہم کردہ پی پی ای کٹس کے معیاری ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف ترجمان محکمہ صحت بلوچستان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ بی ایم سی ٹراما سینٹر کے انچارج ڈاکٹر زبیر احمد کو دوران علالت تمام تر طبی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر زبیر احمد قبل از وفات ایک ہفتے سے چھٹی پر تھے۔ دوران علالت ان کی درخواست پر ڈی جی ہیلتھ نے ان کے گھر خصوصی طبی ٹیم بھیجوائی جس نے مختلف ٹیسٹ کیے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر زبیر احمد، ان کی اہلیہ اور بیٹے کا ٹیسٹ پازیٹو آیا جس کے بعد انہوں نے از خود گھر میں آئسولیٹ ہونے کا فیصلہ کیا۔

طبیعت زیادہ خراب ہونے پر ڈاکٹر زبیر احمد نے موت سے ایک گھنٹہ قبل محکمہ صحت بلوچستان سے رابطہ کیا جس پر فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے انہیں شیخ زید اسپتال منتقل کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق شیخ زید اسپتال میں ماہرین اور طبی اسٹاف نے انہیں مکمل توجہ دی اور ان کی جان بچانے کے لیے تمام تر کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر زبیر بلند فشار خون اور ذیابیطس میں بھی مبتلا تھے۔

ادھر اقوام متحدہ نے کورونا وائرس سے متاثر دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی ذہنی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے علاج پر زور دیا ہے۔ ان میں صرف بیمار افراد ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو وائرس سے خوفزدہ ہیں۔ طبی عملہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والا سینئر ڈاکٹر اعظم خان کا کورونا وائرس کے باعث انتقال ہو گیا ہے۔ بچوں کے امراض کے ماہر ممتاز ڈاکٹر اعظم خان نوشہرہ کے قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

ڈاکٹر اعظم خان کے عزیز و اقارب کے مطابق چند دن قبل ڈاکٹر اعظم خان کی حالت بگڑنے پر انہیں اسلام آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں پر وہ کورونا وائرس کے باعث اتوار کی صبح انتقال کر گئے۔ اعظم خان سے قبل خیبر پختونخوا کے کئی ایک سینئر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ارکان وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انتقال کر چکے ہیں۔