معشیت کے مزید شعبے کھولنے کے لئے صوبوں سے رائے طلب کرلی گئی

  • اتوار 31 / مئ / 2020
  • 5070

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا کے سبب بند کیے گئے مزید معاشی شعبے کھولنے کی تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے صوبوں سے رائے طلب کرلی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے کووِڈ 19 کے حوالے سے طویل المعیاد اور مختصر مدت کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ این سی او سی نے تجویز دی کہ تعلیمی ادارے اگست کے اختتام تک بدستور بند رکھنے چاہئیں جبکہ شادی ہالز کو مہمانوں کی محدود تعداد، ون ڈش اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد کے ساتھ کھولنے کی اجازت دینی چاہیے۔

اجلاس میں کووِڈ 19 کے حوالے سے عوام کی آگاہی  کے لیے بہتر پیغامات اور رابطوں کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مارچ کے اواخر میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا جس کے باعث متعدد صنعتوں شعبوں کی بندش کے ساتھ ہی ملکی معیشت کا پہیہ جام ہوگیا تھا۔

وزیراعظم نے معیشت کو سہارا دینے اور غریب افراد کو 12 ہزار کا وظیفہ دینے کے لیے 8 کھرب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔ بعدازاں 9 مئی کو وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اعلان کردیا تھا اور صنعتوں اور بازاروں سمیت معیشت کی متعدد شعبے کھول دیے گئے تھے۔

ملک میں کئی سرگرمیاں اب بھی معطل ہیں جس کو کھولنے اور ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کی سربراہی میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز ہوگا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے۔

خیال رہے کہ ملک میں گزشتہ 3 روز کے دوران کورونا وائرس کے کیسز میں واضح اضافہ دیکھا گیا جبکہ روزانہ ہونے والی اموات کی شرح بھی بڑھی ہے۔

ملک میں اب تک ستر ہزار سے زاید لوگ کورونا کا شکار ہوچکے ہیں جبلکہ مرنے والوں کی تعداد پندرہ سو سے تجازو کرچکی ہے۔