افراطِ آبادی کی بربادی
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 01 / جون / 2020
- 12330
یہ زمیں ایک کچے آنگن اور کچّے کوٹھے پر مشتمل ہے جس میں گنجائش سے زیادہ لوگ رہ رہے ہیں ۔ ان لوگوں میں وہ چالاک لوگ بھی ہیں جو کمزوروں کا رزق کھا جاتے ہیں ۔ اُن کے اپنے بھڑولے تو بھرے ہوئے ہیں مگر وہ اُس گندم میں سے ایک ایک مٹھی اُن فاقہ کشوں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں ، جو زمین کے اس کچے کوٹھے کے باہر پڑے سسک رہے ہیں ۔
یہ اس گلوبل گاؤں کا حال ہے جہاں لوگ جمہوریت ، اسلام ، کمیونزم سے سوشل ڈیموکریسی تک نہ جانے کون کون سے نظریوں کو رٹ کر ایک دوسرے کے کانوں میں پھونک رہے ہیں مگر دنیا بدستور عدم مساوات ، نا انصافی ، مفلسی اور جہالت کی آگ میں جل رہی ہے ۔ وہ اس لیے کہ ہم نے اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کے اصول پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے کبھی ہمارا سر اقتصادی چادر سے باہر ہوتا ہے اور کبھی پاؤں اور ہم زندگی کا توازن قائم نہیں رکھ پا رہے ۔
پرسوں ۳۰ مئی تھی جو کاغذوں میں میرا جنم دن ہے ۔ ۷۶ سال پہلے مجھے سزا کے طور پر اس زمین پر اتارا گیا جس میں سے ۳۵ برس کا عرصہ میں نے اُس زمین پر گزارا جو مملکتِ خُداداد پاکستان ہے ، پانچ برس ملکوں ملکوں دربدری میں کاٹے ۔ افغانستان ،بھارت ، نیپال اور بنگلہ دیش جو کبھی مشرقی پاکستان بھی ہوا کرتا تھا ، کی خاک چھانی ۔ اور اب پچھلے چھتیس برس سے ناروے کے مہاجر کیمپ میں مقیم ہوں ۔ ان ۷۶ سالوں میں جو احساس میرے حواس پر شدت سے غالب رہا یہ ہے کہ میں اس زمین کا نہیں ہوں، کہیں اور سے ہوں ، کسی دوسرے سیارے کی آتما ہوں اور یہاں قید ہوں ۔ کہیں کہیں یہ احساس میری شاعری میں بھی عود کر آتا ہے جیسے :
زمین میرے لیے سیر گاہ ہے مسعود
میں شمس زاد ہوں نیلے گگن میں رہتا ہوں
یہ زمیں ایک جیل ہے مسعود
میں سزا کاٹنے ہوں آیا ہوا
میں نگاہ اُٹھا کر دیکھتا ہوں کہ یہ زمین اب وہ ٹرک بنی ہوئی ہے جو اس قدر اوور لوڈ ڈ ہے کہ اسے چلانا مشکل ہو رہا ہے ۔ کبھی ایندھن ختم ہوجاتا ہے ، کبھی مسافروں کے لیے سامانِ خورونوش کم پڑ جاتا ہے تو بچوں کی چیخ و پکار سے وہ طوفان مچتا ہے کہ الامان ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس زمین پر شادی کا ادارہ برباد ہوچکا ہے ۔ لوگ بیویوں کو بچہ سازی کی مشینیں سمجھتے ہیں اور جب بچے چلنے پھرنے لگیں تو انہیں کام پر لگا کر اُن کی کمائی کھاتے ہیں ۔ میں نے پاکستان میں قیام کے دورسن ۳۵ برسوں میں لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر اُن بچوں کو جن کی سکول جانے کی عمر ہوتی ہے ، جوتے پالش کرتے ، ریستورانوں کی میزیں صاف کرتے ، مالش کرتے ،گاڑیوں کے شیشے پو نچھتے ، گھروں کے چھوٹے موٹے کام کرتے دیکھا ہے تاکہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے ذریعہ آمدنی بن سکیں اور اپنی کفالت بھی کریں ۔ ان بچوں کا بچپن نہیں ہوتا ۔ وہ بچپن ہی میں بوڑھے ہوجاتے ہیں ۔ مجھے یاد آ رہا کہ مجھے سورہ مزمل کا ورد کرتے برسوں بیت گئے ہیں اور جب میں یہ پڑھتا ہوں کہ :
فکیف تتقون ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیبا
تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو اگر اُس دن کا انکار کرو جو بچوں کو بوڑھا کردے گا ، تو میں رو پڑتا ہوں ۔
اور سوچنے لگتا ہوں کہ عجیب تماشا ہےکہ یہاں بوڑھے بچے اپنے ماں باپ کو پالتے ہیں ۔ بچوں سے بھیک منگوانا ، اُن کا بچپن چھین کر اُنہیں گھریلو یا بازاری نوکر بنادینا ظلم ، جبر ، نا انصافی اور شرفِ انسانیت کی نفی ہے ۔ اور اس سے زیادہ مکروہ صورتِ حال یہ ہے جب ماں باپ اپنے بچوں کو خود ہی یتیم خانے میں داخل کروا کر اپنی موت کا وارنٹ بن جاتے ہیں یا اُنہیں اُن مدرسوں میں چھوڑ آتے ہیں جہاں وہ اکثر و بیشتر جنسی درندوں کے جال میں پھنس کر اخلاقی موت مر جاتے ہیں یا درندوں کی جون بدل لیتے ہیں ۔ اور مذہبی ادارے جن کی بنیادی ذمہ داری ملک میں اخلاقیات کی سرحدوں کی حفاظت اور اعلیٰ انسانی قدروں کی تبلیغ ہوتی ہے اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے اور اُلٹا ملک کے قانون نظام میں سقم نکالتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ قانون کی پابندی سکھانا تو اُن کا کام ہے ، جو وہ نہیں کرسکے تو اب وہ شلغموں سے مٹی جھاڑ کر دین کی کون سی خدمت کر رہے ہیں ۔
ہمارے یہاں آبادی کو ملکی وسائل اور اقامتی گنجائش کے مطابق رکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی اور اس کے ذمہ دار وہ مذہبی ادارے ہیں جو کہتے ہیں کہ رازق اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ہرشخص کو رزق دینا ہے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ رہنے کو گھر بھی رزق کا ہی حصہ ہے جو خطِ غربت سے نیچے سسکنے والوں کو بہت کم میسر ہے جب کہ سینکڑوں ایکڑوں کی اقامت گاہوں میں رہنے والے درندے ان لوگوں کا رزق کھا جاتے ہیں ۔ یہ اہل، زر لوگ بھی قبضہ گروپ ہی ہیں جنہوں نے عالیشان حویلیوں پر قبضہ کر رکھا ہے جہاں وہ اکیلے کئی کئی کمروں میں اپنی ناجائز ملکیت کا جشن مناتے ہیں اور گاتے ہیں:
سلام اُس پر کہ جو ٹوٹے ہوئے حُجرے میں رہتا تھا
اب کوئی شیخ رشید سے پوچھے کہ تمہیں لال حویلی کی کیا ضرورت ہے ۔ تم تو کسی کنوارہ کلب میں ایک کمرہ لے کر رہ سکتے ہو یا وہ سیاستدان جو خود تو لندن اور دوبئی میں رہتے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں شاندار بنگلوں پر قبضے کر رکھے ہیں جہاں عیاشی کر کے وہ پاکستان کے غریبوں کا لہو پی کر اُن کے حق میں گلیسرین کے سیاسی آنسو بہاتے ہیں اور یہ کبھی نہیں سوچتے کہ بالآخر ایک دن خُدا کے حضورسب کا احتساب ہونا ہے ۔ اگر اُن سے احتساب کی بات کی جائے تو وہ خُدا کے سامنے جواب دہ ہونے کا بیان جاری کر کے حقوق العباد کی ادائیگی سے بھاگ جاتے ہیں ۔ یہ ہے وہ جہالت جس میں ہم رہ رہے ہیں ۔ اور ہمارے یہاں شادی کا فرسودہ ادارہ اور غیر موثر فیمیلی پلاننگ ہمارے معاشرے کو برباد کرنے اور شہروں پر آبادی کا غیر ضروری بوجھ ڈالنے کی سازش میں شریک ہیں ۔
اب کوئی پوچھے کہ آخر اُن بچوں کو دنیا میں لانے کی ضرورت ہی کیا ہے جن کی کفالت کی تمہارے پاس نہ ضمانت ہے اور نہ ہی وسائل ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ازدواجی رشتے میں تمہارے پاس وہ چابی آ جاتی ہے جس سے تولید کا تالا کھول کر تم روھوں کو اپنے ہاں مدعو کرسکتے ہو مگر کیا اُن کے کھانے پینے کا بندوبست ہے تمہارے پاس ؟کیا اللہ رات کو تم پر من و سلویٰ اتارتا ہے َ اگر نہیں تو یہ بچہ سازی بند کرو اور زمین کو سستانے دو تاکہ بنی نوعِ انسان سکھ کا سانس لے سکیں ۔
وما علینا الابلاغ
اور اگر ہم نے صورتِ حال کا صحیح ادراک کر کے آبادی کے بہاؤ کے آگے بند نہ باندھا تو ہم اپنے ہاتھوں اپنے کچے کوٹھے سمیت مسمار ہو کر موہنجوداڑو اور ہڑپہ بن جائیں گے ۔ ربِ ذوالجلال ہمیں وارننگ دے رہا ہے اور قرآن گواہ ہے کہ : لکُلِ اُمتہ اجل ْ ہر اُمت کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کر سکتے اور نہ ہی جلدی ۔( یونس ۔ )۴۹