قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے سوال
- منگل 02 / جون / 2020
- 5500
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اثاثہ جات کیس میں حکومتِ پاکستان سے چار سوالات کے جواب طلب کر لیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومتِ پاکستان کے 'اثاثہ جات ریکوری یونٹ' کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اُٹھا دیے ہیں۔
عدالت نے وفاقی حکومت سے پوچھا ہے کہ جسٹس عیسٰی کے خلاف شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجی گئی؟ شکایت صدر مملکت یا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں بھیجی گئی؟ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کیں؟ منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر یہ الزام ہے کہ اُنہوں نے اپنے اہل خانہ کے نام بیرونِ ملک جائیدادیں ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہ کرکے ججز کے طے شدہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی۔ عدالت میں سابق وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر اور سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملائکہ بخاری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے فروغ نسیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مقدمے میں واضح کر چکی ہے کہ سرکار کی طرف سے پرائیویٹ وکیل پیش ہو کر دلائل نہیں دے سکتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت کو نمائندگی کا مکمل حق حاصل ہے۔ ایک اٹارنی جنرل انور منصور ریٹائرڈ ہوئے دوسرے اٹارنی جنرل نے مقدمے کی پیروی سے معذرت کر لی۔ اب عدالت کی معاونت کے لیے وفاقی حکومت نے وکیل تو کرنا ہے۔ اعتراض مناسب نہیں ہے، ہم آپ کی درخواست پر فیصلہ جاری کریں گے۔
وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لندن کی تین جائیدادیں معزز جج کے بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جائیدادیں کن ذرائع سے خریدی گئیں؟ پاکستان سے جائیدادیں خریدنے کے لیے پیسہ باہر کیسے گیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ منی ٹریل نہیں دیتے تو یہ مس کنڈکٹ ہے۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ وفاق کو ججز کی جائیدادوں سے کیا مسئلہ ہے؟ کیا ججز پر بغیر شواہد اور شکایت کے سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ ٹھوس شواہد نہیں ہیں تو ججز کی ساکھ پر سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے، کیا حکومتی اقدامات ججز اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف نہیں؟
سپریم کورٹ نے فروغ نسیم سے چار سوالات پر جواب اور دلائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مواد غیر قانونی طریقے سے اکھٹا کیا گیا۔ آپ نے مواد کو قانونی اکھٹا کرنے پر دلائل دینے ہیں، شکایت اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کیوں بھیجی گئی اور صدر مملکت یا جوڈیشل کونسل کو کیوں نہیں بھیجی گئی؟ جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے کس حیثیت سے معلومات اکٹھی کیں؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو وحید ڈوگر کی شکایت کی کاپی درخواست گزار جج کو فراہم کرنی چاہیے تھی۔
وحید ڈوگر کی شکایت کی دستاویزات کا 10 مرتبہ عدالت نے پوچھا، میڈیا پر کئی بار دستاویزات دکھائی گئیں لیکن عدالت کو نہیں دی گئیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کیا ہے پہلے یہ بتائیں؟ شکایت یونٹ تک کیسے پہنچی اور اس یونٹ کا آرٹیکل 209 کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔