28 مئی اور داستانِ عزم
- تحریر
- منگل 02 / جون / 2020
- 44540
اس بار 28 مئی کا دن سرکاری طور پرخاموشی سے گزر گیا۔ بائیس سال قبل چاغی میں ایٹمی دھماکوں کی کوئی قابلِ ذکر یادگا ری تقریب نہ ہوئی، البتہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں اس کے کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ پر خوب بحث ہوئی۔
اتفاق سے کوئی ایک ہفتہ قبل ہمیں اسلام آباد سے ایک دوست اور معروف صحافی جبار مرزا کے توسط سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایک کتاب موصول ہوئی؛ داستانِ عزم۔ حقائق اور واقعات پر مبنی۔ ایٹمی پروگرام اور ایٹمی دھماکوں کے واقعات کے گِرد وقت کے ساتھ ساتھ جو غبار جمع ہو گیا، اس کتاب میں انہوں نے اپنے تئیں حقائق اور واقعات کو مربوط انداز میں قلمبند کرکے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔ ایٹمی طاقت بننے کی کہانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زبانی اور اس کے اہم کرداروں کا مختصر سا ذکر کچھ یوں ہے:
جب میں دسمبر 1975 میں پاکستان آیا تو وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے درخواست کی کہ میں واپس نہ جاؤں اور ایٹمی پروگرام پر کام کروں۔ وطنِ عزیز سے اپنے جذبہ محبت کی وجہ سے میں سب کچھ چھوڑ کر بیرونِ ملک سے پاکستان آیا۔ بہت ہی قلیل تنخواہ پر کام کیا اور ان گنت مشکلات اور سازشوں کا سامنا کیا لیکن ہمت نہیں ہاری۔ عزمِ مصمم کے ساتھ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لئے پر عزم رہا اور اپنے رفقائے کار کے ساتھ نہایت کم عرصے میں پاکستان کو ایک ایٹمی اور میزائل قوت بنا دیا۔ میں نے اربوں ڈالرز کی ٹیکنالوجی پاکستان کو مفت فراہم کی۔
مجھے اٹامک انرجی کمیشن میں مشیر لگا دیا گیا اور تین ہزار روپے تنخواہ مقرر کی جو چھ ماہ بعد ملی۔ (رکاوٹوں کی اطلاع وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہوئی تو۔۔) بھٹو صاحب لاہور میں تھے انہوں نے مجھے فورا بلا لیا۔ میں نے حقائق سے آگاہ کیا تو کہا مجھے دو دن دے دیں، میں حالات ٹھیک کر دوں گا۔ دو دن بعد مجھے جنرل امتیاز کا فون آیا کہ شام پانچ بجے آغا شاہی کے دفتر میں میٹنگ ہے۔ میں پہلی مرتبہ آغا شاہی، غلام اسحاق خان اور اے جی این قاضی سے ملا۔ دوسرے دن پھر بلایا اورر کہا کہ میرے مشورے کو قبول کر لیا گیا ہے، کل سے یہ پروگرام علیحدہ ہو گا اور میں اس کا سربراہ ہوں گا۔ دو دن بعد بھٹو صاحب نے میٹنگ بلا لی اور خوش آمدید کہنے کے بعد مجھ سے کہا کہ بتاؤ کیا چاہئے؟ میں نے کہا کہ فوج کی کور آف انجنئیرز کی ایک ٹیم چاہئے۔ جنرل ضیاء الحق جو اس وقت آرمی چیف تھے اور میٹنگ میں شریک تھے نے کہا وہ یہ کام کر دیں گے۔
جنرل ضیا ء الحق نے اختیار سنبھالنے کے تین ماہ بعد ہی ایٹمی پروگرام کو اوّل ترجیح دینا شروع کردی اور مہینے میں کم از کم دو مرتبہ ضرور جنرل ضامن نقوی اور مجھ سے تفصیلی ملاقات کرتے تھے۔1979 کے وسط میں مغربی ممالک کو ہمارے پروگرام کی بھنک پڑ گئی۔ ان کو اور غلام اسحاق خاں صاحب کو بڑی فکر ہوئی کہ سامان کی درآمد پر پابندی سے ہمارا پروگرام بند نہ ہوجائے۔۔ 1981 کے اواخرمیں ہم نے بہت ترقی کر لی تھی اور ہمیں یقین تھا کہ بہت جلد کامیابی حاصل کر لیں گے۔۔ 1983 میں ہم نے کئی کولڈ ٹیسٹ کئے اور وہ بہت امید افزاء تھے۔ 1984 میں ہم نے اور ٹیسٹ کئے اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہم کامیابی کے قریب ہیں۔جنرل ضیاء الحق نے میرے سامنے آغا شاہی اور بعد میں صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بھی سختی سے ہدایت کر دی کہ وہ کسی بھی ملک سے ایٹمی پروگرام پر قطعی بات نہ کریں، صاف کہ دیں کہ یہ بات آپ ضیاء الحق کے ساتھ کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام میرے مشورے پر ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی وفات کے بعد صدر ضیاء الحق اور غلام اسحاق خان مغربی دباؤ ردّ نہ کرتے تو بھی ہمارا پروگرام ختم ہو سکتا تھا۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر دھماکہ کرکے ایٹمی کلب میں شمولیت اختیار کر لی۔۔پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، غلام اسحاق خان، آغا شاہی، جنرل امتیاز، بینظیر بھٹو، میاں نواز شریف، جنرل اسلم بیگ اور جنرل عبد الوحید کاکڑ نے نہایت کلیدی رول اد ا کیا۔
ایک اور قربانی کے عنوان سے پورے باب میں انہوں نے ان حالات کا ذکر کیا کہ پرویز مشرف کے دور میں ان کے بقول امریکہ کے ایماء پر ان پر دباؤ ڈالا گیا اور کہا گیا کہ وہ سارا جھوٹا الزام اپنے ذمہ لے لیں۔ مجھے ایس ایم ظفر نے صاف صاف کہا کہ میں ہرگز اقبالِ جرم کی دستاویز پر دستخط نہ کروں۔4 فروری 2004 کو چوہدری شجاعت حسین میرے پاس پہنچے اور بتایا کہ گیارہ بجے پرویز مشرف سے ملنا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین میرے ساتھ نہ گئے اور میں اکیلا وہاں گیا۔ پرویز مشرف سے ملا تو چند منٹ کی گفتگو کے بعد اس نے کہا کہ آپ ہمارا ساتھ دیں، بصورت دیگر امریکہ ہم پر اقتصادی اور دیگر کئی قسم کی پابندیاں لگا دے گا، دنیا ا س کے ساتھ ہے ملک مشکلات میں گِھر جائے گا۔ آپ قوم اور پاکستان کے ہیرو ہیں اس وقت ملک بچانا ہے، میں چند دنوں میں آپ کو باعزت طور پر بحال کر دوں گا۔
آخرکارمیں نے پی ٹی وی پر جا کر لکھا ہوا نام نہاد اقبالِ جرم پڑھ دیا اور اس طرح میں نے اپنے پیارے ملک پاکستان کے لئے ٌ ایک اور قربانی دے دی ٌ اور اپنے ملک کو مشکلات سے بچا لیااور اس طرح کئی اداکاروں کی پردہ پوشی بھی ہو گئی۔ اس واقعے کے ایک کردار چوہدری شجاعت حسین نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی تفتیش کاروں کو کوئی بیان دیا۔ میں نے انہیں ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی، انہوں نے تمام ذمہ داری اپنے سر لے کر ملک و قوم کے لئے پہلے سے بڑھ کر کام کیا، حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کمزور سمجھ کر بیرونی دنیا ہم پر پریشر ڈال رہی تھی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گھر پابندی کا سلسلہ ابھی تک دراز ہے۔ گزشتہ دنوں وہ اپنی فریاد لے کر سپریم کورٹ بھی پہنچے مگر شنوائی سے قبل ہی انہیں واپس ہونا پڑا۔ سالہا سال سے جاری اس سلوک پر ان کا اپنا ایک شعر کچھ یوں ہے:
اس ملکِ بے مثال میں اک مجھ کو چھور کر
ہر شخص بے مثال ہے اور باکمال ہے