پاکستان اور بھارت میں ایک روز میں کورونا کے ریکارڈ مریض
- جمعرات 04 / جون / 2020
- 5610
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 4688 اور بھارت میں 9304 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں وبا سے مرنے والوں کی تعداد 1770 تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں کرونا کے باعث عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 82 مریض چل بسے جس کے بعد کل ہلاکتیں 1770 ہو گئیں۔ پاکستان میں مریضوں کی تعداد 85 ہزار 264 ہے۔ ان میں سے 30 ہزار سے زیادہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے رکن شوکت چیمہ بھی کورونا کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔
بھارت میں ایک دن میں 9034 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو یومیہ کیسز کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ دنیا بھر میں 65 لاکھ سے زائد کیسز اور تین لاکھ 86 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ نو ہزار اور وبا سے متاثرین کی تعداد انیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
لاطینی امریکہ کورونا وائرس کا کا نیا مرکز بن چکا ہے۔ برازیل میں 24 گھنٹوں میں 1262 اموات ہوئی ہیں۔ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 31 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ برازیل میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد امریکہ کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
برازیل میں وائرس پھیلنے اور اموات بڑھنے کے باوجود اس کے صدر جائر بولسونارو وبا کی سنگینی کو یہ کہہ کر مسترد کرتے آئے ہیں کہ یہ ایک معمولی فلو سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے دارالحکومت برازیلیا میں صدارتی محل کے باہر جمع اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر موت کا غم ہے۔ لیکن ہر شخص کو آخرکار ایک دن مرنا ہے۔
ادھر ٹوکیو کی گورنر یوریکو کوئیکے نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں کورونا وائرس دوبارہ زور پکڑنے کا خدشہ ہے۔ ٹوکیو میں منگل کو 34 نئے کیسز کی نشاندہی ہوئی جو ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ شہر میں چند دن پہلے ہی ہنگامی حالت ختم کی گئی تھی۔ کوئیکے کا کہنا تھا کہ اگر نئے کیسز کی یومیہ تعداد 50 سے زیادہ ہوئی تو وہ ایک بار پھر کاروبار بند کردیں گی۔
دنیا بھر میں صحت عامہ کے ماہرین بار بار متنبہ کررہے ہیں کہ کاروبار کھولنے میں جلدبازی کا مظاہرہ کیا گیا تو نئے کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ہر دو ہفتوں میں دوگنا ہورہی ہے۔ ملک میں اس وقت 35 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے حال میں لاطینی امریکہ اور جزائر غرب الہند کو کورونا وائرس کے نئے مراکز قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود بولیویا، میکسیکو اور وینزویلا میں اس ہفتے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کردی گئی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک رائن نے منگل کو کہا کہ واضح طور پر جنوبی امریکہ کے کئی ملکوں میں صورتحال مستحکم نہیں۔ کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکہ میں اب بھی روزانہ ہزاروں نئے کیسز کی تصدیق ہورہی ہے اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ بہت سے شہروں میں نسلی امتیاز کے خلاف ہزاروں افراد احتجاج کررہے ہیں۔ ان مظاہروں میں ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنے جیسی ہدایات پر عمل نہیں کیا جاتا۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں سفید فام آبادی کے مقابلے میں اقلیتوں میں کورونا وائرس سے اموات کی شرح زیادہ ہے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق، سفید فام افراد کے مقابلے میں بنگلادیشی کے مرنے کا امکان دو گنا ہے جبکہ چینی، بھارتی، پاکستانی اور غرب الہند کے سیاہ فاموں کی موت کا خدشہ 10 سے 50 فیصد زیادہ ہے۔