پاکستان کا بھارت پر ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام
- جمعرات 04 / جون / 2020
- 4660
پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ بھارت ہمسایہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ بھی اس الزام کی تصدیق کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی رپورٹ پاکستان کے موقف کی توثیق کرتی ہے۔ اس کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو بھارتی تعاون حاصل ہے۔ یہ حکمت عملی پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ ہے۔
دفتر خارجہ نےکہا کہ ایم ٹی نے آزادانہ پر بتایا ہے کہ بھارت سے غیر ملکی دہشت گرد جنگجو آئی ایس آئی ایل، خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) میں شمولیت کے لیے افغانستان جارہے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادیں بھارت سے دہشت گردوں کو افغانستان جانے سے روکنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔
ایم ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ برس افغانستان میں ایک بھارتی شہری کو بین الاقوامی فورسز نے ہلاک کیا جو القاعدہ میں سرگرم تھا۔ بیان کے مطابق اس سے پہلے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں بھارت میں داعش اور عراق(آئی ایس آئی ایل) کی بڑھتی طاقت اور 2019 میں سری لنکا میں ایسٹر سنڈے پر ہونے والے حملوں کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے ان الزامات کو مسترد کرتا ہے جن کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے طالبان اور اس سے وابستہ دیگر افراد سے متعلق اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی گیارہویں رپورٹ کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے غلط انداز میں پیش کرنا افغانستان کے امن، استحکام اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی رپورٹ میں پاکستان میں ' محفوظ ٹھکانوں' کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ گزشتہ روز کئی بھارتی اداروں نے بھارتی وزارت خارجہ سے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ ایم ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریاستی تعاون سے کالعدم دہشت گرد تنظیمیں اور افراد محفوظ ٹھکانوں میں موجود ہیں اور رپورٹ میں بھارت کے موقف کو درست قرار دیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ایم ٹی رپورٹ کے مواد کو مسخ کرنا اور اس میں جعلی الزامات سے انکشاف ہوتا ہے کہ بھارت کا ایجنڈا افغان امن عمل کے لیے پیچیدگیاں پیدا کرنا ہے۔ پاکستان دنیا کو افغانستان کے اندر اور باہر موجود امن عمل کو بگاڑنے والوں کو کردار سے خبردار کرتا رہا ہے۔