نواز شریف ماڈل یا عباس شریف ماڈل؟
- تحریر خورشید ندیم
- جمعرات 04 / جون / 2020
- 8270
شہباز شریف صاحب کو اب فیصلہ کرنا ہے :
زندگی کے ایک ایک لمحے کا خراج دینا ہے یا جواں مردوں کی طرح جینا ہے؟ آزادی کے ایک ایک دن کی بھیک مانگنی ہے یا مرد حر بننا ہے؟ اپنی زندگی گزارنی ہے یا کرائے کی؟
عمر نے تو ایک دن تمام ہونا ہے۔ طبعی عمر کے پیمانے سے، وہ زیادہ گزار چکے اور کم باقی ہے۔ لیکن آدمی ایک زندگی پس مرگ بھی گزارتا ہے۔ اس کا انحصار اس طبعی عمر کے ماہ و سال پر ہے۔ یہ انتخاب شہباز شریف صاحب کو کرنا ہے کہ باقی رہ جانے والی عمر کیسے گزارنا چاہتے ہیں۔نواز شریف صاحب نے تو فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ ایک راہ پر چل نکلے تھے۔ پہلے مرحلے میں وہ سرخ رو ہوئے۔ پھر کہیں سے وہ آسیب آ چمٹا جسے ایک زبان حق ترجمان نے ’وہن‘ کہا:زندگی کی محبت اور موت کا اندیشہ۔ ستر سال کا آدمی شاید یہ سوچنے لگا کہ اسے آب حیات مل سکتا ہے۔ اس عنوان سے کسی مشروب کا ایک گھونٹ انہیں پلا دیا گیا۔ غالباً شہباز شریف ہی کسی دکان سے خرید لائے۔ اس کے ایک دو گھونٹ نون لیگ کے بعض راہنماؤں نے بھی پی لیے۔ لوگوں نے سوال کیا :نواز شریف جسے ’خلائی مخلوق‘ کہتے تھے، وہ کون ہے؟ خواجہ آصف اور رانا تنویر سمیت سب نے منہ میں گھنگھنیاں ڈال لیں۔ ان راہنماؤں کو بھی اب شہباز شریف کی طرح ایک فیصلہ کر نا ہوگا۔
دو کشتیوں کی سواری اب مزید جاری نہیں رکھی جا سکتی:ایک پاؤں نواز شریف کی کشتی میں اور ایک مقتدرہ کی ناؤ میں۔ کیا اچھی تعبیر قرآن مجید نے اختیار کی:کسی سینے میں اللہ نے دو دل نہیں رکھے۔ کسی دانا اور حکیم بھی نے اس کی نصیحت نہیں کی۔ خود شریف خاندان نے جنرل ضیا الحق ہی کی کشتی کا انتخاب کیا تو پار لگے۔ اگر اس وقت آمریت کے ساتھ کھڑے ہو کر ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگاتے تو ادھر کے رہتے نہ ادھر کے۔ انہوں نے ’ادھر‘ کا انتخاب کیا اور یوں بیڑا پار ہوگیا۔ فیکٹریاں واپس مل گئیں اور بونس میں اقتدار بھی۔بھٹو صاحب نے ’ادھر‘ کا انتخاب کیا۔ بیڑا ان کا بھی پار لگ گیا مگر ایک دوسرے ساحل پر۔ 4 اپریل 1979 کی سحر پھوٹی تووہ گڑھی خدا بخش کے قبرستان جا پہنچے۔ جان باقی رہی نہ اقتدار۔ ہاں زندگی باقی رہ گئی۔ انہوں نے پس مرگ جینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اکاون سال کی عمر میں وہ دنیا سے رخصت ہوئے مگر وقت کو انہوں نے وہیں روک دیا۔ بھٹو کے لیے اب موت ہے نہ عمر رواں کا خوف۔
نواز شریف صاحب نے اس راز کو پا لیا تھا کہ ستر سال کے آدمی کی طبعی عمر مکمل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد، اس نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ باقی کے ماہ و سال موت کے انتظار میں گزارنے ہیں یا عمر جاویداں کے بارے میں سوچنا ہے۔ جاوید ہاشمی اپنے سیاسی گھر واپس آئے تو انہوں نے نواز شریف صاحب سے پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے؟ کہا:ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ علالت کے باوجود ہاشمی بھی شمشیر برہنہ بن گئے کہ اب ووٹ کو عزت مل کے رہے گی۔ ہوا مگر یہ کہ کمند ٹوٹ گئی، ’کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا‘۔
اس کے بعد سے چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ شریف خاندان ایک ایک دن کا خراج دے رہا ہے اور ساتھ ہی ن لیگ بھی۔ اسے الجھا دیا گیا ہے کہ اس کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، یہ طاقت کے ایک مرکز کا کیا دھرا ہے۔ اس معاملے میں سب ایک پیج پر نہیں ہیں۔ سیاسی طور پر ایک غبی آدمی ہی اس مقدمے کو مان سکتا ہے۔ مجھے حیرت ہو گی اگر شہباز شریف صاحب یا کوئی اور اس پر ایمان رکھتا ہے۔میرا تاثر ہے کہ موجودہ سیاسی مقتدرہ میں شریف خاندان کے لیے، نفرت اور ناپسندیدگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ طاقت کے تمام مراکز اگر کسی مسئلے میں فی الواقعہ ایک پیج پر ہیں وہ یہی پیج ہے۔ یہ حماقت آمیز سادگی ہے اگر اس خاندان کا کوئی فرد اس کے برخلاف سمجھتا ہے۔ نفرت کا یہ معاملہ نواز اور شہباز کے لیے یکساں ہے۔ شہباز شریف صاحب کو قبل از انتخابات جو پیشکش ہوئی تھی، وہ محدود مدت کے لیے تھی۔ یہ ’صارف‘ کی سادہ لوحی ہے کہ وہ اسے لامحدود سمجھ رہا ہے۔ شریف خاندان کے لیے یہ سیل ختم ہو چکی۔
شریف خاندان کے پاس اب صرف دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ نون لیگ کی قیادت کسی اور کو سونپے اور ساری توجہ کاروبار پر دے۔ ’عزت‘ کی دال روٹی کمائے، عمرے کرے اور مولانا طارق جمیل کے ساتھ تبلیغی دورے۔ یہ ’عباس شریف ماڈل‘ ہے۔ کاروبار بھی ملک سے باہر ہو تو بہتر ہے۔ اس کے بعد شریف برادران میں سے کوئی چاہے تو ایک آدھ کتاب لکھ ڈالے اور پھر ’ما علینا الا البلاغ۔‘
دوسرا ’نواز شریف ماڈل‘ ہے۔ یہ مزاحمت کا راستہ ہے۔ شریف خاندان ووٹ کی عزت کا علم تھامے اور میدان میں کھڑا ہو جائے۔ اپنی جماعت کو یکسو کرے۔ ’قومی اتحاد‘ کی طرز پر لی گی قیادت کی ایک فہرست بنائے۔ ایک جیل جائے تو دوسرا پرچم تھام لے۔ اسی راستے میں اقتدار بھی ہے اور عزت بھی۔ میرا احساس ہے کہ یہ زیادہ لمبا سفر نہیں ہو گا۔ بس خود کو خوف سے آزاد کرنا ہے۔ بھٹو نے لکھا تھا کہ خوف آپ کے ذہن میں ہوتا ہے۔ یہ ایک کیڑا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ایک قدم اٹھائیں اور اسے مسل دیں۔ یہی کیڑا ایک عفریت بھی ہو سکتا کہ جو آپ کو نگل جائے۔
’شہباز شریف ماڈل‘ کے لیے موجودہ سیاست میں کوئی جگہ نہیں رہی۔ پارلیمنٹ نے جنوری میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا قانون متفقہ طور پر منظور کیا۔ اس واقعے کو پانچ ماہ گزر گئے۔ اگر شہباز شریف ماڈل نے کام کر نا ہوتا تو اس عرصے میں اس کے شواہد سامنے آ جاتے۔ اس سارے عرصے میں نون لیگ کشکول تعاون اٹھائے نہ پھرتی جس میں کسی نے ایک ٹکا نہیں ڈالا۔ شہباز شریف کو بھی یوں نیب سے چھپنا نہ پڑتا۔شریف خاندان کو سیاست میں آئے چار عشروں سے زیادہ ہو گئے۔ اگر ان میں سے کسی نے سیاست کو سمجھا ہے تو وہ نواز شریف ہیں۔ انہیں تدریجاً یہ احساس ہوا ہے کہ سیاست میں اقتدار سب کچھ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اقتدار ترجیحات میں سرفہرست نہیں رہتا۔ اس بات کو اگر ان کے علاوہ کسی نے سمجھا تو وہ مریم نواز ہیں۔ تاہم ابھی انہیں عرصۂ امتحان سے گزرنا ہے۔ دیگر سب نے یہ سمجھا کہ سیاست کی اول و آخر ترجیح اقتدار ہے۔ شہباز شریف کی صورت میں اس خاندان نے قوم کو ایک اچھا منتظم دیا لیکن وہ بھی سیاست کو صرف ایک رخ سے دیکھتے رہے :اقتدار کی سیاست۔
نواز شریف صاحب نے جب سیاست کی ہمہ جہتی کو سمجھا تو ان کے وجود سے سنگین عوارض لپٹ چکے تھے۔ ان کی توانائی کم ہو چکی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے عزیمت کی ایک داستان رقم کی۔ ان کی مزاحمت نے نون لیگ کو ایک زندہ سیاسی قوت بنایا، ورنہ اس کا وجود اب تک تحلیل ہو چکا ہوتا۔ اگر وہ چند سال پہلے اس بات کو سمجھ پاتے اور نون لیگ کو ایک سیاسی جماعت بناتے تو آج ملک کے حالات بہت مختلف ہوتے۔ تاہم، اس وقت یہ ماضی کا ایک باب ہے۔ سر دست شریف خاندان کو موجود چیلنج اور امکانات کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔
شہباز شریف صاحب کی ضمانت نے انہیں اور نون لیگ کو یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ سیاسی منظرنامے کا ایک بار پھر جائزہ لیں۔ گزشتہ پانچ ماہ پر بطور خاص غور کریں کہ انہوں نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ میرا خیال ہے کہ وہ بھی اسی نتیجے تک پہنچیں گے جس تک مجھ جیسا سیاسیات کا ایک طالب علم پہنچا ہے۔ اگر اب بھی وہ بتوں سے کوئی امید رکھنا چاہتے ہیں تو پھر جان لیں کہ ’مشرکین‘ کا دور تمام ہو چکا۔
ماڈل اب دو ہی ہیں :نواز شریف ماڈل یا عباس شریف ماڈل۔ شہباز شریف ماڈل کی طبعی عمر تمام ہوئی۔ شہباز شریف صاحب کو اب ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہر ایک کی ایک قیمت ہے۔ نون لیگ کے لیے بھی یہی نوشتہ دیوار ہے۔ لاہور میں تو یہ ممکن ہے کہ رانا ثنا اللہ میڈیا کے آنے تک گاڑی کی تلاشی نہ دیں مگر فیصل آباد سے لاہور تک کے راستے میں بہت سے پڑاؤ آتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ میڈیا ہر جگہ پہنچ سکے۔ انہیں بھی سوچنا ہے کہ باقی عمر تلاشی دیتے گزارنی ہے یا ایک بار ہی تلاشی دینی ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)