کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین محض چند ماہ کے لیے مؤثر ہوگی
- جمعہ 05 / جون / 2020
- 4190
وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین ممکن ہے کہ اگلے سال کے شروع تک بھی نہ بن پائے۔ اور جب بن جائے گی تو ہوسکتا ہے کہ محض چند ماہ کے لیے موثر ہو۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاؤچی امریکہ میں وبائی امراض کی روک تھام کے ادارے کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ محتاط طور پر امید کرتے ہیں کہ سائنس دان کورونا وائرس کی موثر ویکسین اگلے سال کی ابتدا تک بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہیں توقع ہے کہ تب تک ویسکین کی کروڑوں خوراکیں دستیاب ہوں گی۔ لیکن اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ماہرین کو یہ بات یقینی بنانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں کہ کوئی ویکسین واقعی موثر ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے خبردار کیا کہ ممکن ہے کہ نئی ویکیسن طویل عرصے کے لیے تحفظ فراہم نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ دوسرے کورونا وائرسز کو دیکھیں تو ان میں سب سے عام وہ ہے جو ٹھنڈ لگنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کی ویکسین تین سے چھ ماہ تک بیماری سے بچاتی ہے اور کبھی پورا سال محفوظ نہیں رکھتی۔ یہ دیرپا تحفظ نہیں دیتی۔
اس دوران نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کورونا وائرس کی ممکنہ ویکیسن کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے پانچ دواساز اداروں کو منتخب کیا ہے۔ ان میں میساچوسیٹس میں قائم موڈرنا، آکسفرڈ یونیورسٹی کی شراکت میں کام کرنے والی آسٹرا زینیکا، جانسن اینڈ جانسن، مرک اور فائزر شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس چند ہفتوں میں اس بارے میں فیصلے کا اعلان کرے گا۔
دریں اثنا منی سوٹا یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہائیڈروآکسی کلوروکوئن ان صحت مند افراد کو بیمار ہونے سے نہیں بچاتی جو کورونا وائرس کے مریض سے رابطے میں آچکے ہوں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اس دوا کو 'گیم چینجر' قرار دے کر اس کی تعریف کرچکے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے اس دوا کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ دوا بنیادی طور پر ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض امریکہ میں ہیں جن کی تعداد 18 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ یہاں ایک لاکھ سات ہزار اموات ہوچکی ہیں جو کسی بھی دوسرے ملک سے تین گنا زیادہ تعداد ہے۔